عقیدہ یا موم کی ناک
تحریر : محمد حسن جمالی


عقیدے کے نام پر سب جائز ہے بابا، جب چاہو کسی کو قتل کردو، کسی کو کافر کہہ دو ، کسی کو مشرک کہہ ڈالو، مولویوں کے نزدیک عقیدہ بھی تو موم کی ناک ہے، جدھر چاہا موڑ دیا۔ سوشل میڈیا کا تعلق براہ راست انسان کے ذہن سے ہے ۔ یہ جہاں انسان کی ذہن سازی کے لئے مؤثر ہتھیار ہے وہیں انسانی ذہن کی تخریب کے لئے بھی کار آمد وسیلہ ہے۔ تربیت یافتہ پڑھے لکھے لوگ اسے مفید کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور تعلیم یافتہ مگر  تربیت سے تہی افراد اسے منفی سرگرمیوں کے لئےاستعمال کرتے ہیں ۔

وہ اسےقبیح چیزوں کی تشہیر، مذہبی لسانی اور قومی تعصبات  کی ترویج، اسلامی تعلیمات کے خلاف  نظریات کی اشاعت، حق اور باطل کی پہچان کا راستے میں ایجاد شبھات سمیت مختلف پریپیگنڈوں کو پھیلا کر سادہ لوح افراد کو گمراہ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان ناپاک اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لئے وہ شب وروز سوشل میڈیا پر  مشغول رہتے ہیں  ۔
ایک ہفتہ پہلے سوشل میڈیا پر حضرت عمر ابن عبد العزیز کی قبر منہدم کرنے کا الزام  شیعہ  مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں پر لگاکر طوفان برپا  کیا گیا ،بعض گمراہ افراد کا   پریپیگنڈہ تھا ،حقیقت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہ تھاـ

اسے پوری منصوبہ بندی کے تحت بعض ناداں افراد نے سوشل میڈیا پر اچھالا اور سادہ لوح افراد نے اسے حقیقت سمجھ کر ان کے ساتھ اپنی آواز ملانے کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے واویلا کرنا شروع کردیاـ اس پریپیگنڈے کا وہ لوگ بھی حصہ بنے جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ قبروں اور مردوں کا احترام کرنا ،ان کی زیارت کرنا جائز نہیں بدعت ہے، ایسے میں اس سؤال کا ذھنوں میں ابھرنا فطری ہے کہ کیا قبور کے احترام کو جائز نہ سمجھنے والوں کا عقیدہ بدل گیا ہے؟
 مشہور بات تو یہ ہے کہ نقل کے لئے عقل چاہئے ہوتی ہے یہاں میں کہوں گا پریپیگنڈہ کرنے کے لئے بھی عقل چاہئے ہوتی ہے  ۔

کتنے احمق تھے وہ لوگ جنہوں نے عمر ابن عبد العزیز کی قبر مسمار کرنے کا الزام شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں پر لگاکر اپنے تئین سکون کا سانس لیا، ان نادانوں کو اتنا تو پتہ چلنا  چاہئے تھا کہ شیعہ مکتب فکر میں قبور کی بے احترامی جائز نہیں، عام مسلمانوں کی قبروں کو گرانا اس مسلک کے ماننے والوں کے ہاں فعل حرام ہے  توعمر ابن عبد العزیز جیسی مسلمانوں کی شخصیات کی قبور منہدم کرنے کو وہ کیسے جائز سمجھ سکتے ہیں؟
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ انسان کے تمام حرکات وسکنات ،فعالیتوں اور سرگرمیوں کا محرک اصلی اس کے ذہن میں پختہ ہونے والے نظریات ہوتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں ہونے والی دہشتگردی اور خود کش حملوں میں ملوث افراد ایک خاص فکر اور عقیدے  کی بنیاد پر ہی بے گناہ مسلمانوں  کی جان سے کھیلتے ہیں، ان کو باقاعدہ ایسے گناؤنے کاموں کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ، ان کے ذہنوں میں اس  غلط فکر کو راسخ کیا جاتا کہ  اللہ تعالی کے علاوہ کسی سے  مدد لینا شرک ہے،اسی طرح   شفاعت اور  قبور  معصومین کی زیارت کا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہے جسے قتل کرنے میں  نہ فقط کوئی حرج نہیں بلکہ یہ ثواب کا کام ہے ۔
اس بے بنیاد  اور غلط عقیدے کو پھیلانے میں  سعودی عرب نے بڑا کردار ادا کیا ،سلفی اور تکفیری ٹولے کو فنڈینگ سعودی عرب کرتا ہے ،یہاں تک وطن عزیز پاکستان میں سعودی فنڈینگ سے بڑے  مدارس وجود میں آئےجو بظاہر  تو مدرسے ہیں لیکن در حقیقت  وہ دہشتگروں کی تربیت گاہ ہیں.

ان میں ملک کے طول وعرض سے جوان ونوجوانوں کو جمع کرکے دہشتگردی کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ ہزارہ مؤمنین  پر ہونے والا دہشتگردی کا حملہ ہو یا دیگر جان سوز دہشتگردی کے سانحات ،حملہ کرنے والے دہشتگرد تکفیری مدارس کے طلباء ہی نکلے ،یہ اور بات ہے کہ ریاست ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئی یا نہیں؟
مزے کی بات  یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خود ایسے مدارس کی سر پرستی کرتے ہیں اس کے باوجود اس موقعے پر واضح الفاظ میں انہوں نے بھی بیان داغا ، انہوں نے اپنے بیان میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے مقدس مزار کی شرپسند عناصر کے ہاتھوں شہادت پامالی اور بے حرمتی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔ 
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس دل دہلا دینے والے واقعے سے عالم اسلام کے دل و دماغ لرز اٹھے ہیں، اندوہناک واقعے پر امت مسلمہ کے دل رنجیدہ اور خون کے آنسو رو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلام مدفون انسانوں کے اجساد و باقیات کی تضحیک کی کسی صورت اجازت نہیں دیتاـ

کیا مولانا فضل الرحمن کو اپنی زندگی میں جنت البقیع میں مدفون رسول کی باعظمت بیٹی کی قبر مطہر سمیت ہزاروں اولیاء کرام کے قبور مسمار کرنے پر آل سعود کی کھلے الفاظ میں مزمت کرنے کی توفیق ہوگی ؟ ہرگز نہیں اس کی وجوہات اظہر من الشمس ہیں اور لکھنے سے بے نیاز ـ 
  مسلمان اپنے دینی اور مذہبی اعتقاد ات ونظریات کے مطابق اپنی زندگی کی گاڑی کو مقصد کی طرف رواں دواں رکھتے ہیں،  اگر ان کے عقائد کی بنیاد قرآنی تعلیمات  ہوں تو وہ کسی بھی قیمت پر اپنے نظریات واعتقادات  کا سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے،  وہ کٹ مریں گے مگر عقیدہ فروشی کے لئے حاضر نہیں ہوں گے ۔

اس حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو شیعہ مذہب کے پیروکاروں  کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ نبش قبر کرکے مردوں کی لاشوں کی بے احترامی کرنا جائز نہیں، اگر کسی کو اس میں شک ہے تو وہ اس مکتب فکر کے اعتقادی اور فقہی کتب کا مطالعہ کرکے دیکھ سکتا ہے۔
  آج تک یزید اور اس جیسے شیعہ اماموں کے قاتلوں اور دشمنوں کی قبور محفوظ ہیں،  شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا ، یہاں تک کہ شیعہ امامیہ کے آٹھویں امام  حضرت امام رضا ؑ کا قاتل تو ان کے پہلو میں ہی مدفون ہے اور کسی نے اس کی قبر کی بے احترامی کرنے کا سوچا تک نہیں  وجہ یہی ہے کہ ان کے ہاں قبور کی بے احترامی، مردہ جسموں کی پائمالی جائز نہیں،  لیکن  پریپیکنڈہ کرنے والوں کا تو حقائق سے کیا تعلق  ؟

انہوں نے تو اپنا شیطانی کام کرکے اپنے برے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنا ہے ۔
 ان سطور کو لکھنے کا مقصد فقط سادہ لوح  لوگوں کو  حقیقت سے باخبر کرانا ہے کہ وہ اس طرح کی پریپیگنڈوں  کے جال میں جلد پھنس کر  گمراہ ہونے کے بجائے اپنی خداد عقل کی قوت سے سوچیں  ،آخر شیعہ مذہب  سے تعلق رکھنے والے کیسے اس طرح کے قبیح  کاموں میں ملوث ہوسکتے ہیں ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ تو  قبور کی بے احترامی کرنا حرام ہو لیکن  عملا" وہ حضرت عمر ابن عبد العزیز کی قبر مسمار کریں ؟

کیا  یہ کھلا تضاد نہیں؟

 کیا ایسا نہیں کہ انسان کی عملی حرکات  کا اصلی محرک اس کے نظریات ہوتے ہیں ؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ تکفیری خشک عقیدے کے حامل داعشی ٹولے کا کام تھاـ
اب ہم آتے ہیں اس پریپیگنڈے کے اصل مقصد کی طرف ـ بعض نادانوں نے اس پریپیگنڈے کو کیوں اچھالا؟ ان کا مقصد کیا تھا؟

جواب واضح ہے کہ آٹھ شوال کو دنیا بھر میں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے  یوم جنت البقیع مناتے ہیں ـ

حقیقت میں اس دن آل سعود کے مظالم کا پردہ چاک ہوتا ہے ، انہدام جنت البقیع کے باعث اس کا شرمناک چہرہ اس دن پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوتا ہے، جسے چھپانااب ممکن نہ رہا ـ 
ہر سال یوم بقیع آل سعود اور اس کے نمک خواروں کے لئے آنکھوں کا کانٹا اور گلے کی ہڈی ثابت ہوتا ہے ـ عقل برہان اور منطق سے جب وہ آل سعود کے مظالم کا دفاع نہ کرسکے تو اس سال ٹھیک یوم بقیع کی تاریخ کو انہوں نے اس پرویگنڈے کو سوشل میڈیا پر پھیلایا، خود ساختہ دو ویڈیو کلپ بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کیا مگر ان کو کامیابی نہیں ملی، حالات حاضرہ اور حقائق سے باخبر افراد نے اسے یکسر مسترد کرکے پریپیگنڈہ کرنے والوں کو مایوسی سے دوچار کرایا، البتہ ان کے اس پرویپیگنڈے کو تقویت پہنچانے والے نامی گرامی حضرات کے بیانات پڑھ سن کر ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا کہ کیا قبور کا احترام جائز ہے یا پھر بعض مولویوں  کا عقیدہ بدل گیا ہے ؟