قرآن سے ہمارا  رشتہ 

تحریر: ذاکر حسین میر

پروفیسر بروس لارنس ،ڈیوک یونیورسٹی میں اسلامک اسٹدیز کے پروفیسر ہیں۔ انہیں اسلامی علوم؛  قرآنیات ،  تاریخ ،  تفسیر ، ایشین اسڈیز اور ادیا ن کا تقابلی مطالعہ وغیرہ پر کافی دسترس حاصل ہے۔ قرآن اور تفسیر میں کئی کتابوں اور مقالوں کے خالق ہیں۔”قرآن کا انگریزی ترجمہ“  ،”قدیم مذاہب اور آج کی سیاست“  اور”قرآن کامطالعہ“ وغیرہ ان کی معروف تالیفات ہیں۔

  خود انہی کے بقول قرآنی علوم میں اس کے بہت سارے مسلمان اور غیرمسلمان شاگرد ہیں۔ عرب ممالک سے بہت سارے ایسے  مسلمان طالب علم آتے ہیں جو قرآن کے حافظ ہوتے ہیں۔ انہیں جہاں  کہیں سےپوچھا جائے طوطے کی طرح  سناتے ہیں ۔وہ مزید کہتے ہیں کہ میں ان کے حافظہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتااس لئےکہ قرآن کوحفظ کرنا کوئی آسان کام نہیں، لیکن جب میں ان سے انٹرویو لیتاہوں تو پتہ چلتاہےکہ یہ لوگ قرآن کے سادہ ترین  مفاہیم سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔

میں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھتاہوں کہ کیسے مشکل کام کو توانجام دیا لیکن آسان کام کو چھوڑ دیا؟ تو ان کے پاس میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔  جی ہاں !یہی وہ بنیادی مشکل ہے جس سے آج کا مسلمان دوچارہے۔ ہم قرآن کو حفظ بھی کرتے ہیں، بچپن ہی سے کسی مولانا کے پاس جاکر پڑھ بھی  لیتے ہیں ، ہمارے پاس بڑ ے بڑے قاری بھی ہیں جو بین الاقوامی سطح پرمعروف  ہیں ، ہماری محفلوں کی ابتداء قرآنی آیات سے ہی ہوتی ہیں  ، تمام مسلمان ملکوں کے قومی چینلز پر دن میں ایک آدھ گھنٹہ قرآن کی تلاوت ضرورہوتی  ہے ،ہم ثواب کی نیت سے کم از کم مہینہ میں ایک مرتبہ ختم قرآن کرتے ہیں، ہم اپنے مردوں کے ایصال ثواب کے لئے چند مرتبہ ختم قرآن کرتے ہیں، ہمارے ہاں کوئی ایساگھر نہیں جہاں قرآن موجود نہ ہواور ہم میں سے   ہر کوئی یہ فخر محسوس کرتاہے کہ ہمارا رشتہ قرآن سے ہے ۔امریکن پروفیسر کے بقول ہم مشکل کام تو کر لیتے ہیں لیکن بنیادی کام نہیں کرتے ! قرآن حفظ کرتے ہیں تاکہ رمضان کے مبارک مہینہ میں تراویح پڑھایا جاسکے ، قاری بن جاتے ہیں تاکہ بڑی بڑی محفلوں کو لوٹ لیں، مہنگا ترین قرآن خرید کر گھر میں رکھتے ہیں تاکہ ہمارے لئے باعث خیر وبرکت ہو، ہر مہینے کم از کم ایک ختم قرآن ضرور کرتے ہیں تاکہ ڈھیر سارا ثواب حاصل ہواور مردوں کے ایصال ثواب کے لئے  قرآن کی محفلیں سجاتے ہیں تاکہ ان کے نامہ اعمال میں نیکیاں زیادہ ہوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ کاموں میں سے ہرایک باعث اجر وثواب ہے لیکن ہم ایک بات  کوآج تک نہ سمجھ سکیں کہ یہ سارا   اہتمام  قرآن  کوسمجھنے کےلئےمقدمہ ہیں۔ قرآن کو حفظ کرنے کی تاکید اس لئے ہے کہ ہم قرآن سے مانوس ہوں ، قرآن کو پڑھنے پر زور اس لئے دیا گیا ہے تاکہ ہم اس سے زیادہ آشناہوں،یہاں تک کہ قرآن کو چومنے، اسے کھول  کردیکھنے اور اس کی آیات کو چھونے کے لئے بھی ثواب رکھا گیاہے تاکہ ہمارے اور قرآن کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو ۔  لیکن ہمارا  المیہ یہ ہے کہ  ہم سیڑھی تو چڑھ  بیٹھے لیکن چھت پر جانا بھول گئے۔ 
صاحب تفسیر "المیزان "علامہ محمد حسین طباطبائی فرماتےہیں: عالم ہستی پر حاکم نظام،  انسان کی خلقت ، زمین کے طول عرض میں سیروسیاحت ، گذشتہ اقوام وملل کے حالات کا مطالعہ اور ان کے آثار پر تحقیق وغیرہ کی طرف قرآن کی دعوت، حقیقت میں اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن ان تمام علوم کو حاصل کرنے کی دعوت دے رہاہے جو انسان کے دسترس میں ہیں۔

قرآن کے ساتھ ہمارا رشتہ جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی ہم اس سے مانوس ہوں گے اور جس قدر ہم قرآن سے مانوس ہوں گے اسی قدر ہم قرآن کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان تمام علوم کو حاصل کرنے کے لیے کمر ہمت باندھ لیں گے جو انسان کی دسترس میں ہیں۔ قرآن علم، حکمت اور زندگی ہے۔

یہ قرآنی معارف ہی ہیں جو دنیا کی ظلمتوں  میں کھوئی ہوئی انسانیت کو راستہ دیکھاسکتے  ہیں۔اگر انسان عدالت کامتلاشی ہےاور ظلم وجور سے تنگ آچکا ہے تو اس سے مقابلہ کا راستہ صرف قرآن سے ملے گا،  اگر انسان علم ومعرفت کے پیچھے ہے تاکہ اس کے لئے آرام وسکون کے وسائل فراہم ہوں تو راستہ قرآن سے ملنے والاہے اور اگر انسان کی نگاہیں خداوند متعال پرہوں تو اس تک پہنچنے کاتنہا  راستہ قرآن ہے۔ 
آج کا مسلمان جس پستی ، ذلت، اخلاقی رذائل ، جہالت اور بدبختی کا شکار ہے، اس کا بنیادی سبب قرآن سے دوری ہے۔ ہم نے علم، معرفت اور سعادت کے اس عظیم منبع کو بیگانوں کے سپرد کر کے خود چند رسومات لے کر بیٹھ گئے ہیں ۔

آپ نے مستشرقین(orientalists) کا نام توضرور سنا ہوگا۔یہ وہ غیر مسلم دانشمند ہیں جو اسلامی اور قرآنی علوم میں دلچسپی رکھتے ہیں اور غیر مسلم دنیا میں اسلامک اور قرآنک اسڈیز کے شعبوں میں تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف  وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ قرآنی  علوم سے متعلق بہت ساری کتابیں منظر عام پر لاچکے ہیں اور کئی ایک تحقیقی اور علمی مجلات پر بھی کام کر رہےہیں ۔

یونیورسٹی آف لندن سے "جرنل آف قرآنک اسڈیز"  ، آکسفورڈ یونیورسٹی سے "قرآنک اسڈیز سیریز"اور ایڈنبرگ یونیورسٹی سے "جرنل آف قرآنک اسڈیز" چند ایک معروف مجلات  ہیں جن میں نت نئے موضوعات پر علمی اورتحقیقی مقالات چھپتے ہیں ۔اسی طرح ایزتسو، گوستاووایل‌، رژی بلاشر، جان بی ناس، گلدزیهراور موریس بوکای وغیرہ وہ چند اہم نام ہیں جنہوں نے قرآن کے موضوع پر اہم تالیفات کیں جوغیرمسلم دنیا میں قرآنی علوم کے لئےمنبع کی حیثیت رکھتیں ہیں۔
 جو کام اسلامی ملکوں میں موجودہزاروں درسگاہوں میں ہونا چاہیے تھا وہ مغرب کی یونیورسٹیوں میں ہو رہاہے ۔ ہمارے ہاں مشکل سے کوئی ایسی یونیورسٹی مل جائے گی جہاں قرآنک ہو اور جہاں پر ہے وہاں بھی یونیورسٹی کا سب سے مظلوم ڈیپارٹمنٹ یہی  ہوگا ۔

