1931 ے جاری تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد کو ایک صدی مکمل ہونے کو ہے اور اب کشمیر کی چوٹھی نسل اجتماعی قوت کے ساتھ اس کو منطقی انجام کی طرف لے جارہی ہے ۔

 قومی تاریخ کے اس فیصلہ کن مرحلے پر مزاحمتی عسکری محاذ سے لے کر قلمی محاذ تک ہر کوئی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے قرار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری کشمیر کے درد مند دانشور ہیں جنہیوں نے اپنی تحقیقُ جستجو کی عادت اور کشمیر کے المناک حالات کے گہرے دکھ میں ڈوب کر مقدمہ کشمیر کو ٹھوس بنیاد پر اٹھایا ہے اور ہر فورم پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں ۔

 گز شتہ برس2016میں سٹریٹیجک سٹیڈیز اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر جناب عبدالرشید ترابی کی طرف سے منعقد کی گئی ایک کشمیر کانفرنس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے منشورمیں درجChapter 7 پر عملدرآمد کروانے پر زور دیتے ہوئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ۔

 اس وقت اس ادارے کے ڈایریکٹر جنرل موجودہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان تھے۔ اس کانفرنس میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن سنیٹر راجا ظفر الحق ، سنیٹر لفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ اورحریت کانفرنس کے تمام سینیئر قائدین شامل تھے ۔

ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنے فکر انگیز مکالہ میں اقوام متحدہ کے منشور میں سے ایک اہم نقطہ نکال کر مقدمہ کشمیر کے لیے ایک طاقتور دلیل مہیا کی ہے۔ جس کی تفصیل انہوں نے اپنی کتابThe Plight of Kashmir میں لکھی ہے۔

 ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنی دلیل کو مربوط کر کے تمہید کے طور پر اقوام متحدہ کےChapter 6 سے استفادہ کیا ہے جس پر پاکستان کی طرف سے خلوص کے ساتھ عمل ہو رہا ہے اور ہندوستان بھی اس کا فریق ہے۔ Chapter 6

کے نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ یہ کہ اقوام متحدہ کے دو ممبر ممالک جو کسی باہمی تنازعہ کی وجہ سے متحارب پوزیشن میں آچکے ہوں تو انہیں چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے عالمی امن کا احترام کرتے ہوئے اپنا تنازعہ باہمی مشاورت اور آپس میں مذاکرات سے حل کریں۔
۲۔ دونوں متحارب ممالک قیام امن کی خاطر اگر چاہیں تو کسی تیسرے ملک کو ثالث مقرر کر سکتے ہیں۔
1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد وزیر اعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو اور وزیراعظم ہندوستان مسز اندرا گاندھی کے درمیان شملہ معاہدہ میں مسئلہ کشمیر کے متعلق جو معاملات طے کئے گئے وہ اس وقت کے ماحول اور حالات میں اقوام متحدہ کے Chapter 6 کے مطابق طے کیے گئے تھے۔ دو باتیں انتہائی اہم ہیں۔
الف)شملہ معاہدہ کے مطابق اشارۃً بھی اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر سے متعلق منظور کردہ قراردودوں سے منحرف ہو رہا ہے۔
ب) شملہ معاہدہ میں پاکستان کی طرف سے مقدمہ کشمیر کو اقوام متحدہ سے واپس لینے کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے حل کریں گے۔ اس طرح بھارت نے اقوام متحدہ کےChapter 6 کے مطابق پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو تسلیم کیا ہے۔
اس لیے پاکستان اور کشمیر کے دانشوروں ، اہل قلم اور پالیسی سازوں کو اس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ شملہ معاہدہ کسی طور پر ان کی راہ میں حائل نہیں ہے۔
پاکستان اس لحاظ سے اپنے مئوقف پر مضبوط استدلال اور حقیقت پسندی کے ساتھ کھڑا ہے۔ معاہدہ شملہ کے بعد حکومت پاکستان نے ایک طویل عرصۃ تک باہمی مشاورت سے مسئلہ کو حل کرنے کا انتظار کیا۔ حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم ہندوستان اٹل بہاری واجپائی نے اقوام متحدہ کے Chapter 6 کے مطابق باہمی مشاورت سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی طرف قدم آگے بڑھایا لیکن انتہا پسند عناصر نے گڑبڑ کر دی۔
اس مثبت کوشش کی ناکامی کے بعد حالات مسلسل خرابی کی طرف ہی جاتے رہے۔ میاں محمد نواز شریف نے 2013 میں وزیراعظم کا حلف لینے کے بعد اقوام متحدہ کےChapter 6 پر دوبارہ پیش رفت کی کوشش کی تاکہ دونوں ممالک کی ایک ارب سے ذائد آبادی کو جنگ کے ہولناک نتائج سے محفوظ کرنے کے لیے اس سنگین مسئلہ کا پر امن حل باہمی مشاورت سے تلاش کیا جا سکے ۔

 اس نیک نیتی اور امن پسندی کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کو داخلی سیاسی ماحول میں نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔ لیکن ہندوستان کی مسلسل ہٹ دھرمی ، عوامی سطح پر بی جے پی حکومت کی سرپرستی میں انتہا پسند انہ سوچ اور فرقہ وارانہ تعصب کا غلبہ جس کے نتیجہ میں بھارت کی اقلیتیوں بالخصوص مسلمانوں کو بری طرح تحتہء مشق بنایا جا رہا ہے۔

 اس کے رد عمل کے طورپر کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر پورے جوبن پر پہنچ کر برہان وانی کی شہادت کے بعد فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور کشمیر دن بدن دونوں ملکوں کے درمیان ایک آتش فشاں کا روپ دھار رہا ہے۔

