اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات امام علیؑ کی کردار کُشی اور میڈیا ✍️رضوان نقوی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں۔ آپ کے بارے میں بہت زیادہ فضائل بیان ہوئے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ذوالعشیرہ میں آپ کو اپنا وصی و جانشین معین فرمایا۔ شب ہجرت جب قریش، رسول خدا کو قتل کرنا چاہتے تھے تو آپ رسول اللہ کے بستر پر سو گئے اس طرح حضورؐ نے مخفیانہ طریقہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ اس ایثار اور جانثاری کی بدولت قرآن مجید میں آپ کی شان میں آیت کریمہ بھی نازل ہوئی۔(سورہ بقرہ، 207) امام علی دینی امور، قانون کے دقیق اجرا اور صحیح طریقے سے حکومت چلانے کے معاملے میں بیحد سنجیدہ تھے۔ یہی سبب تھا جس نے آپ کو بعض افراد کے لئے نا قابل برداشت بنا دیا تھا۔ آپ اس راہ میں حتی اپنے نزدیک ترین افراد کے ساتھ بھی سختی سے پیش آتے تھے۔ جس وقت حضرت نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر منصوب کیا تو انہیں تمام لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مہربانی، خوش اخلاقی اور انسانی سلوک سے پیش آنے کی نصیحت فرمائی۔ حضرت امیر کو اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین سنگین داخلی جنگوں یعنی جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کے خلاف ہر قسم کا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اس زمانے کے زرائع ابلاغ میں خطباء، منبر، نماز جمعہ کے خطبات، حکومتی نمائندے اور راوی حدیث شامل ہیں۔ جن کے ذریعہ سے حکومتیں اپنے مقاصد حاصل کرتی تھیں۔ شامی حکومتی مشینری نے اپنے زرائع ابلاغ کے ذریعہ دو بہت ہی خطرناک کام انجام دئے۔ ایک خطیبوں کے ذریعہ منبروں سے امیرالمومنین کو لعن کرنا اور دوسرا راویان حدیث کے ذریعہ سے بنی امیہ کی فضیلت میں جعلی حدیثیں گھڑنا تھا۔ جب معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو گورنر بنایا تو سعد کو حکم دیا اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے کہ تم ابو تراب یعنی علی ابن ابی طالب پر لعن نہ کرو۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں؛ جس کے بعد میں کبھی علی پر لعن نہیں کر سکتا۔ سعد بن ابی وقاصؓ نے مندرجہ ذیل تین وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے حکم ماننے سے انکار کر دیا: قرآن کے مطابق حضرت علی اہل بیت میں سے ہیں۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 424) تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر عسقلانی، طبقات الکبریٰ میں ابن سعد اور تاریخ طبری میں ابن جریر طبری لکھتے ہیں: "حجاج ابن یوسف نے محمد بن قاسم کو لکھا کہ حضرت عطیہ بن سعد عوفی کو طلب کر کے ان سے حضرت علی پر سب و شتم کرنے کا مطالبہ کرے اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو چار سو کوڑے لگا کر داڑھی مونڈ دے۔ محمد بن قاسم نے انکو بلایا اور مطالبہ کیا کہ حضرت علی پر سب و شتم کریں۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو محمد بن قاسم نے ان کی داڑھی منڈوا کر چار سو کوڑے لگوائے۔ اس واقعے کے بعد وہ خراسان چلے گئے۔ جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے تب اس نے حضرت علی پر لعن طعن کی روایت کو سرکاری طور پر ختم کیا۔ علی بن ابی طالب کی فوج میں حجر بن عدی اور عمرو بن حمق نے مُعاویہ اور اہل شام پر لعنت کی تو مولا علی نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم حق پر ہیں لیکن میں تمہارے لعن و تشنیع کرنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔ (الاخبار الطوال، صفحہ 165) (نہج البلاغہ، خطبہ، 206) (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63) معاویہ کی مدح میں اس قدر احادیث جعل ہوئیں کہ ابن تیمیہ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے۔ ابن تیمیہ نے حدیث طیر کے رد میں لکھا ہے: معاویہ کے فضائل میں بہت زیادہ احادیث جعل کی گئیں اور مستقل کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ حدیث کے اہل دانش افراد اسے درست اور صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔ (ابن تیمیہ منہاج السنہ النبویہ، ج 7، ص 371) معاویہ ان خدمات کے عوض ان کو قیمتی تحائف اور انعامات کا لالچ دیا کرتا تھا۔ لہذا صحابہ میں سے ابوہریرہ، عمرو ابن عاص، مغیرہ ابن شعبہ اور تابعین میں سے عروہ ابن زبیر نے اتنی زیادہ احادیث کو جعل کیا کہ معاویہ ان سے بہت خوش تھا۔ ( شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 73) معاویہ نے اپنے زمانے کے میڈیا اور زرائع ابلاغ کے ذریعہ امیرالمومنین اور اہل بیت علیہم السلام پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ آپ کی فضیلتوں کا انکار کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے چاہنے والوں میں سے کوئی آپ پر لعن نہ کرتا تو اسے شہید کر دیا جاتا۔ معاویہ نے کئی بزرگ صحابہ اکرام کو اسی لئے شہید کروا دیا کہ انہوں نے حضرت علی پر لعن نہ کی، ان میں حجر ابن عدی بھی شامل ہیں جن کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ آج بھی اگر ہم میڈیا کے کردار کو دیکھیں کہ کس طرح ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا دیا جاتا ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کس طر ح نان ایشوز کو ایشوز بنا دیا جاتا ہے اور ایشوز پر بات ہی نہیں کی جاتی۔ آج بھی استعماری اور طاغوتی طاقتیں انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعہ اسلام فوبیا اور مسلمانوں کو دست و گریبان کرتے ہیں تاکہ اس ذریعہ سے دنیا پر اپنی حکومت قائم رکھیں۔ میڈیا اور اس کی پروپیگنڈہ مشینری نے کئی اسلامی ممالک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اس میں یقینا ہماری سادہ لوحی اور جہالت بھی شامل ہے۔ آج یمن کی صورت حال کو ہی دیکھ لیں کس طرح اس کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ آپ کشمیر اور فلسطین کی مثال لے لیں میڈیا حقیقت کو یا تو بالکل بیان نہیں کرتا یا سچ اور جھوٹ کو اس طرح مخلوط کر کے بیان کرتا ہے کہ اکثریت کنفیوز ہو جاتی ہے اور حقیقت تک نہیں پہنچ پاتی۔ تاریخ اور تحقیق سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ بلاشبہ مولاعلیؑ کی مظلومیت اور لوگوں کے گمراہ کرنے میں اموی و شامی میڈیا کا کلیدی کردار تھا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی تقریبا 300 آیات مبارکہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ مدینے میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوا تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ علماء کے مطابق، امام علی بہت سے علوم کے مبتکر اور سرچشمہ ہیں۔ ساتویں صدی ہجری کے اہل سنت عالم دین ابن ابی الحدید کا ماننا ہے کہ امام علی تمام فضائل کی بنیاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فرقہ اور گروہ خود کو آپ سے منتسب کرتا ہے۔ تقریبا اکثر تصوف اسلامی اپنے سلسلہ کو امیر المومنین سے منسوب کرتے ہیں۔
خلیفہ چہارم کا دور حکومت اسلامی تاریخ کا اہم ترین اور درخشاں ترین دور تھا؛ جس میں آپ نے عدل و عدالت کی بنیاد پر اسلامی حکومت کو قائم کیا۔ آپ عدل و انصاف میں بہت شدید تھے۔ بعض مورخین اور مصنفین نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ اپنی شدت عدالت کی وجہ سے ہی شہید کئے گئے ہیں۔
امام علی نے خلفائے ثلاثہ کے 25 سالہ دور خلافت میں سیاسی اختلافات کے باوجودتربیتی، علمی اور سماجی امور میں امت کی خدمت جاری رکھی۔ جیسے جمع آوری قرآن کریم، جو مصحف امام علی کے نام سے مشہور ہے، مختلف امور میں خلفاء کو مشورہ دینا، جیسے قضاوت، انفاق، غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا، زراعت و شجرکاری، کنویں کھودنا، مساجد تعمیر کرنا و اماکن و املاک وقف کرنا، جن کی سالانہ آمدنی چالیس ہزار دینار تک ذکر ہوئی ہے۔ اسی طرح سے خلفاء آپ سے قضاوت جیسے مختلف حکومتی امور کے بارے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔
آپ نے خلیفہ سوم کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قبول کیا۔ آپ اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو بطور خاص اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ عرب و عجم، ہر مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی خاندان یا قبیلے سے ہو، بیت المال میں سب کا حصہ برابر ہو گا۔
امام علی کے مطابق حاکم کا حق اپنی رعیت پر اور رعیت کا حق اپنے حاکم پر، بزرگ ترین حقوق میں سے ہے، جسے پروردگار نے قرار دیا ہے اور یہ کاملا دو طرفہ ہے۔ دونوں طرف سے حقوق کی رعایت بیحد ثمرات کی حامل ہے۔
ان جنگوں کو رونما کرنے میں بنیادی کردار شام کی حکومت پر قابض معاویہ کا تھا۔ معاویہ نے امیرالمومنین کی حکومت کو گرانے اور آپ کی شخصیت کو مسخ کرنے کے لئے زرائع ابلاغ اور میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔
حضرت علی علیہ السلام پر لعن طعن کی ابتدا معاویہ بن ابی سفیان کے حکم سے ہوئی۔ اس حکم کے تحت علی بن ابی طالب اور ان کے خاندان کو اموی حکومت کی تمام مساجد میں جمعہ کے خطبات کے میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے مطابق علی کا تعلق ان سے ایسا ہی ہے جیسے ہارون کا تعلق موسیٰ سے تھا۔
پیغمبر اسلام نے جنگ خيبر کا پرچم علی بن ابی طالب ہی کو عطا کیا تھا اور اللہ نے ان کو فتح سے نوازا۔
سعد بن ابی وقاصؓ نے معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا کہ اگر تم میری گردن پر آرہ بھی چلا دو تو تب بھی میں کبھی علی پر لعن نہیں کروں گا۔
حضرت علی المرتضیٰ نے اپنے اصحاب کو جنگ صفین میں معاویہ کو لعن کرنے اور برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور اس عمل کی تردید کی۔
نہج البلاغہ میں آیا ہے کہ امام علی نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے ساتھیوں میں سے چند لوگوں کو سنا کہ وہ شامیوں پر لعن طعن کر رہے ہیں تو آپ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا۔
معاویہ وہ پہلا شخص تھا جس کے دور حکومت میں جعل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو افراد اہل بیت کی مذمت میں احادیث جعل کرتے تھے معاویہ سرکاری طور پر انکی کی پشت پناہی کرتا اور انکو مال و اکرام سے نوازتا تھا۔
اہل سنت کے معروف مصنف ابن ابی الحدید نے اپنے استاد ابو جعفر اسکافی سے نقل کیا ہے کہ معاویہ نے صحابہ اور تابعین کے ایک گروہ کو جعل احادیث کے لئے مامور کیا؛ تاکہ وہ ایسی من گھڑت احادیث کو بیان کریں کہ جس کے باعث مسلمان حضرت علی سے نفرت کرنے لگیں۔
آپ شام کی مثال لے لیں کس طرح تباہی پھیلائی گئی اور ایک اسلامی ملک کو برباد کر دیا گیا۔ اسی طر ح انٹرنیشنل پروپیگنڈہ مشینری ایران کے خلاف زہر اگلتی ہے، جسے عام لوگ قبول بھی کر لیتے ہیں۔
میڈیا اور زرائع ابلاغ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ زمانے کے ولی خدا اور امام کو مسجد میں شہید کر دیا جاتا ہے اور ایک شامی مسلمان دوسرے سے سوال کرتا ہے کہ علی کا مسجد سے کیا تعلق تھا؟ کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں