بخدمت جناب آئی جی پنجاب ۔
ڈی آئی جی پنجاب۔
وزیرِاعظم جناب عمران خان صاحب۔
وزیرِاعلی پنجاب عثمان بزدار۔
چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ صاحب۔
آر پی او ساہیوال ۔
ڈی پی او پاکپتن صاحبزادہ بلال عمر صاحب۔
جناب عالی 
گزارش ہے کہ میں مسماة نوشین رانا شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں ۔
5/6/2020رات تقریبا7/15پہ اپنے آفس سے گھر کے لیئے نکلی ملزمان راستے میں تاک لگائے بیٹھے تھے جیسے ہی اپنے گاوُں 33/sp کے قریب پہنچی تو ملزمان نے میری بائیک کو روکا اور ملزمان اسلحہ سے لیس تھے ملزمان نے دست درازی شروع کر دی اسی دوران میرا ہینڈ  بیگ زمین پہ گر گیا ملزمان نے میرے بیگ سے 20000روپے جو کہ اک اشتہار کی رقم تھی میرا اے ٹی ایم اور ضروی کاغذات ویڈیو کیمرا بھی لے گئے۔

میرے کپڑے بھی پھاڑ دیئے اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹاگیا اورٹریفک کی لائٹ دیکھ کر فرار ہوگئے جبکہ موقع کے چشم دید گواہ بھی موجود ہیں۔

ایس ایچ او تھانہ کلیانہ ملزمان کی پشت پناہی کر رہا ہے اور میرے پہ ہونے والے حملہ کو جھوٹا اور بیبنیاد قرار دے رہا ہے ایس ایچ او کا موُقف ہے کہ وقوعہ ہوا ہی نہیں ملزم پاکپتن میں موجود ہی نہیں ملزم گوجرانوالہ میں تھا جب کہ اطلاع دینے جانے والے بندے کی وائس ریکارڈنگ موجود ہے جو ملزم کے ہمسائیوں اور اہلِ علاقہ نے بتایا ملزم غلام مرتضی ادھر ہی ہے۔

کل سے اب کہیں نکلا ہے یہ6/6/2020کی شام کی رپورٹ 6 تاریخ کو دن میں ملزم کورٹ میں پیش ہوا فاخر آفتاب کی کورٹ میں۔

مجھ پر اس ملزم نے پہلے بھی حملہ کیا تھا جس میں اسے 3سال سزا ہوئی تھیاور 50000 کی ضمانت پر ابھی یہ عارضی ضمانت پہ ہے۔

فاخر آفتاب کی کورٹ میں کیمرے کی آنکھ نے کیچ۔تو ضرور کیا ہوگا اس دن کی فوٹیج سے ملزم کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ملزم ریکارڈ یافتہ سزا یافتہ ہے12سال کی بچی کے ریب میں 10سال سزا رہا ہے اور چوری کی واردات میں بھی ملوث ہے جسکے تمام ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔

ایس ایچ او کا ملزمان کی پشت پناہی میرے لیئے نقصان دہ ہے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ایس ایچ او تھانہ کلیانہ سے مجھے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے ایس ایچ او کے سامنے میری دیڈ باڈی ہوتی یا سر پٹھا ہوا ہوتا تو وقوعہ سچ ہونا تھا۔

تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف جلد سے جلد کاروائی عمل میں لائی جائے۔

نوشین رانا

صدر پبلک ویلفیئر سوسائٹی حقوقِ نسواں پاکپتن۔
ڈویزنل ساہیوال بیورو چیف روزنامہ جہاں تاب۔لائٹ نیوز ۔
لیڈی ونگ ڈپٹی بیورو چیف الخدمت نیوز پاکپتن ۔
صدر پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹ پاکپتن۔
بیورو چیف عوام کی آواز نیوز پاکپتن شریف۔