چھابڑی فروش کا سوال 

تحریر   ابو ولی اللہ خان بہاولپور 

اس کی  50 سال سے زائد عمر ہے اتنا جاہل ہے اسے کورونا کا ذرا خوف نہیں اور نہ ہی ایس او پیز کا کوئ خیال,  ہم سارے دوست ایجوکیٹڈ ہیں یونیورسٹیوں سے اعلی تعلیم یافتہ بھی, ہم نے اسے سمجھایا پوری دنیا میں اس وبا سے اتنے انسان مرچکے ہیں اور تجھے خیال ہی نہیں تمہاری وجہ سے کتنے لوگ مر سکتے ہیں ؟ وہ چونکا اور حیرانی سے پوچھا میری وجہ سے ؟

میں نے کہا ہاں تمہاری وجہ سے یہ بیماری پھیل سکتی ہے ماسک استعمال کرو, اور سینیٹائزر بھی ، آپ کو بتاتا چلوں کہ وہ معمولی سا چھابڑی فروش ہے وہ جب بھی گھر کے باہر آکر پاں پاں کی آواز نکالتا ہے تو میرے بچوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں اور میری جیب ہلکی پھلکی ہوجاتی ہے۔

مجھے اس پہ غصہ ہے کہ اس کی وجہ سے میرے بچوں میں کورونا منتقل ہوسکتا ہے، اس لیۓ ہم نے اسے آج سمجھایا ہے لیکن وہ سمجھ نہیں رہا بلکہ کہتا ہے جناب ابراہیم علیہ السلام کو معلوم تھا پھر بھی سمجھوتا نہیں کیا اور جان بوجھ کر آگ نمرود میں کود پڑے, پھر جو ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔

یقین کریں مجھے مذہبی لوگوں سے چڑ ہے یہ ہم ایجوکیٹڈ لوگوں کو سمجھتے ہی نہیں، کہنے لگا  "دنیا میں یہ ہر طرف آگ لگی ہے میرا بھی یقین ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے، میرے بچے بھوک سے مر جائیں گے اور بات بھوک تک محدود نہیں بیٹیوں کی شادی کرنا بہت ضروری ہے اور مکان کی چھت خراب ہے اور چار دیواری بھی ایک طرف سے گر گئی ہے، بیوی کو شوگر ہے انسولین لینی ہے، چھوٹے بیٹوں کے جوتے لینے ہیں اور گرمیوں کے کپڑے بھی، میری تو خیر ہے لیکن بچوں کو موٹے اور گرم کپڑوں میں دیکھ کر برداشت نہیں ہوتا،ملک کے وزیراعظم سے لے کر ہر امیر تو ٹی وی پر گرمی کے موسم میں واسکٹ پہن کر آتے ہیں مجھ سے بچے پوچھتے ہیں کہ وہاں سردی ہے میں انہیں جواب دیتا ہوں نہیں وہ پاکستان نہیں ہے۔۔۔
میں اس جاہل بوڑھے چھابڑی فروش کی بے تکی باتوں سے تنگ آگیا ہم نے 20 روپے کے فالسے لیۓ اور وہ وہاں سے چلا گیا۔

اگلے دن ہم سب پھر اس کے انتظار میں تھے کہ وہ آۓ اور کچھ باتیں کریں, لیکن بہت دیر انتظار کیا جب وہ نہیں آیا تو اس کا نمبر لے کر فون کیا وہ روتی ہوئی آواز سے بولا " پٹرول نہیں میں کیسے آؤں ؟

  آواز اوپن تھی سب نےسن قہقہ لگایا ، ہم نے کال بند کی اور شکر ادا کیا کہ آج کورونا سے جان چھوٹی کیونکہ وہ روزانہ شہر سے ہمارے دیہات آتا تھا اور کوئی احتیاطی تدابیر بھی اختیار نہیں کرتا تھا, یوں ہماری جان کورونا سے چھوٹ گئ ، تین دن بعد وہ وہاں آیا اسے دیکھ کر ہم ہنسنے لگے۔

اس نے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاۓ میں نے ہاتھ کھینچ لیۓ کہ وبا پھیل سکتی ہے، اس نے پھر مذہبی بات شروع کی اور کہا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے کہ مصافحہ کرنے سے گناہ جھڑتے ہیں اور دل صاف ہوتے ہیں محبتیں بڑھتی ہیں، لیکن ہم ایجوکیٹڈ تھے اور عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی بیان کی گئ کسی حدیث پر توجہ نہ دی۔

اس نے پھر ہمیں ان تین دنوں کے متعلق بتایا کہ ہمارے گھر میں دوسرے اور تیسرے دن کا راشن نہیں تھا خشک روٹیوں پر لال مرچ اور نمک ڈال کر گزارا کیا لیکن اللہ کا شکر ہے کسی سے بھیک مانگنے نہیں گیا، کیونکہ میرے نبی کریم ص ہاتھ پھیلانے والے کو ناپسند فرماتے ہیں, لیکن اے ایجوکیٹڈ جوانو  !

تم بھی اور تمہارے حکمران بھی کفار کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اس طرح مسلمانوں کی عزت و احترام تباہ ہوگیا، تمہارے حکمرانوں نے نبی کریم ص کی حدیث کے خلاف کیا ہے اور تم سب بھکاری ہو !

اس کی اس بات پر دل کیا اس کا سارا سامان خراب کردوں، اس نے دو آنسو بہاۓ اور چلا گیا، ہم نے اس کی بیان کردہ کسی حدیث کو سنجیدگی سے نہیں لیا،لیکن اس بھیک مانگنے سے منع کرنے والی حدیث نے ہمارے گریبان جنجھوڑ دیۓ لیکن ہم نے اس حدیث کو سنجیدہ لیا کہ وبائی بیمار سے کیسے دور بھاگنا ہے۔

میرا آپ کو یہی مشورہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات کو سچ مانا جائے،دین تو ہمارے گھر کا ہے ایجوکیٹڈ ہونے کا ثبوت دیں، آپ باہوش ہیں، اگر چاہیں تو ابراہیم علیہ السلام کے پختہ یقین پر ایمان لا سکتے ہیں ورنہ کیا ہوگا، کیا واقعی ہم بھکاری ہیں ؟ ایک چھابڑی فروش کا سوال  ؟

 


افکار و نظریات: چھابڑی فروش کا سوال