اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات گلگت بلتستان اور ذمہ داریاں تحریر : محمد حسن جمالی گلگت بلتستان کا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہے ۔مختلف جہتوں سے اس کی اچھی پہچان ہے ۔ لیکن دیگرخطوں کی نسبت ترقی کے وسائل سے محروم ہے ، اس علاقے کے باسیوں کو قومی حقوق بھی نصیب نہیں ،اقتصاد کمزور ہے اورغربت کی فضا حاکم ہے ۔غربت کی فضا سے دشمنان دین آج کل خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہوں نے مختلف تنظیموں کو فنڈنگ کرکے گلگت بلتستان میں فعال کیا ہواہے۔ جن کا شعار ہی یہ رہا ہم پسماندگی دور کریں گے، تعلیم عام کریں گے ،غریبوں کی مالی مدد کریں گے اور بے روزگارجوانوں کو اپنے گھر کی دہلیز پر نوکری دیں گے وغیرہ ۔ '' جوشخص کلمة اللہ کی عزت اور ظالموں کی ذلت کے لیے شمشیر کے ساتھ اٹھے وہ ہدایت یافتہ ہے '' (۳)
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

اس طرح دشمنوں نے مختلف طریقوں سے پورے گلگت بلتستان میں دین کے لئے نقصان دہ تنظیموں کا جال بچھا دیا، جن میں سر فہرست این جی اوز تنظیموں کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ اس وقت جوانوں کی ایک کثیر تعداد کے مالی مفادات انہی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ وہ اپنی توانائیاں ان کی خدمات میں صرف کررہے ہیں۔ بلاشبہ ایسی تنظیموں کا اصلی ہدف دین بیزاری ہے، نسل جدید کے اذہان میں دینی اقدار کی اہمیت گھٹانا ہے اور لوگوں کو مادی زرق وبرق میں گرفتار کرکے دینی دستورات سے دور رکھنا ہے۔
اس ہدف کو پانے کے لئے وہ لاکھوں کڑوڑوں کا سرمایہ خطہ بے آئین میں خرچ کررہی ہیں ، مختلف بہانوں سے جوانوں کے افکار کو مشوش کرنے کے لئے بے تحاشا پیسے مغرض افراد کے درمیان تقسیم کررہی ہیں اور معاشرہ امن کے دامن میں پلنے بڑھنے والی جدید نسلوں کے پاکیزہ ذہنوں میں بے بنیاد نت نئے شبھات ایجاد کرکے ان کو روحانیت اور معنویت سے دور کرنے کے لئے مادی طاقت کے بل بوتے پر وہ مختلف حربے آزمارہی ہیں ـ
چنانچہ زمینی حقائق کے پیش نظر استعماری طاقتیں اپنے اہداف میں کامیابی کی طرف رواں دواں دکھائی دیتی ہیں ، کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اس حقیقت کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے متدین معاشرے میں انہی تنظیموں سے منسلک افراد کے ذریعے بے دینی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ، چند سالوں سے بے حیائی کے مناظر ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں، سکردو جیسے دین کا مرکز شمار ہونے والے مقام پر مردوں اور عورتوں کے مخلوط گانے رقص کی محفلیں پوری شان وشوکت سے سجھ رہی ہیں۔چند دن پہلے سوشل میڈیا پر اسی طبقے سے وابستہ ایک جوان نے تو کھل کر دین کا ہی مزاق اڑایا، اگرچہ عرصے سے فیس بک پر اس شخص کے بکواسات پڑھنے کو مل رہے تھے مگر چند دن پہلے تو اس نے مغلظات کی انتہا کردی، اس نے دین کا ایک مسلمہ حکم( متعہ) کو نشانہ بنانے کی جرات کی ۔
اس کے بعد سے تعلیم یافتہ جوان سوشل میڈیا کے مختلف گروپس میں اسی پر بحث کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جب ہم نے ان کے کچھ پوسٹوں اور کمنٹس کا مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ ان کے خیالات مختلف ہیں۔ بنیادی طور پر دو طرح کی فکر کے حامل افراد دکھائی دئیے۔ کچھ تعلیم یافتہ جوانوں کا خیال تھا کہ اس شخص کے حوالے سے خاموشی اختیار کرنا مناسب ہے، دلیل یہ تھی کہ مغلظات بکنے والا شخص شہرت کا بھوکا ہے، وہ کسی نہ کسی طرح میڈیا اور عوام میں مشہور ہونا چاہتا ہے، اگر ہم اس سے بحث کرتے رہیں گے ،اس کے بکواسات کا دفاع کرتے رہیں گے تو وہ اپنے ہدف میں کامیاب ہوگا ۔
