اسلامی نظام

حافظ سید شرافت

روئے زمین پر متعددنظام ِ حیات پائے جاتے ہیں ،ان سب کے اپنے نصب العین ہیں، ہر نظام کی بنیاد، کسی مفکر کی فکر پر قائم ہوتی ہے اور اسی فکر کے مطابق اس نظامِ کی توسیع و تکمیل ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اکثر مفکرین  نے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر فوقیت دے کر اُسے ہی ماننے پر اصرار کیا ہے؛ چونکہ ایسے بے شمار نظریات  موجود  ہیں جن میں کبھی تو سیاسی عمل پر عقل انسانی کے اثرات کا پورے شدومد کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس، کہ سیاست و سیادت میں انسانی عقل کا کوئی حصہ نہیں؛ بلکہ یہ چیز بعض قوموں کا ذاتی ورثہ ہے جو ازل سے انہی کے لیے ہے اوراس باب میں انہی کی رہنمائی قابل قبول ہوتی ہے ، سیاست اور نظام کے باب میں یہی بنیادی نقطئہ نظر ہے جو کمیونزم،سوشلزم، ریشنلزم، کمرشیلائزیشن، سیکولرائزیشن، ڈیموکریسی اور نظام اسلامی کے مابین حد فاصل ہے۔

اسلامی نظام کا دیگر نظاموں سے اساسی نوعیت کا فرق ہے؛ اسلامی نظام ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی بات کرتاہے، جبکہ جمہوریت کے پس پردہ کوئی ایسی طاقت نہیں پائی جاتی جو ایسے مقاصد کو درجہٴ فعلیت میں لانے کی ضمانت دے سکے اوراگر کوئی طاقت ہے تو وہ ریشنلزم یا تعلقیت کی ہے جس کی ایک فرع جمہوریت ہے۔ ریشنلزم کی حقیقت سے متعلق جناب اسرار عالم صاحب ”انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی“ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

”ریشنلزم ، خیالات کے مختلف زاویہ ہائے نظر اور تحریکات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا کی حقیقی صداقتوں کو گرفت میں لینے کے لیے ایک استخراجی عقل کی قوت ضروری یا کافی ہے۔یہ دراصل ایک نقطئہ نظر ہے جو مذہب میں عقل کواتھارٹی مانتا ہے اور ان تمام عقائد و نظریات کو رد کرتا ہے جو عقل کے مطابق نہ پائے جائیں؛ لیکن اس لفظ کی موجودہ صورت دو معنوں کو محیط ہے: پہلا مفہوم اوپر ذکر ہوچکا ہے، جبکہ دوسرا اس کی وہ صورت گری ہے جوانیسویں صدی کے یورپ میں سامنے آئی جو سرتا سر مذہب کو ڈھانے والی تھی۔“

ظاہر ہے کہ اصل اور سرچشمے کی صورت یہ ہے تواس پر قائم ہونے والی جمہوریت ان بنیادی کمزوریوں سے کیوں کر پاک ہوسکتی ہے؟ یقینا جمہوریت بھی الٰہیاتی تصور کھوکر بین الاقوامی بدامنی میں تبدیل ہوجائے گی، پھر جمہوریت کا نظام اسلامی کے موافق ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا)

"نظام ولایت   فقیہ کے اثر و رسوخ اورجواب دہی کے سلسلے میں جو اسلامی نظریہٴ سیاست پیش کیاگیا ہے وہ یقینا جمہوریت کی حد کمال سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ علاوہ ازیں نظام اسلامی کے نزدیک پیش کیے گئے نظریے سے بھی اہم چیز الٰہیاتی تصور ہے، اگر نظام اسلامی سے الٰہیاتی تصور مفقود ہو تو گویا اس کی روح مفقود ہے۔ چوں کہ نظام اسلامی کے نزدیک اقتدار و حکومت ایمان باللہ اور تصور احتساب پرمبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے اصول و نظریات اور اعمال میں لامحالہ یگانگت پائی جاتی ہے؛ یعنی ایک مسلم حکومت کو صرف اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے روبرو جواب دہ ہے؛ بلکہ اس سے زیادہ اس کو ایک غیر محسوس اور قادر مطلق ہستی کا خوف دامن گیر ہوتا ہے؛ اس لیے حکومت اسلامیہ کو ہر حال میں اسلام کے قوانین عدل اور اصول مساوات کی پابندی کرنی ہوتی ہے؛ چونکہ ایک صالح اورمہذب نظام حکومت وہی ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد اخلاقی اور مابعد الطبعی تصورات پر قائم ہو، جبکہ نظام جمہوری میں ایسا کوئی بھی تصور قائم نہیں ہے جو اس کے ماننے والے سیاست دانوں کو تصوراحتساب سے آشنا کرے؛ یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے سیاست داں بلا کسی خوف و خطر کے بدعنوانیوں کو جنم دیتے ہیں جو اسلامی نظام میں انتہائی قبیح عمل ہے۔

 اسلامی حکومت کااصل مطمح نظر یہ ہے کہ انسانوں کو غیرفطری رجحانات سے ہٹاکر فطرة اللہ یا نقطئہ عدل پر قائم کیا جائے،اسلام کا نظریہ سیاست ہر اعتبار سے ہمہ گیر اور لامحدود حیثیت رکھتا ہے،اس کی افادیت نسلی و وطنی حدود سے آزاد اور پورے عالم انسانیت کو محیط ہے، اس کی نگاہ کسی ایک شعبہٴ حیات پر نہیں؛ بلکہ جملہ شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے اور وہ انسانوں کی بلندی خواہ فکری ہویا دینی، علمی ہو یا مادی، اخروی ہو یا دنیوی، ان تمام ضروریات میں کسی ضرورت سے بھی غافل نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام کا موضوع نفس انسانیت ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔

"اسلامی سیاسی  اقدار اسلامی اخلاقی اقدار ,اقدار حاکمیت ,اانسانی اقدار , یہ سب  نفس سے مربوط ہیں اور  کچھ عقلی واخلاقی عوامل سے مرتبط ہیں, اور ان سب کا سرچشمہ نفس وخواھشات نفسانی ہیں،  بس جسکا نفس اپنی حدود وقیود سے نہ نکلے ،یہ وہ مقام ہے کہ جس پر انسان کو اپنے نفس کا علم رہتا ہے  لیکن اگر  نفس اپنے خالق کی  توحید  کو بھول کر  اپنی حدود سے نکل جائے اور اپنی خواہشات کے سمندر میں غوطہ زن ہوجائے تو تب انسان خالق لم یزل کی حاکمیت کو چلینج کرنے لگتا ہے۔

 


افکار و نظریات: اسلامی نظام