 ان حالات میں حکومت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر کسی بڑی جنگ اور بدترین انسانی المیہ سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کے Chapter 7 کے تحتOIC ( اسلامی ممالک تنظیم) کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے سیاسی حکمت عملی سے بین الاقوامی سطح پر پیش رفت کرے۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔Chapter 7 کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ اگر دونوں متحارب ملکوں میں سے کسی ایک کی جارحانہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ہو اور عالمی امن دائو پر لگ جائے تو پھر اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پر رائے شماری کا اہتمام کرائے۔
2۔ تنازعہ پر رائے شماری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تین ماہ کے اندر کرائی جائے۔
3۔ بصورت دیگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے انحراف کی صورت میں یو این کے تمام ممبر ممالک جارح ملک کا سفارتی اور اقتصادی مقاطعہ کریں۔
4 ۔اگر جارح ملک پر امن طور پر قضیہ حل کرنے کے لیے کسی طور پر امادہ نہ ہو تو پھر اقوام متحدہ کے لیے لازم ہے کہ NETO کی فوجوں کی طرز پر یواین اوکی فوج کے ذریعہ جارح ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرے۔
حکومت پاکستانChapter 7 کے تحت کارروائی کے مطالبہ پر سو فیصد حق بجانب ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر پر دونوں ملکوں کے درمیان تین ہولناک جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں دونوں طرف کے ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ حالات چوتھی جنگ کی طرف تیزی سے بد سے بدتر ہو رہے ہیں لیکن اب کی بار ایٹمی جنگ ہو گی اور کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ جنوب مشرقی ایشیاء میں غربت اور بدحالی کی وجہ ان دونوں بڑے ملکوں کے درمیان معلق مقدمہ کشمیر ہی ہے جو تمام مسائل کی ماں ہے۔

اب آزاد کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو بھی مقامی سیاست کے بجائے بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سے کشمیری قوم اور پاکستان کے دانشوروں نے بڑی امیدیں وابستہ کی تھیں لیکن ڈاکٹر مقصود جعفری کا بے قرار تجسس ان کا سب کارپردازوں کا تعاقب کرتا رہا۔

 انہوں نے ایک محفل میں ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے باب 7 سے متعلق پیش رفت کی ہے تو انہوں نے کہا کہ سابق سیکرٹری جنرل یو این بان کی مون سے اس سلسلہ میں زبانی بات چیت کی تھی لیکن اتنے بڑے منصب پر مقدمہ پیش کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے۔

آج تک یہی ہوتا آیا ہے کہ ہمارے اعلیٰ سطح کے وفود بیرون ملک جاکر غیر اہم شخصیات اور نچلی سطح کے آفیسران سے ملاقات کر کے میڈیا کے لیے بیان جاری کر دیتے ہیں اور یورپ امریکہ اور اقوام متحدہ کو پون صدی سے نصیحتیں اور دہایاں دے رہے ہیں کہ فی سبیل اللہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائو۔

دوسری طرف پرائیویٹ چینلز نے کشمیری شہداء کا گویا رجسٹر حاضری کھول رکھا ہے اور روزانہ خبر نامے میں کشمیریوں کے سر وں میں اضافے کی گنتی ہوتی رہتی ہے۔ طبقہء بالا کا یہ رویہ اب تبدیل ہونا چاہیے ۔

 فوجی سیاسی جما عتوں میں اگر کشمیر کے مسئلہ پر اتحاد ہے تو اس کی عملی صورت بھی نظر آنی چاہیے۔ریاست جموں و کشمیر میں قتل عام کے طویل عرصے کے دوران وطن عزیز میں غیر اہم اور غیر عوامی معاملات کو جس طرح انگیخت کر کے کشمیر کے مسئلہ کو دبایا جا رہا ہے اس ماحول میں کشمیریوں کے مصائب اور آزمائشوں میں صبر آزما اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ پاکستانی عوام کے ساتھ بھی ذیادتی ہے جن کے دل اہل کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور جن کا لہو بھارتی چنگیزیت کے خلاف کھول رہا ہے۔

 آزاد کشمیر کے اکابرین کو بھی احساس ہوناچاہیے کہ ہر حکومت کے حلف لیتے ہی بیرون ملک وفود کی آنیاں جانیاں کرنے سے اس قدر سنجیدہ اور بین الاقوامی سطح پر دھماکہ خیز مقدمے کا فیصلہ آپ کے حسب منشاء حل ہونے کی کوئی صورت نہیں بن سکتی۔

اس کے لیے پوری تیاری اور عرق ریزی کے ساتھ اقوام متحدہ کے Chapter 7 کے تحت انتہائی محتاط انداز میں دستاویزی قرار داد پیش کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے قبل سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم عالمی پلیٹ فار م پر مقدمہ جیتنے کے لیے سفارتی محاذ پر کس قدر حمائت حاصل کر سکتے ہیں ۔

 آزاد کشمیر کی حکومت عملاًاسلام آباد کے کشمیر ہائوس تک محدود ہے یا پھر من پسند تقرریوں ، تبادلوں اور کرّوفر میں مشغول ہے۔ لیکن تحریک آزادی کشمیر اب یا کبھی نہیں کے آخری فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ تحریک کشمیر کا بیس کیمپ کب اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرے گا ؟ یہ سوال کشمیر کے بچے بچے کے دل و دماغ میں کلبلا رہا ہے۔

بشکریہ:۔ http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/22-Apr-2017/592151


افکار و نظریات: مسئلہ کشمیر کا آخری حل ۔۔۔میرے مطابق