اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اسلام میں مخفیانہ قتل و غارت کی ابتدا؟ علمِ تاریخ کو چار طرح کے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلا مقصد ظالم بادشاہوں کے چہروں پر نقاب ڈالنا ہے۔ اس مقصد کیلئے تاریخ کو مقدس صحیفہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں سے کہاجاتا ہے کہ تاریخ میں جوکچھ لکھا ہے اس پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آو، دوسرا مقصد لوگوں کو جاہل رکھنا ہے، اس مقصد کیلئے لوگوں کو تاریخی قصےو کہانیاں سنا کر، تاریخی ڈرامے اور فلمیں بنا کر اُنہیں مختلف مقاصد کیلئے ابھارا اور اُکسایا جاتا ہے،حکمرانوں کا طبقہ عوام کو جاہل رکھنے کیلئے تاریخ لکھواتا بھی ہے اور تاریخ کو استعمال بھی کرتا ہے۔ ایسی قوم ایک طرف تو انسانی فلاح و بہبود کے نعرےلگاتی ہے ، اذان میں ہر روز پانچ مرتبہ حی علی الفلاح کی صدائیں بلند کرتی ہے ، انسانی ہمدردی کیلئے ذکواۃ اور خمس کو واجباتِ دین میں سے قرار دیتی ہے اور دوسری طرف خود کش حملے کر کے بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ یہ شہادت اس لئے ہوئی کہ قوم حق و باطل، سچ و جھوٹ، اور صحیح و غلط کو ایک جیسا سمجھتی تھی، لوگ حق کو حق اور صحیح کو صحیح سمجھتے ہوئے بھی حق اور سچ کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔ پھر اس شہادت کے ساتھ بھی وہی ہوا جو نادان قومیں کیا کرتی ہیں۔ اس شہادت سے بھی لوگوں نے سوءِ استفادہ کیا، کچھ نے تاریخ کا چربہ بنایا اور اس قتل کا ذمہ دار ابن ملجم اور خوارج کو قرار دے کر اصلی قاتلوں کو چھپانے کی کوشش کی، اور کچھ نے اس قتل کے بعد قاتلوں کا تعاقب کرنے اور مقتول کی سیرت اور اہداف کو روشن کرنے کے بجائے صرف ماتم و آہ و زاری و نوحہ خوانی و گریے کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا۔ اہلِ تحقیق کیلئے تحقیق کا دروازہ کھلا ہے ، وہ تحقیق کرلیں کہ اس شہادت کا حقیقی محرک کون تھا!؟ خوارج تو ہمارے آج کل کے داعش اور دیگر دہشت گرد ٹولوں کی طرح کرائے کے قاتل اور آلہ کار تھے۔ تاریخِ اسلام میں اس طرح کے مخفیانہ قتل پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، خلیفہ اوّل کی دُختر اُم المومنین حضرت عائشہ ،اورخلیفہ اوّل کے فرزند عبدالرحمن بن ابی بکر کی موت بھی مخفیانہ طور پر ہوئی، مختصرا خلیفہ سوم کے قتل کی راہ ہموار کرنے والوں کو باغی کہہ کر چھپا دیا جاتا ہے جبکہ درحقیقت خلیفہ سوم کے قتل کے تانے بانے بھی انہی لوگوں سے جا کر ملتے ہیں جو اقتدار پر قبضہ کرنے کے خواہاں تھے۔ دراصل صدرِ اسلام میں مرکزِ خلافت پر حملے، خلفا کے خلاف بغاوتیں ، ان کے خلاف لشکر کشی اور ان کے قتل کے منصوبے ،صرف اور صرف اسلامی حکومت پر قبضے اور خلافت کو ملوکیت میں بدلنے کیلئے تھے۔ تاریخی طور پر خلیفہ اوّل کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ابوسفیان کا کردار کسی سے مخفی نہیں، اس نے حضرت امام علیؑ کو بغاوت پر اکسانے کی پوری کوشش کی، وہ مسئلہ خلافت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے درپے تھا۔ اس نے امام علیؑ سے کہا کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ بغاوت نہیں کر رہے، اگر آپ کہیں تو میں خلیفہ اول کے خلاف مدینے کو سواروں اور پیدل لشکروں سے بھر دوں۔ اس پر امام علیؑ نے ابو سفیان کو دندان شکن جواب دیا کہ اے ابوسفیان واپس پلٹ جا، تو نے ہمیشہ اسلام کے خلاف سازشیں ہی کی ہیں۔۔۔ ۔۔۔ اگر ہمارے نزدیک امام علیؑ مشکل کشا ہیں تو پھر ہمیں بھی دوسروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے تگ و دو کرنی چاہیے، اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ امیرالمومنین ؑ یتیموں کی پرورش کرتے تھے تو ہمارے دسترخوان پر بھی یتیم پلنے چاہیے، اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ایام خلافت میں امیرالمومنینؑ کے لباس پر پیوند لگے ہوتے تھے اور آپ نمک کے ساتھ افطار کرتے تھے یعنی معاشرے کے سب سے بلند منصب “خلافت” پر موجود شخص ایک غریب ترین انسان کی طرح کی زندگی گزارتا تھا تو پھر ہمیں بھی سادہ ترین اندازِ حیات اپنانا چاہیے۔ سازشی عناصر نے ابنِ ملجم کے ذریعے جو ضرب امام علیؑ کے سر پر لگائی ، اس پر ہم روتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، اورغم مناتے ہیں لیکن ہماری بے عملی، عدمِ تحقیق، بے حسی، فکری جمود اور جہالت و پسماندگی سے جو ضرب امام علیؑ کی سیرت کو لگتی ہے، اس سے ہم غافل ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کب یہ احساس ہوگاکہ دشمن کی ضرب اوردوست کی بے حسی ، دونوں کی تاثیر ایک جیسی ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذرحافی
تاریخ کا تیسرا استعمال ،لوگوں کو اُن کی خودی اور شناخت سے محروم کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے اقوام اور مذاہب کی تاریخ کا چربہ بنایا جاتا ہے۔ مثلا مسلمانوں کو دینِ اسلام سے بدظن کرنے کیلئے اسلام کی تاریخ کو دیگر ادیان کی تاریخ سے مخلوط کیا جاتا ہے، اور یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام سے پہلے دنیا میں توحید، وحی اور انسانی اخلاقی اقدار کا تصور موجود تھا، دینِ اسلام کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سابقہ ادیان سے لیا گیا ہے۔ تورات و زبور و انجیل میں قرآن مجید سے پہلے یہ سب کچھ موجود تھا۔
ایسے باتیں کر کے کسی بھی انسان سے اس کا اعتماد بالنفس چھینا جاتا ہے، اور جو اعتماد بالنفس کھو دے اُسے کوئی بھی اپنا غلام بنا سکتا ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال نے بھی اپنے کلام میں مسلمانوں کو بار بار اعتماد بالنفس اور خودی کی طرف دعوت دی ہے۔
تاریخ کا چوتھا استعمال کھرے اور کھوٹے کو الگ کرنا ہے، واقعات کو عقل، منطق، فلسفے، عمرانیات، تہذیب اور تمدن کی کسوٹی پر اس طرح پرکھنا ہے کہ ہدایت گمراہی سے، حق باطل سے اور سچ جھوٹ سے جدا ہو کر روشن ہوجائے۔ تاریخ کے چوتھے استعمال کے مطابق تاریخ کسی بھی قوم کا دماغ، اس کی یاداشت اور اس کا حافظہ ہے۔
اگر کسی شخص کے دماغ میں سچ اور جھوٹ، اچھائی اور برائی، نیز کھرے اور کھوٹے کی تمیز نہ رہے تو اُسے پاگل کہاجاتا ہے۔ اسی طرح جو قوم اپنی تاریخ پڑھنے کے بعد صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرتی وہ دیگر اقوام کے درمیان ہمیشہ پاگلوں کی طرح افراط و تفریط کی شکار رہتی ہے۔ وہ حدِ اعتدال سے یا آگے چلی جاتی ہے اور یا پھرپیچھے رہ جاتی ہے۔
ایک طر ف قرائت قرآن، حفظ قرآنِ مجید، نماز و روزہ اور اطاعت خدا و رسول ﷺ کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف جس اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتی ہے اُسی کے برگزیدہ مہینے رمضان المبارک میں، اللہ کی کتاب کے نازل ہونے والی راتوں میں، اللہ کے گھر میں ، اللہ کی عبادت کی حالت میں اللہ کی مسجد میں اُسی کے خلیفے کو حالتِ سجدہ میں شہید کر دیتی ہے۔
انیس رمضان المبارک کو حضرت علیؑ کے سر پر جو ضرب لگی، اس کا سب سے بڑا نقصان خود حضرت انسان کو ہوا، اُس کے بعد انسان صراط مستقیم سے منحرف ہو گیا ۔ قاتل نے صرف کسی ایک عام انسان کو قتل نہیں کیا بلکہ انسانیت کے کعبے کو گرادیا، ہدایت کے چراغ کو بجھا دیا، کشتی نجات کے بادبان کو سرنگوں کر دیا بلکہ یوں سمجھئے کہ قافلہ بشریت کے سالار کو تہہ تیغ کر دیا۔
اس کے بعد آج تک یہ امت کسی قیادت پر متفق نہیں ہو سکی، انسان نے جس مرکز سے متصل ہو کر خدا پر ایمان لانا تھا اُس مرکز کو اکھاڑ دیا گیا۔
یہ دونوں نظریات عقل و منطق کے خلاف ہیں، ہم نہ ہی تو آنکھیں بند کر ابنِ ملجم اور خوارج کو اصلی قاتل قرار دے سکتے ہیں اور نہ ہی صرف ماتم و نوحہ خوانی کو ہی اس قتل کی تلافی سمجھتے ہیں،چونکہ انیس رمضان المبارک کو عالم بشریت کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہے کہ اگر کائنات کا ہر فرد ماتم اور نوحہ خوانی کرےتو پھر بھی یہ خلا پُر نہیں ہو سکتا۔
یہ کہہ دینا آسان ہے کہ حضرت امام علیؑ کے قاتل خوارج ہیں، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ خوارج کب اور کیسے وجود میں آئے ؟
خوارج کو داعش کی طرح بدنام کیاگیا، لوگ خوارج کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ خوارج کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے، امام علیؑ کو شہید کرنا کس کیلئے ضروری تھا!؟ خوارج نے امام علیؑ کو شہید کر کے کس کے ایجنڈے کی تکمیل کی؟
جس طرح خلیفہ سوم کے قاتلوں کو باغی کہہ کر چھپا دیا گیا، اسی طرح خلیفہ چہارم کے قاتلوں کو بھی خارجی کہہ کر حقیقت پر پردہ ڈال دیا گیا۔
ابوسفیان وہاں سے ناکام پلٹا لیکن مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے، اور خلافت پر قبضہ کرنے کی چالیں جاری رہیں، یہانتک کہ امیرالمومنینؑ تخت ِ خلافت پر رونق افروز ہوئے، اس کے بعد ہر تجزیہ و تحلیل کرنے والے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خلیفہ چہارم کے قتل میں وہ اشعث ہو، قطام ہو، خوارج ہو ں یا ابن ملجم یہ سب ثانوی کردار ہیں۔ اصلی محرک اور حقیقی قاتل کوئی اور ہے۔
دوسری طرف یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حضرت امام علیؑ کوئی طلسماتی اور خیالی شخصیت نہیں ہیں، بلکہ آپ مسلمانوں کے حقیقی امام اور خلیفہ ہیں، آپ نے اسی دنیا میں لوگوں کے درمیان ایک عادی زندگی بسر کی ہے، آپ نے حکومت بھی کی اور عدل و انصاف بھی کیا، آپ نے شادیاں بھی کیں اور اولاد کی تربیت بھی کی، آپ نے ہمسایوں کے حقوق بھی ادا کئے اور لوگوں کی مشکلات کو بھی حل کیا، آپ نے جنگیں بھی کیں اور خیرات بھی کی۔
جس طرح امام علیؑ کے اصلی قاتلوں کو فراموش کردینا ظلم ہے، اُسی طرح امام علیؑ کی سیرت و کردار کو فراموش کرنا بھی ظلم اور زیادتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استفادہ:۔
الطبری، ابی جعفر محمد بن جریر (متوفای۳۱۰)، تاریخ طبری، ج۳، ص۲۰۹.
الطبری، ابی جعفر محمد بن جریر (متوفای۳۱۰)، تاریخ الطبری، ج۳، ص۲۰۹.
الطبری، ابی جعفر محمد بن جریر (متوفای۳۱۰)، تاریخ طبری ج۳، ص۲۰۹، قسمت آغاز خلافت ابوبکر.
الشیخ المفید، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم ابی عبدالله العکبری، البغدادی (متوفای۴۱۳ ه)، الارشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج۱، ص۱۹۰،
تحقیق:مؤسسة آل البیت (علیهمالسّلام) لتحقیق التراث، ناشر:دار المفید للطباعة والنشر والتوزیع - بیروت - لبنان، الطبعة:الثانیة، ۱۴۱۴ه - ۱۹۹۳ م.
افکار و نظریات: حضرت علی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں