چولستان، پانی کا مسئلہ اورتجاویز
حافظ عبدالرازاق ملک
(ایم فل کمپیوٹر سائنس)چولستان بہاولپور پنجاب پاکستان

تعارف:
صحرائے چولستان بنجاب کے ضلع بہاولپورکا ایک پسماندہ ترین علاقہ ہے جسے مقامی زبان میں روہی کہا جاتا ہے۔ 
جو 6655360 ایکڑز رقبے  اور 0.2 ملین انسانی آبادی پر مشتمل لق ودق وہ صحرا ہے جہاں سے پیارے وطن پاکستان کو ہزاروں من خالص دودہ،گوشت اور دنیا کی بہترین اون میسر آتی ہے-
جہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور محبت کے دور دراز تک چرچے ہیں- مگر افسوس جہاں اس دورِجدید میں آج بھی  انسان جانورں کے ساتھ ایک ہی جوہڑسے بارش کا ذخیرہ شدہ پانی پینے پر مجبور ہے۔ ایک طرف جنگلی جانور پانی پی رہا ہے تو دوسری طرف حضرتِ انسان وہی گدلا پانی پی کر خدا کا شکر ادا کر رہا ہے۔
جہاں ہوش سنبھالتے ہی بچے کے ہاتھ میں چھڑی کاندہے پہ گدلے پانی کی بوتل اوربھیڑ بکریوں کو ہانکنا مقدر ٹھہرجاتا ہے۔
جہاں نہ تعلیمی اداروں کی بہتر سہولیات ہیں نہ صحت کے مراکز- 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں اس تپتے صحرا کے باسی نو جوان کو کیا علم کہ نجانے کس ٹیلے کی اوٹ میں پیاسے ہونٹ،بے چین روح اور اس لاوارث جان کو موت آ گھیرے گی۔
چاہے وہ موت پیاس کی صورت ہو یا زہریلے سانپ کے ڈس جانے کی صورت۔غیر محفوظ زندگی، دنیا و ما فیہا سے بے خبر صابر و شاکر یہ نو جوان ہر دم راواں زندگی کی دوڑمیں قدم سے قدم ملائے ہوئے ہیں-کیا کیا لکھوں؟؟
ان گنت مسا ئل ہیں۔مگر یہاں چولستان میں پانی کا مسئلہ زیر بحث ہے،تو کچھ تجاویز ہیں جن پہ اگر عمل ہو جا ۓ تو چولستان کی باسیوں کی زندگی کو کسی حد تک پر سکون اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔
یہاں پانی کے دو ذرائع ہیں
1 نہروں، ڈیمزیا پائپ لائنزکا ذریعہ
2- زیرِزمین پانی بذریعہ ٹیوب ویل
چولستان میں پرانی تین نہریں ہیں جو محکمہ انہار کے رحم و کرم پہ چلتی ہیں- دل کیا پانی چہوڑ د،یا دل کیا بند کر دیا- 1٩٦٠ میں الاٹ شدہ رقبوں کو تاحال مستقل پانی نہیں مل سکا۔
سالانہ بنیاد پر غریب کسان سے چندہ وصول کر کے چند مخصوص کرداروں کے ذریعے بطور نذرانہ پیش کیا جاتا ہے تو ان نہروں میں پانی چلتا ہے۔ ان نہروں کا پانی بہتر اور مستقل کیا جائے اور نئی نہریں نکال کر اس سے صحرائی رقبے  کو قابلِ کاشت کیا جائے اس سے چولستانیوں کی زندگی میں معاشی انقلاب آ سکتا ہے کیوں کہ چولستانیوں کا واحد ذریعہِ آمدن لائیوسٹاک ہے-
چولستان کے باسیوں کی زندگی میں خوش حالی لانے کے لیے ان کو زمینیں الاٹ کر کے اور الاٹ کی ہوئی زمینوں کو پانی فراہم کر کے دوسرا ذریعہِ آمدن زراعت کی صورت پیدا کیا جا سکتا ہے-
یہ تجویز تو تھی  چولستان کے آباد چکوک یا گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی بہتری کے لیے اب دوسرا پہلو اس آبادی کا ہے جس نے  روہی میں ٹوبوں(ٹوبہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں بارش کا پانی زخیرہ ہوتا ہے جسےمقامی لوگ ٹوبہ کہتے ہیں) کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہے جہاں پینے کا پانی بھی بمشکل میسر ہے-اور وہ بارش کا ذخیرہ شدہ پانی پینے پہ مجبور ہیں ان کے لیے پائپ لائنز پچہا کر پانی پہنچایا جاۓ کسی حد تک ایک حکومتی ادارہ اس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے مگر وہ نا کافی ہے اور اس حد تک موئثر کردار ادا کرتا نظر نہیں آ رہا جتنا کہ کرنا چاہیے تھا۔ 
تیسری بات جو بہت اہم ہے جس کو بہت سے لوگ تجویزبھی کرتے ہیں وہ ہے زیرِزمین پانی- زیرِزمین پانی کو ٹیوب ویل کے ذریعے نکال کررقبہ بھی  سیراب کیا جا سکتا ہے اور ٹوبوں پہ پینے کا پانی بھی  مہیا کیا جا سکتا ہے۔مگر اس میں پھر مسئلہ آتا ہے کہ زیرِ زمین پانی تو کڑوا ہے،نا پینے کے قابل ہے نا کاشتکاری کے قابل۔
تو میں عرض کردوں کہ ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں-ٹیکنالوجی کا دور ہے-کڑوے پانی کو پینے کے قابل بنانا کوئ مشکل کام نہیں ہے-ہر ٹوبے پر ایک واٹر فلٹریشن کا سولر پلانٹ لگا کر کم از کم پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے- اور اس طرح کا ایک سولر پلانٹ چولستان میں ایک سماجی تنظیم کے تعاون سے کالے پاڑ چولستان کے مقام پر لگایا گیا ہے جو کامیابی سے چل بھی رہا ہے-
مگر یہاں بات ہے نیک نیتی انسان دوستی اور خدمتِ خلق کی-یہ کام تنِ تنہا کوئی سماجی تنظیم اتنا آسانی سے نہیں کر سکتی- حکومتی اداروں کوبھی  اس نظر انداز خطے پہ توجہ  دینی چاہیے- یہاں سے منتخب عوامی نمائندوں کو چولستان کے مسائل پرخصوصا پانی کے مسئلہ پر آوازاٹھانی چاہیے۔
 پینے کے پانی کےلیے سولر فلٹریشن پلانٹ پراجیکٹ کو چولستان میں سماجی خدمت کی تنظیمیں بھی لگا سکتی ہیں اورمیں درخواست کروں گا ان تمام سماجی تنظیموں کو جو ایسے پسماندہ طبقات کی مدد کےلیے سر گرمِ عمل رہتی ہیں،کہ وہ آٰئیں اور اس پسماندہ علاقے میں تعلیم،صحت،امن خوشحالی و ترقی کے لیے اپنی جدوجہد کریں اور دعائیں لیں۔


 

 


افکار و نظریات: چولستان, پانی کا مسئلہ اورتجاویز