اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ہمارے ہاں شادی کرنی ہو تو ذات پوچھی جاتی ہے لیکن جب خون کی بوتل کی ضرورت ہو تو کبھی بھی ذات پات کی قید نہیں لگائی جاتی، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے!؟ ہندوؤں میں نچلی ذات کے شودر لوگوں کو اچھوت (untouchable) کہا جاتا ہے۔ اچھوت وہ انسان ہیں جن کے چھونے سے دوسرے انسان پلید اور گندے ہوجاتے ہیں”۔ ذات پات دراصل سماجی تقسیم ہے جو ایک ہی طرح کے انسانوں کو اونچی نیچی ذاتوں میں الگ کرتی ہے۔ جہاں کوئی برتر ہے اور کوئی بدتر۔ شہری آبادی کو مختلف نوع کے مسائل درپییش ہوئے۔ ان مسائل سے نبٹنے کے لئے امداد باہمی کے تحت لوگوں میں کام بانٹ دیئے گئے۔ جسیم اور طاقتور افراد جنگ اور حفاظت کرنے والے ہوئے، ہنر مندوں کو ان کے ہنر کے موافق کام سونپے گئے۔ عورتوں کے ذمے خانہ داری تو تھی ہی اب اضافی ذمہ داری کھیتوں کی دیکھ بھال کی تھی۔ یہ تقسیم رضاکارانہ تھی۔ کوئی کام اچھا برا نہ سمجھا گیا نہ کام کرنے والوں میں اونچ نیچ تھی۔ (اس مضمون۔ کی تیاری میں ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب \’ اچھوت لوگوں کا ادب \’ اور ارون دھتی رائے، ڈاکٹر امبیدکر کے مضامین سے مدد لی گئی ہے
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

دنیا کے سبھی خطوں میں طبقاتی تضاد موجود ہے، کہیں پہ یہ تقسیم مذہبی ہے، کہیں ثقافتی، کہیں سماجی ہے۔
مگر ہر جگہ معاشی عنصر بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تقسیم ایک دم نہیں ہوئی بلکہ ہزاروں سالوں پہ محیط بتدریج عمل کا ماحصل ہے۔ ہم مختصراً جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔
تاریخی طور پہ زرعی سماج کے ساتھ نجی ملکیت کا تصور آیا۔ جو طبقاتی تقسیم کی بنیاد بنا ہے۔ ”زرعی سماج میں انسانوں کے درمیان پہلا عمرانی معاہدہ ہوا جس میں انہوں نے اپنے انفرادی حقوق اجتماعیت کے سپرد کر دیئے اور اقتدار اعلی ایک مخصوص گروہ کو سونپ دیا گیا”. (روسو۔ \”معاہدہ عمرانی\” )
زراعت کی دریافت نے انسانی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ مختلف نسل کے انسانی گروہ عمرانی معاہدے کے تحت ایک جگہ آباد ہوئے۔ شہروں کی بنیاد پڑی۔ غاروں، جنگلوں میں رہنے والے کچے پکے مکانوں میں رہائش پذیر ہوئے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہنر پیشے کی صورت اختیار کر گیا۔ پیشہ سماجی شناخت بن گیا۔ اور سماجی تضاد گہرا ہوتا چلا گیا۔ طبقاتی تقسیم میں نجی ملکیت کا ہمیشہ بنیادی کردار رہا ہے۔
فریڈرک اینگلز نے اسے یوں بیان کیا ہے
\”ذاتی ملکیت سے دولت کا فرق بڑھتا ہے۔ دوسروں کی محنت کی طاقت کو استعمال کرنے کا امکان بڑھتا ہے۔ اور اس طرح طبقاتی تضاد کی بنیاد تیار ہوتی ہے” (بحوالہ اردو ایڈیشن \’ خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز )
آغاز میں ذات پات کا تصور معاشی بنیادوں پہ استوار کیا گیا، بعد میں اسے مذہبی، سماجی، ثقافتی بنیادیں فراہم کی گئیں۔ اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ خطوں میں خالص ذات کی برتری کا تصور معدوم ہوچکا ہے۔ پس معاشی سرگرمیاں ہی انسانوں میں اونچ نیچ کا تعین کرتی ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں ذات پات کا قدیمی نظام سرمایہ کی ٹھوکروں سے شہری علاقوں میں آخری سانسیں لے رہا ہے مگر دیہی علاقوں میں ذات پات کا تصور موجود ہے۔
ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں \”متحدہ ہندوستان میں ذات پات کا تصور وسطی ایشائی آریاؤں اور راجپوتوں کی آمد سے آیا۔ ہندوستان کے قدیمی باشندے کوتاہ قامت اور سیاہی مائل رنگت رکھتے تھے۔ آریا فتح سے ہمکنار ہوئے تو انہوں نے مقامی لوگوں کو رنگت کی بنیاد پہ خود سے کمتر گرداننا شروع کیا۔ \” ہندوؤں میں یہ تقسیم مذہبی بنیادوں پہ ہے۔ ویدوں، پرانوں نے انسانوں میں بری تقسیم کی ہے۔
مشہور لکھاری ارون دھتی رائے کہتی ہیں \”ہندوستان میں لگ بھگ چار ہزار ذاتوں کا وجود ہے۔\” ہندو سماج چار بڑی ذاتوں برہمن، کھشتری، ویش، شودر میں تقسیم ہیں۔ اور اس مذہبی تقسیم کو سماجی، ثقافتی سطح پہ بھر پور قبولیت حاصل ہے۔ اوپری اور نچلی ذاتوں میں سماجی روابط نہایت محدود ہیں۔
ہمارے ہاں ذات برادری کا تصور سماجی ثقافتی سطح پہ موجود ہے۔ہندوؤں کے ویش ہمارے ہاں لوہار،بڑھئی۔ کمہار، جولاہا(پولی)، ماچھی، نائی، تیلی(چاکی) جاتیوں میں کمتر مانے گئے۔ہندوؤں کے شودر ہمارے ہاں بھنگی، کٹانے، پرہار، کہلائے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں اور عرب سے آئے لوگ سید کہلوائے جانے لگے۔ اور ابھی تک خود کو مقامی لوگوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ اور مقامی لوگوں سے شادی بیاہ کو معیوب سمجھتے ہیں۔ یہ امتیازی رویہ آفاقی مساوات کا رد ہے اور قابل مذمت ہے۔
افکار و نظریات: ادنی ذات کا خون
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں