قادیانی اور موجودہ حکومت
محبوب اسلم

آپ سب نے سوشل میڈیا پر قادیانیوں کے موجودہ لیڈر ملعون طاہر مسرور اور پی ٹی آئی کی لندن کی ممبر نادیہ رمضان کے بیچ مکالمہ کی ویڈیو تو دیک ہی   ہی  ہو گی کہ جسمیں مرزا طاہر بتاتا ہے کہ عمران خان کے نمائندے نے الیکشن سے پہلے اس سے ملاقات کر کے پی ٹی آئی کیلئے قادیانیوں کی حمایت مانگی تھی  جس پر مرزا مسرور کا یہ جواب تھا کہ پہلے آپ کچھ عملی طور پرحکومت میں آکر قادیانیوں کیلئے کر کے تودیکھائیں پھر ہماری حمایت آپ کو حاصل ہو گی۔۔۔
آج پی ٹی آئی حکومت کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ اقتدار کیلئے یہ جماعت اپنا ایمان تک بیچ سکتی ہے۔۔۔ایاک نعبدو وایاک نستعین سے شروع ہونے والا سفر قادیانیوں کے سہولت کار بننے پر ختم ہوگا یہ کس بد بخت کو خبر تھی ؟؟؟اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسکی کتاب قرآن الحکیم رہتی دنیا تک قائم ہے اور سورہ الاحزاب آیت نمبر چالیس رہتی دنیا تک واشگاف طور پر بتاتی رہے گی کہ:
“محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔“
تو چاہے یہ ان مردود لوگوں کی حکومت ہو یا امریکہ کے ڈالر یا برطانیہ کے پاؤنڈ کی لالچ اور سپورٹ۔۔۔میرے رب العزت کا یہ فیصلہ رہتی دنیا تک قائم ر ہی گا کہ جو ختم نبوت محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو نہیں مانتا وہ دین اسلام سے خارج ہے۔اب یہاں معاملہ اور ب ہی  الٹا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت قادیانیوں کو اقلیتوں کے جو حقوق دینا چاھتی ہے وہ یہ قادیانی آئین پاکستان کی رو سے خود کو اقلیت  ہی  تسلیم نہ کرتے ہوئے حاصل  ہی  نہیں کر سکتے؟؟؟
یہ قادیانی خود کو مسلمان کہلواتے  ہیں اور یوں اس مردود حکومت کا قادیانیوں کو اقلیتوں کے حقوق اس امر کے باوجود دینا کہ یہ قادیانی خود کو مسلمان تصور کرتے  ہیں سرا سر نہ صرف آئین پاکستان کی خلاف ورزی  ہی  بلکہ اس مرتد اسلام گروہ کی کھلی سر پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔ 
یعنی اب قادیانی خود کو مسلمان ب ہی  کہلوائینگے اور اقلیتوں کے حقوق کی آڑ میں اسلام دشمن سرگرمیاں حکومت کی سر پرستی میں جاری ب ہی  رکھ سکیں گے۔ لیکن میں یہ اچ ہی  طرح باور کروا دینا چاھتا ہوں کہ اسطرح کی کوئی ب ہی  پالیسی ملک خداداد میں چل نہیں سکتی اور مذھبی فرقوں کے علاوہ عام پاکستانی جو کہ اساس اسلام کے تحفظ کا امین ہے وہ اس پر ردعمل دیگا اور حکومت کو لینے کے دینے پڑ سکتے  ہیں۔۔۔تو بہتر یہی ہے کہ اس پالیسی کو فوراً کالعدم قرار دیا جائے۔۔۔اور وطن عزیز کے بحرانوں میں ایک اور بحران کا خوامخواہ اضافہ نہ کیا جائے؟؟؟
حکومت ہوش کے ناخن لے اور تصادم کی فضا قائم نہ کرے کہ پہلے  ہی  حکومت کی نااھلیوں اور کرپشن نے عوام کو دن میں تارے دکھائے ہوئے  ہیں اور اوپر سے اس کروناوائرس نے ر ہی  سہی کسر نکال دی ہے۔۔۔اب آپ مذھب کی اساس پر وار نہ کریں اور عوام کے صبر کا اسقدر امتحان نہ لیں کہ عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ تو پہلے ہے چھن چکا ہے اب آپ انکے مذھب پر ب ہی  حملہ آور نہ ہو؟؟؟
اور اگر حکومت اس پالیسی کو کالعدم قرار نہیں دیتی تو مجہے محسوس ہو رھا ہے کہ ملک خدا داد میں شت پسندی کو ایکبار پھر ہوا ملے گی کیونکہ حکومت اکثریتی عوام کے بنیادی مذھبی اساس کے تحفظ میں ناکام ر ہی  ہے۔ یہاں اس بات کی ب ہی  وضاحت دیتا چلوں کہ پاکستانی عوام اور اس ملک کے آئین کو اقلیتوں کے حقوق سے کوئی خدا واسطے کا بیر نہیں ہے اور اس ملک میں ھندوؤں سے لیکر عیسائیوں تک کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے اور عوام عمومی طور پر ملک میں بسنے والی اقلیتوں کیساتھ میانہ روی اور بھائی چارے کا رشتہ استوار کیے رھتے  ہیں لیکن قادیانی اس لحاظ سے ملعون  ہیں کہ یہ دین اسلام کے ایک بنیادی عقیدے کے کھلے عام منکر بھی   ہیں اور خود کو مسلمان بھی  کہتے  ہیں۔ یوں قادیانی درحقیقت ایک فتنہ  ہیں اور انکا بذات خود اقلیت ہونے سے انکار کرنا انکی فتنہ انگیزی کا کھلا ثبوت ہے۔ بہتر ہے کہ یہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور حالات کو اس نہج پر نہ لے جائے کہ واپسی مشکل ہو جائے۔ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے اورہم اسکا دفاع کرنا جانتے  ہیں۔۔۔ان شا اللہ۔

 

 


افکار و نظریات: محبوب اسلم