عقیدہ بطورِ ہتھیار

نذر حافی

انسان اور عقیدہ لازم و ملزوم ہیں، انسان وہ واحد جاندار ہے جو اپنے عقائدکی تبلیغ کرتا ہے، دوسروں کو اپنے عقائد کی طرف دعوت دیتا ہے، اپنے عقیدے کے مخالفین کو گمراہ کہتا ہے، اور عقیدے کی بنیاد پر دوسروں کے نجس و پاک،غالی و نصیری، مشرک و موحد، مومن و مقصر اور مسلمان و کافر ہونے کے فتوے صادر کرتا ہے۔ساری تاریخ میں انسان نے جتنی سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ عقیدے کےنام پر کیا، اتنا کسی اور نام پر نہیں کیا، حتیٰ  کہ ممالک کی وسعت اور کشور کُشائی  کیلئے بھی عقیدے کو بطورِ  ہتھیار استعمال کیا گیا۔
آج بھی عقیدے کے نام پر آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں، آپ کسی انسان کو کافرکہہ کر قتل کر سکتے ہیں، کسی کو  مشرک کہہ کر منبر سے اتار سکتے ہیں، کسی کو غالی کہہ کر بزم میں بے عزت کر سکتے ہیں اور کسی کو مقصر کہہ کر اس کا منہ بند کر سکتے ہیں۔آپ عقیدے کا تڑکہ لگا کر سگے بھائیوں کو بغیر کسی خرچے کے  آپس میں لڑوا سکتے ہیں، نمازیوں کو گولیاں مروا سکتے ہیں، مزارات،مندروں اور گرجا گھروں میں دھماکے کروا سکتے ہیں، اور کسی بھی اہم شخصیت پر قاتلانہ حملہ کروا سکتے ہیں۔
آپ کہیں بھی چلے جائیں، لوگوں میں آگاہی جتنی کم ہوتی ہے، شعور جتنا پست ہوتا ہے، جہالت جتنی زیادہ ہوتی ہے، معاشرتی علوم سے جتنے ناواقف ہوتے ہیں، جدید دنیا سے جتنے کٹے ہوئے ہوتے ہیں،  انہیں عقیدے کے نام پر  مشتعل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ چنانچہ  صدیوں سے اکٹھے رہنے والے بھی  کسی کی ایک تقریر یا چند نعروں  سے بھڑک کر  آپس میں جانی دشمن بن جاتے ہیں۔
ہر جگہ اور ہر زمانے میں چند انگشت شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عقائد کو خالص رکھنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں، جن کا ہم وغم عقائد کی اصلاح ہوتا ہے لیکن  ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔ اکثریت عقائد کو  اپنے مخالفین کے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ اور استعمال ہونے والے اپنے آپ کو مجاہد فی سبیل اللہ سمجھتے ہیں۔
طالبان، القاعدہ اور داعش کی تشکیل سے لے کر اپنے ملک کی  دینی تنظیموں اور شخصیات کوہی لے لیجئے۔ ایک ہی مذہب و مسلک اور فرقے کے اندر  ہی بیک وقت متعدد لوگ اپنے اپنے مقاصد کیلئے عقیدے کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہیں، فلاں نعت خواں، فلاں منقبت خواں، فلاں قصیدہ خواں ، فلاں شاعرمشرک، غالی، بدعتی  اور گمراہ ہے چونکہ اُس نے  یہ کہہ دیا ہے اور وہ کہہ دیا ہے۔ یہ ایک ہی مذہب کے اندر توحید اور شرک کا جھگڑا، یعنی ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے،  بات در اصل یہ ہے کہ  وہ نعت خواں ہے اور میں خطیب ہوں، وہ منقبت خواں ہے اور میں مقرر ہوں، وہ  قصیدہ خواں ہے اور میں شعلہ بیاں ہو،   وہ  سُریں لگا کر ایک گھنٹے میں اتنے روپے لے جاتا ہے کہ مجھے دس دن کی تقریر وں کے بعد بھی اتنے نہیں ملتے،  لہذا  اُ س منقبت خواں اور قصیدہ خواں  کیلئے دین میں  کوئی گنجائش نہیں۔
 اس کی زبانی لغزش پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا، اس کے علمی نقائص کو چھپایا نہیں جا سکتا، اس کے الفاظ کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔  اسے روکاجانا ضروری ہے ، اسے  سننا شرک ہے، اسے منبر سے ہٹانا واجب ہے۔۔۔ لیکن  چونکہ میں ایک خطیب ہوں، میرے سر پر عمامہ ہے اور کئی اہم علماو خطبا سے میری رشتے داریاں بھی ہیں،  لہذا میرے ہم صنف خطبا کو کھلی چھوٹ ہے، وہ جو چاہیں کہیں، اُنہیں غلط کہنے سے روکا نہیں جا سکتا اور اغلاط پر ٹوکا نہیں جا سکتا۔ اگر کسی نے روکا اور ٹوکا تو علما کی توہین ہوجائے گی۔ہر صاحبِ عمامہ کی  زبان آبِ زمزم سے دُھلی ہوئی ہے، یہ جو بھی کہیں اِن کے نظریات کتابوں میں موجود ہیں، اِن کے کلمات علمی ہیں، ان کی اصطلاحات عالی ہیں ، اِن کی علمی کمزوریوں  پر پردہ ڈالنا ضروری ہے اوراِن کے نظریات کی تاویل واجب ہے۔
قارئینِ محترم! اگر میرے جیسے لوگوں کی طرف سے  یہی پردہ داریاں،یہی تاویلیں اور یہی طرفداریاں  قصیدہ خوانوں اور منقبت خوانوں کی بھی  کی جاتیں تو معاشرے میں یہ انتشار پیدا ہی نہ ہوتا۔

اب تو کوئی ایسی بات رہ ہی نہیں گئی جو شاعر اور قصیدگو  کہتے ہیں اور آج کل کے خطبا نہیں کہتے!؟ اب عقائد سے  چھیڑنا تو خطابت کا ہنر بن  گیا ہے،  اب جو عقیدے پر جتنی گہری چوٹ لگائے وہی اتنا بڑا خطیب ہے، اب عقائد کو چھیڑ کر شہرت کی معراج پر پہنچنا تو عام چلن ہے۔
علمائے حق کو ہمارے سلام ہوں لیکن ایسے علمائے سُو جو  اپنی دوستیاں نبھانے ، تعلقات چمکانے  اور روابط بڑھانے کیلئے  حقائق پر پردے ڈال کر عقائد کو قربان کر تےہیں،اُن سے ہزار گنا بہتر وہ سیکولر اور لبرل افراد ہیں جو لوگوں کے مذہبی عقائد سے نہیں کھیلتے اور  پہلے سے ہی یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا دینی عقائد سے کوئی تعلق  نہیں ہے،  دینی عقیدہ تمہارا ذاتی مسئلہ ہے۔

nazarhaffi@gmail.com

 


افکار و نظریات: عقیدہ بطورِ ہتھیار