ہمارے ہاں کوئی نئی یونیورسٹی کھلتی ہے تو سب سے پہلے کھلنے والے  ڈیپارٹمنٹس میں سے ایک  انگلش لٹریچر  کاہوتاہےاورلوگ انگلش لٹریچر پڑھنے اور پڑھانے کو اپنے لئے فخر سمجھتےہیں، جبکہ انگلش لٹریچر میں جو کچھ پڑھایا جاتاہے وہی تمام مباحث قرآن میں بھی ہیں ۔ دورحاضرمیں تمام فلسفی مباحث کا محورزبان ہے۔ زبان کی تاریخ ، زبان اور کلچر، زبان اور متون مقدس، زبان اور اس کا سٹرکچر اور متون کی تفسیرمیں زبان کا کرداروغیرہ ایسے مباحث ہیں جنہیں جدید فلسفہ میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وہ مباحث ہیں جن سے ایک لٹریچر کےطالبعلم کو واسطہ پڑھتا ہے۔

ایک ٹیکسٹ (Text) ہونے کی حیثیت سے یہی سارے مباحث قرآن میں بھی ہیں۔اسی لئے  قرآن کی جدید تفسیر میں مذکورہ تمام مباحث اضافہ ہوئے ہیں ؛جن میں قرآن اور زبان ، قرآن اور کلچر ، ہرمنوتیک، قرآنک سٹرکچر اور قرآن اور تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ تو کیوں نہ ہم انہی مباحث کو قرآن میں پڑھ لیں اور ان  معارف سے آگاہ ہوں جو ہمارے لئے ضابطہ حیات ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہم شکسپئر کے ڈراموں کو پڑھنا، فرانسس  بیکن کے مضامین پر تحقیق کرنا اور جیفری چوسر کی شاعری کو سمجھنا اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں جبکہ قرآن کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر تحقیق کرنا ہمارے لئے باعث ننگ وعارہے۔ ہونا تویہ چاہیے تھا کہ ہماری تما م یونیورسٹیوں میں قرآنک ڈیپارٹمنٹ  ہوں اور نہ صرف ہوں بلکہ سب سے زیادہ ایکٹیوبھی ہوں لیکن ہم نے اس ضرورت کا احساس ہی نہیں کیا۔ ہمارے ہاں  قرآنیات پر پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے کو وہ سکوپ نہیں ملتا جوایک عام لٹریچر پڑھنے والے کو ملتاہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے طالب علم  انگلش، اردو ،  فارسی اور عربی  لٹریچر کو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں لیکن قرآنی علوم کی طرف ان کا رجحان سرے سے نہیں ہے۔

اگرہم چاہیں کہ  معاشرے میں قرآن اور اس کے معارف زندہ  ہوں تو ضروری ہے کہ ہم اپنی  درسگاہوں میں قرآنی علوم  کو اہمیت دیں، ان کا تعارف کرائیں ، قرآن پڑھنے اور پڑھانے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور نئی نسلوں کو ان معارف کی طرف جانے کی ترغیب دیں۔اگر ایسا ہوتاہے تو بہت جلد ملک کی تمام یورنیورسٹیوں میں قرآنک ڈیپارٹمنٹ کھل جائیں گے اور سب سےزیادہ  ایکٹیو بھی یہی ہوں گے۔ لیکن  یہ صرف ایک خواب ہے جوشایدخواب ہی رہے۔ اسی حوالے سے  ڈاکٹر علی شریعتی کا ایک شکوہ معروف ہے:  قرآن! میں شرمندہ ہوں، اس لئے کہ میں  نے تجھے اعلان مرگ کا ذریعہ بنایا، جب  بھی کسی گلی سے تیری آواز آتی ہے ، سب پوچھتے ہیں :

کون مرا ہے ؟ کسی باذوق نے تجھے چاول کی تھیلی پر لکھا ہےتو کسی نے تجھے (ڈیکوریشن کے لئے) قالین پرلکھا ہے، کوئی  تجھے سونے سے لکھتا ہے تو کوئی تجھے مائیکرو سائزز میں تقسیم کر رہا ہے ۔۔۔۔۔کیاواقعی خدا نے تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ ہم تیرا میوزیم بنائیں؟

 


افکار و نظریات: قرآن سے ہمارا  رشتہ