تحریک آزادئ کشمیر کے پہلے شہید

آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان مرحوم کے گھر 19جولائی 1947میں مسلم کانفرنس کی سرکردہ قیادت نے مشہور زمانہ قرارداد الحاقِ پاکستان منظور کی۔ یہ قرار داد منظور کرنے والوں میں سید حسن شاہ گردیزی شہید بھی شامل تھے جن کا تعلق باغ ’آزاد کشمیر‘ سے تھا،جہاں تحریک آزادئ کشمیر کے پہلے شہید سید خادم حسین شہید کو ڈوگروں نے سر عام گولی مار کر کشمیری مسلمانوں کو بغاوت پر مجبور کر دیا تھا۔[1]

 نیلا بٹ کے مقام پر تحریک آزادئ کشمیر کے پہلے شہید سید خادم حسین، غازی محمد اسماعیل، سید صادق حسین شاہ، سردار عبدالرزاق، سید مظفر حسین شاہ، میر سجاد حسین شاہ، سردار غفار خان اور دیگر سینکڑوں جذبہ جہاد سے سرشار لوگ شامل تھے۔ جنہوں نے حلف اٹھانے کے بعد جہاد کیا۔ سردار عبدالقیوم خان اور ان کے ساتھیوں کے جہاد کی تائید اور نیلا بٹ سے تحریک آزادی کشمیر کے آغاز کا مختلف مسلمان اور غیر مسلم مورخین نے بھی اپنی تحریروں میں ذکر کیا ہے۔[2]

سید خادم حسین شہید کو ڈوگرہ فوج نے احاطہ کچہری باغ میں درخت کے ساتھ باندھ کر کہا کہ پاکستان مردہ باد کہو ورنہ گولیوں سے بھون دیئے جاو گے انہوں نے پوری طاقت کے ساتھ ”پاکستان زندہ باد“ کہا اور انہیں وہیں شہید کر دیا گیا۔ لوگ آج بھی اس درخت کی زیارت کے لئے برے ادب و احترام سے جاتے ہیں۔

 

[1] http://hilal.gov.pk/index.php/layouts/item/147-2014-11-06-11-05-22

[2] http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/20-Aug-2014/323295?fb_comment_id=683916318366677_1141141865977451#f2d3e1cd8a2f0b8

http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/25-Jul-2015/402825