اس کے مقابلے میں دیگر بعض دانشوروں کا کہنا تھا یہ خاموشی کا وقت نہیں۔ ہمیں ہر حال میں اس کے مغلظات کا دفاع کرنا چاہئے ، خصوصا جب اس نے ایک دینی مسلم حکم کے خلاف منہ کھولنے کی جرات کی ہے تو اس کا ہمیشہ کے لئے منہ بند کرنا ضروری ہے ۔ یقینا ان دونوں کا ہدف مقدس ہے، دونوں کی نیت خالص ہے، ہمیں ایسے جوانوں پر فخر ہے جو جنگ نرم کا مورچہ سنبھال کر اقدار دینی کے دفاع میں مصروف رہتے ہیں۔ البتہ حالیہ موضوع کے حوالے سے دوسرے گروہ کی منطق کا پلڑا وزنی دکھائی دیتا ہے کیونکہ جب کوئی دین کے مسلمہ احکامات کو داغدار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا دفاع کرنا فقط ایک مستحسن عمل نہیں بلکہ واجب ہے کیونکہ یہ منکرات کا مصداق ہے اور نہی از منکر کرنا ہر مکلف کا دینی فریضہ ہے ـ
البتہ اس کے لئے شیوہ پیغمری کی پاسداری کرنا ضروری ہے ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بندے کو اتنی جرات کیسے ہوئی کیا یہ کوئی اتفاقی ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ کوئی اتفاقی نہیں بلکہ عرصہ دراز سے اس پر کام ہوا ہے یہ اکیلا بھی نہیں اس طرح کے بہت سارے جوانوں کو دین سے دور کرنے کے لئے دشمنوں نے سرمایہ خرچ کیا ہے جس کے نتیجے کا یہ ایک نمونہ منظر عام پر نمودار ہوا ہے شیطانی طاقتیں آہستہ آہستہ انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں ۔ شیطان کے رفتہ رفتہ اور قدم بہ قدم اثر کو نہج البلاغہ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
فَبَاضَ : پہلے شیطان ان لوگوں کی روح میں انڈے دیتا ہے، وفَرَّحَ فِیْ صُدُورِھِمْ : پھر چوزے نکالتا ہے اسکے بعد ودَبّ : شیطان کے چوزے انسان کی روح میں چاروں ہاتھ پاؤں سے حرکت کرتے ہیں۔ ودَرَج فی حجورھم : پھر یہ چوزے انسان کی گود میں اِدھر ادھر پھرنے لگتے ہیں۔ فنظر بأعینھم : اسکے بعد شیطان ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے اور وہ عین اللہ کے بجائے عین شیطان ہو جاتی ہیں۔ وَ نطق بألسنتھم : اسکے بعد شیطان انکی زبان میں بولنے لگتا ہے۔ فَرَکَبَ بھم الزَّلَلَ : پھر شیطان ان ہی افراد کے ذریعہ دوسروں کی لغزش کا سامان بھی فراہم کرتا ہے ـ بدون تردید گلگت بلتستان میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے پھر بھی عوام اور خواص بیدار نہ رہیں تو ......
آخر میں امر بالمعروف ونہی از منکر کی اہمیت کے بارے میں نہج البلاغہ سے مولای متقیان کے بعض فرمودات نقل کرتا ہوں توجہ فرمائیں ـ
''۔امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ''خدا وند متعال نے امر بمعروف کو اصلاح خلائق کے لیے اور نہی از منکر کو سر پھروں کی روک تھام کے لیے فرض کیا ہے''۔ (۱)
عبدالرحمٰن بن اُبی لیلیٰ فقیہ سے روایت ہے کہ میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سُنا ہے۔
'' اے صاحبان ایمان! جو شخص دیکھے کہ ظلم وعدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے ، اور وہ دل سے اُسے بُرا سمجھے تو وہ (عذاب سے) محفوظ اور گناہ سے بری ہوگیا اور جو زبان سے اُسے بُرا کہے وہ ماجور ہے اور صرف دل سے بُرا سمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر باکف ہو کر اُس برائی کے خلاف کھڑا ہو تاکہ اللہ کا بول بالا ہو اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اسکے دل میں یقین نے روشنی پھیلادی ۔'' (۲)
حضرت علی علیہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: امر بمعروف کرو تاکہ تمھاراشمار اہل معروف میں ہو۔ (۴)
حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ قاصعہ میں فرمایا ''خدا نے گذشتہ امتوں پر اسی وجہ سے لعنت بھیجی کہ انہوں نے نے امر بمعروف اور نھی از منکر کو ترک کردیا تھا'' (۵)
حضرت علیہ السلام فرماتے ہیں : ''اگر تم لوگ امر بمعروف اور نہی از منکر کو ترک کردوگے تو برے لوگ تم پر مسلط ہوجائیں گے اور پھر تمھاری آہ ، فریاد کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ (۶)
امام علیہ السلام فرماتے ہیں : ''جو نہ زبان سے ، نہ ہاتھ سےاور نہ دل سے برائی کی روک تھام کرتا ہے یہ زندوں میں چلتی پھرتی ہوئی لاش ہے'' (۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) نہج البلاغہ ۔ حِکَم ٢٥٢
(۲) نہج البلاغہ ۔ حِکَم ٣٧٣
(۳) نہج البلاغہ حِکَم ٣٧٣
(۴) نہج البلاغہ حِکَم ٣٧٣
(۵) نہج البلاغہ مکتوب ٣١
(۶) نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ
(۷) نہج البلاغہ مکتوب ٤٧
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں