اگلا مورچہ

میریا ڈھول سپاہیا 
عمر چوہدری

اگلے مورچے میں تعینات سپاہی کو قوم کی محبت اور خلوص بھری دعاؤں کیساتھ ”مورال سپورٹ“کی ضرورت ہوتی ہے عسکری تاریخ ہمیشہ سے گواہ رہی ہے کہ افواج پاکستان نے بیرونی اور اندرونی خلفشاروں کا جس خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ہے اس میں محب وطن حلقوں نے اپنے افواج کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ بچپن کی ان یادوں کو فراموش نہیں کر پائے جب ہم فوجی گاڑیوں کر دیکھ کر تالیاں بجاتے تھے اور فوجیوں کو ’سلیوٹ‘کرتے تھے بچپن سے لڑکپن اور جوانی کی منزلیں طے کرنے کے ساتھ ساتھ اس محبت میں ہمیشہ مہمیز لگی اور یہ ”عشق“ بڑھتا ہی چلا گیا ہم آج بھی اپنی افواج کے عشق کے سحر میں پوری طرح مبتلا ہیں اور پوری ڈھٹائی سے اس عشق پر قربان ہونے کو بھی تیار ہیں۔
لاک ڈاؤن نے جہاں اور بہت سی باتوں کو پرکھنے اور جانچنے کا موقع دیا ہے وہیں ’بے لوث خدمت‘کے پاک آرمی کے نعرے کو مزید پختگی ملی جب ہرکوئی گھروں میں دبکا ہوا پایا گیا تو سپاہ وطن قوم کی خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار اور ایک قدم آگے بڑھ کر ملے، علاج معالجے،ادویات،راشن،نظم و نسق گویا ہر میدان میں ان کی حاضری قابل قدر رہی ہے پشاور سے کراچی،گوادر سے گلگت تک ہر علاقے،ضلع اور صوبے میں افواج پاکستان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا اور ان کی کارکردگی کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
شومئی قسمت سے بعض نا عاقبت اندیش گروہوں نے کرونا وار کے تلخ دنوں میں بھی اپنے کالے کرتوتوں کو تختہ مشق بنائے رکھا جن میں بیرونی عناصر پر پلنے والے پی ٹی ایم اور ان کے سہولت کار بھی ہیں جنہوں نے اپنی گندی ذہنیت کے پرچار میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی،ادھر ہمارے بدترین ہمسایے بھارت نے ان ایام میں بھی نہ صرف مسلمانوں کا جینا دو بھرکر رکھا ہے بلکہ ایل اوسی پر اپنی شرانگیزیوں میں اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں نہ صرف معصوم شہری جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں شہید اور زخمی ہوئے بلکہ کھلم کھلا انسانی حقوق کی پامالی بھی کی گئی۔
کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ دشمن دلیر ہو تو لڑنے میں مزہ آتا ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ دشمن نہ صرف بزدل بلکہ کم ظرف بھی ہے جبکہ مودی اور اس کی سرکار کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جب ہم لڑنے پہ آئیں گے تو ان کی تکہ بوٹی ایک کرتے چلے جائیں گے بھارت اگر عسکری تاریخ کا دوبارہ مطالعہ کر لے تو اس کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے بھارت سرکار کو یاد رکھنا ہو گا کہ ہم چھپ کر وار نہیں کرتے بانگ ِدہل اعلان کرتے ہیں اور پھر بخیے ادھیڑتے چلے جاتے ہیں آرمی میوزیم لاہور میں بھارت کے سب سے بڑے کیولری کور کا ٹینک اور راولپنڈی میوزیم میں ان کے جنرل کی جیپ ہم نے’وار ٹرافی‘ کے طور پر رکھی ہوئی ہے جسے دیکھ کر ان بہادر افسروں اور سپاہیوں کو دل کھول کر داد دینا پڑتی ہے جنہوں نے بموں، راکٹوں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں دشمنوں کے سورماؤں سے ٹینک اور جیپ چھین لی تھی۔
ہمیں اپنی مرحومہ گلوکارہ نور جہاں پر فخر ہے جنہوں نے عین جنگ کے دوران محاذ جنگ سیالکوٹ میں ٹینک پر چڑھ کر میرے ڈھول سپاہیا کو خراج تحسین پیش کیا جس کے اعزاز میں حکومت پاکستان نے انہیں ملکہ ترنم نورجہاں کے خطاب سے نوازا،ہمیں فخر ہے اپنی اداکارہ شمیم آراء پر جنہوں نے برملا اعلان کیا کہ وہ اس جوان سے شادی کریں گی جو دہلی میں پاکستانی پرچم لہرائے گا،اداکار شان نے تین فلمیں بنائیں جس میں افواج پاکستان کو پروموٹ کیا،اداکار شاز خان نے فلم میں پاکستانی پائلٹ کا رول پلے کر کے پاک فضائیہ کو پروموٹ کیا۔
آئیے تاریخ کا جائزہ لیجیے کبھی ’الفا براوو چارلی‘اور’سنہرے دن‘ پھر سے دیکھیں، جذبوں کو نئے رنگ اور روپ ملیں گے۔بدر سے بھاٹا پور تک،بی آر بی بہتی رہے گی،پاک فضائیہ کی داستان شجاعت،دواڑکاآپریشن، فتح گڑھ سے فرار،میں ایک جاسوس تھا،جنٹل مین سیریز اور نشان حیدر سیریز کا مطالعہ کیجئے۔افواج پاکستان کے شہیدوں اور غازیوں کے کارنامے آپ کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیں گے۔
مجھے فخر ہے کہ میں اگلے مورچے میں تعینات قلم کا سپاہی ہوں جو بوقت ضرورت بندوق اٹھائے دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گا اور بہت سے معاملات میں دشمن سے حساب چکائے گا۔

 

 


افکار و نظریات: میریا ڈھول سپاہیا