تھر پیاسا ہے
 محمد صفدر ٹھٹوی

پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ انسان پانی کے بغیر زیادہ دن نہیں گزار سکتا۔ پانی زندگی ہے‘ پانی ہے تو جہاں ہے اور یہ قدرت کی نعمت ہے۔ قدرت کا ہماری زمین پر انسان و نباتات اور دیگرحیوانات وغیرہ ان سب کا وجود پانی کے دم سے ہے۔ ۔ جیسا کہ لوگوں کو زندہ رہنے کیلئے پانی‘ صاف پانی درکار ہوتا نہیں۔ 
پانی کی اہمیت کا وہاں اندازہ ہوتا ہے جہاں پانی قطرہ قطرہ کرکے جمع ہوتا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ اس طرح جہاں پانی کی کمی ہے وہاں کے لوگ بہتر جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔

انسانی جسم کا دوتہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے اور پانی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں۔۔
  ننگر پارکر ایک  گائوں راڑکو میں پانی کی تلاش میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ جب چار دیہاتی مزدور پانی کے لئیے کھودے گئے کنویں میں مٹی دلے دب کر جان کھو بیٹھے۔

اس طرح کے افسوس ناک واقعے   تھر کی سر زمین  میں پانی کی تلاش میں پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ تھر کے پیاسے لوگوں کی پانی کے لئے کشمکش دن رات جاری رہتی تھی۔ پانی کی خاطر تھر کی عورتیں بچے تپتی گرمی میں صحرا کی خاک چھانتی دکھائی رہتی ہیں۔
   ملک بھر میں گرمی کی شدید لہر اگرچہ ایک قدرتی امر اورمعمول کی بات ہے تاہم کرہ ارض پرایسے ممالک بھی ہیں جہاں اس سے بھی زیادہ درجہ حرارت ہوتا ہے لیکن منصوبہ بندی کے تحت اٹھائے گئے پیشگی اقدامات اس مشکل سے نکلنے میں بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں جس سے جانی ومالی نقصان کم سے کم بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

پاکستان میں گرمی کاموسم انتہائی شدید ہوتا ہے تاہم مجموعی لحاظ سے70برسوں میں پانی کے ایسے بحران کاکبھی سامنا نہیں رہا جواس وقت درپیش ہے اورحالات مزید سنگینی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

موسمی تغیرات سے خطے میں زیرزمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گررہی ہے اورموسمی اداروں کی اطلاعات کے مطابق آنے والے برس ایک کڑے امتحان سے کم نہیں ہوں گے۔موجودہ حالات میں ملک کے تھر جیسے علاقے پانی کے انتہائی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
  قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعد ازاں ’’مہرانوں نہر‘‘ کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر ’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی، جسے 17 ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا، جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا۔

تھر کے مقامی لوگ ’’کرنل تھروٹ‘‘ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے، جہاں سے عام لوگوں کو پانی دست یاب ہوتا۔

آج کل تھر پیاسا ہے۔  حکمران آج بھی پانی کی سیاست میں مصروف ہیں۔ اپنی زرعی زمینوں کو ہر حال میں پانی دیا جاتا ہے جبکہ تھر کی زندگیوں کو بچانے کے لئے کوئی پانی نہر کھودی نہیں جا سکتی۔ 
  گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی تھر میں بارشیں بہت کم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں خوارک کی فراہمی نہ ہو سکی اور نہ ہی تھر کے باسی پوری طرح فصل کاشت کرسکے۔

جو تھوڑی بہت فصل ہوئی اس پر بھی ظلم یہ ہے کہ فصل کی جو قیمت لگ رہی ہے اس میں اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ جنہوں نے مانگ تانگ کے بیس تیس ہزار اس آس پر اپنی زمینوں پر لگائے کہ اور نہیں تو سال بھر کی جوار ہی مل جائے گی جو زندگی کی سانسیں ٹوٹنے نہیں دے گی ان کی فصل دس پندرہ ہزار سے زائد کی نہیں بک رہی۔

تھر میں حال ہی میں خودکشیوں کے رجحان میں خطرناک اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ غذائی قلت اور لوگوں کی ضروریات زندگی کا نہ پورا ہونا ہے۔ صاف پانی کی تو پہلے ہی شدید کمی ہے۔

اگر حکومت صرف تھر میں صاف پانی کی فراہمی ہی یقینی بنا دے تو صحت کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں لیکن تھر میں لگے RO پلانٹ بھی بند پڑے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ایسے میں تھر میں صرف موت کا کنول کھلتا ہے جو روزبروز کھل رہا ہے۔
 ایک میڈیا  رپورٹ کے مطابق تین کروڑ روپے سے زائد کی مالیت سے جاری اس منصوبے کے تحت زیرِ زمین پانی صاف کرنے کے لیے دیہاتوں میں سات سو پچاس فلٹر پلانٹ لگائے گئے تھے۔ جو ناکام ثابت ہوئے۔ تھر کو پانی فراہم کرنے کے نام پر بھی کرپشن کی گئی۔ غیر معیار پلانٹ لگائے گئے۔ تھر کے لوگ اسی طرح پانی کی تلاش میں صحرا کی ریت پر زندگی پگلا رہے ہیں۔  تھر پاکستان کے 120 اضلاع میں پانی کی کمی کے حوالے سے  سب سے نیچے آتا ہے۔


email. ms.thatvi@gmail.com  
W ap. 03212477511

 

 


افکار و نظریات: تھر پیاسا ہے