حسینی کون ہیں اور وہ کیوں بخشے جائیں گے!

عبدالمناف غِلزئی
دنیا میں دو قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں ، ایک وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات بغیر کسی بنانے والے کے ازخود اتفاقاً وجود میں آگئی اور بغیر کسی چلانے والے کے خودبخود کئی کھرب سالوں سے چلتی آرہی ہے، یہ مادیت کا نظریہ ہے اور اس کے ماننے والے مادہ پرست کہلاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس نظریہ کے ماننے والے بھی کم نہیں جو اس کائنات کی تخلیق صرف از طرف خالق یا خدا ہی کے ارادے اور قدرت سے ماننتے ہیں اور جو تمام دنیاؤں کا، عالمین کا پالنے والا، چلانے والا یعنی رب ہے، ہم انہیں دین پرست کہیں گے۔
دوسرے نظریے کے ماننے والوں کی دو اقسام ہیں، ایک وہ جو کئی خداوں کے وجود کے قائل ہیں جنہیں مثلاً مشرک کہا جاتا ہے مگر دوسرے کہتے ہیں کہ ایک سے زیادہ خداوں کا عقیدہ غیر معقول ہے کیوں کہ مثلاً اس طرح کائنات میں نظم و نسق کی بجائے بے ترتیبی اور ژولیدگی کا پیدا ہونا لازم ہوجائے گا، جو بالآخر بہت کم عرصہ میں کائنات کی مکمل تباہی کا باعث ہوگی یعنی کائنات کا وجود ازخود دلیل ہے کہ چلانے والا ایک ہی ہے، یہ خداپرست کہلاتے ہیں۔
ان دوسرے قسم کے لوگوں میں دو طرح کی سوچ رائج ہے، ایک یہ کہ کسی خالق کا وجود تو تسلیم ہے مگر خالق کا کام صرف تخلیق کرنا ہی تھا، ہمیں تخلیق فرما کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہے اور اب خدا کا اس دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہمیں عقل عطا فرما دی گئی ہے اور ہم نے اپنی راہیں خود تلاش کرنی ہیں یعنی ہمیں کسی ہادی کی ضرورت نہیں، ان میں سے کچھ اس خدا کی تصوراتی شکلیں اور مجسمے بنا کے ان کی پرستش کرنے لگے، پھر اس ایک خدا کے عقیدے میں مزید چھوٹے خداؤں کا اضافہ بھی کردیا گیا، ہم انہیں ان کے انکار کی وجہ سے کافر کہیں گے، اس کے مقابلے میں ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ خالق و مالک نے ہماری ہدایت کے لیے پیغمر مبعوث فرمائے جن کی وساطت سے انسانوں کو عقائد کے اصول اور زندگی گزارنے کے قوانین تعلیم فرمائے۔
پیغمبروں پر ایمان رکھنے والوں میں دو طرح کے خیالات رائج ہوئے ایک وہ جو تمام انبیأ اور پیغمبروں کو مانتے ہیں اور ان سب کا آخری حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تصور کرتے ہیں جبکہ ایک جماعت نے حضرت موسیٰ پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بطور نبی تسلیم کیا۔
ان میں دو طرح کے گروہ بن گئے، ایک وہ جو حضرت عیسٰیؑ کو آخری نبی کہنے لگے اور دوسرے وہ جنہوں نے حضرت عیسٰیؑ ہی کے فرامین کے مطابق (مثلاً: نیا عہد نامہ، یوحنا، ب 14، آیت 30) ان کے اس دنیا سے روپوش ہوجانے کے بعد ان جہانوں کے سردار کی تلاش شروع کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود مبارک میں وہ تمام نشانیاں پا لیں اور ان پر ایمان لے آئے، یہ مسلمان کہلائے۔
ان مسلمانوں میں دو طرح کے نظریات رائج ہو گئے ایک وہ جو اس بات کے معتقد ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد امت کی راہبری کی ذمہ داری کسی کےسپرد نہ کی بلکہ آپس میں صلاح مشورہ ہی کو حق کی کسوٹی قرار دیا، جب کہ دوسرے اس بات کو مانتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش ہی سے خدا تعالیٰ کی جانب سے ایک ہادی، راہبر، ناجی اور معلم کے بغیر انسانوں کو نہیں چھوڑا تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد بھی نہ تو یہ ضرورت ختم ہوئی اور نہ ہی انسان کی فطرت بدل گئی۔


پہلی بات کو ماننے والے نبی اکرم ؐ کا خاتم النبیین ہونا دلیل مانتے ہیں کہ اب پیغام پورا ہوگیا اور ہادی کی ضرورت نہ رہی جبکہ دوسروں کی دلیل یہ ہے کہ گمراہ کرنے کی طاقت یعنی شیطان کے وجود، انسانوں کی فطرت میں شیطانیت پر مائل ہونے کے عناصر اور اس مکمل شدہ پیغام اور دین کی حفاظت کے لیے انسانوں کی کسی ایک خدائی راہبر کی محتاجی کی بنا پر انسانیت کو بغیر ہادی کے چھوڑ دینے کو عدلِ الہٰی کے خلاف ہے اور قرآن کے مطابق

(مثلاً: سورۃ الرعد، آیۃ 7 وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ)

ہر قوم کے لیے ایک ہادی و راہبر کے وجود کو لازم قرار دیتے ہیں۔

بطور ثبوت نبی اکرم کی حدیثِ مبارکہ پیش کی جاتی ہے کہ آنحضرتؐ اپنے بعد سب مسلمانوں کی ہدایت و نجات کے لیے قرآن اور اپنے اہلِ بیت علیہم السلام کو چھوڑ کر گئے

(مثلاً: صحیح المسلم۔ ج 6، کتاب الفضائل، ص106۔103)۔


یہاں سنی شیعہ کی بحث ہماری منشأ نہیں بلکہ مقصدِ عرض صرف یہ ہے کہ اپنے اپنے زعم میں خود کو جنت کا حقدار سمجھنے والوں کے سامنے یہ نکتہ رکھا جائے کہ حصولِ جنت صرف عقائد ہی پر منحصر ہرگز نہیں عقائد بنیاد ہیں، اصول ہیں اور اعمال ان بنیادوں پر تعمیر ہونے والی عمارت ہے، عقائد کے اصولوں پر یعنی ان جڑوں سے پرورش پانے والے اعمال فروع یعنی شاخیں ہیں، اس درخت یا عمارت کی تکمیل ہی دین کہلاتی ہے جو فقط اسلام ہی ہے

(مثلاً: سورۃ آل عمران، آیۃ 19)۔

درج بالا تمام نظریات کے ماننے والےصرف اپنے ہی مسلک کو حق پر سمجھتے ہیں، اپنے ہی نظریہ کو درست گردانتے ہیں۔ معقول بات یہ ہے کہ ہر ایک درست نہیں ہوسکتا، عقل اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتی کہ حق ایک سے زیادہ ہوں، ہم ایک خاص وقت اور صورتِ حال میں مثلاً خون کا رنگ نیلا، پیلا، کالا وغیرہ نہیں بتا سکتے سچائی صرف ایک ہی ہوگی کہ خون لال یعنی سرخ رنگ کا ہوتا ہے، اور بس۔
ان غلط فہمیوں کی بنیادی وجہ اپنے آبا و اجداد کی طرف سے ملنے والے نظریات کو بغیر تحقیق و موازنہ کے درست مان لینا ہے۔

اوپر بیان کردہ تمام عقائد و نظریات کے ماننے والوں کا یہی اسلوب ہے، کچھ لوگ دنیاوی عیش و آرام کے حصول کی بنا پر الحاد کو درست سمجھتے ہیں، درحقیقت انہوں نے بھی اپنی تحقیق صرف اپنی دنیاوی سہولتوں تک ہی محدود کی ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور بہت بڑی روکاوٹ قبل از وقت رائے قائم کرلینا ہے یا پہلے ہی سے قائم کی ہوئی رائے کی اساس پر مطالعہ و تحقیق کرنی ہے، اسی طرزِ عمل کو بہ الفاظِ دیگر تعصب کہتے ہیں اور انسانوں کی اکثریت ان مذموم افکار کا شکار ہوتی ہے۔
اب تک کی بات چیت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شروع ہی سے انسان کی سامنے دو راستے رہے ہیں ایک حکمِ خدا کے مطابق اور دوسرا اس کے خلاف، شیطان ہمیشہ انسانوں کو اس دوسرے راستے پر اکسانا چاہتا ہے

(مثلاً: سورۃ الحجر، آیۃ 39)

راۂ راست پر مڑجانے والے اگر چہ تبریک کے مستحق ہوتے ہیں مگر چند قدم چلنے کے بعد پھر ایک دوراہا سامنے ہوتا ہے، شیطان پھر ایک نئے موقع اور نئے حالات کے مطابق ایک نیا شک، ایک نئی لالچ، نئی گمراہی لے کر پہنچ جاتا ہے۔ خوش قسمت وہ ہوتے ہیں جو دوبارہ درست راہ منتخب کرلیتے ہیں مگر اس راہ کا سفر بھی صرف چند قدم یا کچھ زیادہ ہوتا ہے کہ شیطان سے زیادہ مستعد، چوکس، فرض شناس اور چوکنا سوائے مخلصین کے اور کوئی نہیں دیکھا گیا (مثلاً: سورۃ الحجر، آیۃ 40)۔
مطلب یہ کہ خدا کے وجود کو مان لینا جنت جانے کی قطعاً کوئی ضمانت نہیں کیوں کہ خود ابلیس اللہ تعالیٰ کے وجود کا شاہد تھا اور بہت بڑا عبادت گزار تھا۔

مطلب یہ ہوا کہ اللہ کو ماننے اور اس کی عبادت کی کچھ شرائط ہوں گی جو اس نے پوری نہ کیں۔ اسی طرح انبیأ علیہم السلام کو مان لینا ہرگز کافی نہیں، بقول اقبالؔ ؒ :۔

خرد نے کہہ بھی دیا ’لا اِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

:اختصار کے پیشِ نظر عرض ہے کہ
نمبر ۱: پہلے جاننا اور سمجھنا چاہیے کہ خدا کو ماننے کی وجہ کیا ہے؟ خدا کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ کیا صرف والد صاحب کے کہنے پر مان لیا؟ یا استاد جی نے بتایا تو ہم نے تسلیم کر لیا یا شاید مولوی صاحب کا خطبہ اثر کرگیا؟

کسی بھی عقیدے کے لیے یہ وجہ کافی نہیں۔ اس کے بعد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کن وجوہات کی بنا پر کیا ؟ کسی کے کہنے پر آپ ؐ کو آخری نبی اور اللہ کا حبیب مان لیا یا ہمارے پاس کوئی دلیل بھی ہے جو ہم مثلاً کسی عیسائی کے سامنے پیش کر سکتے ہیں؟ اسی لیے کہتے ہیں کہ ’’ایمان بنا بر دلیل واجب ہے‘‘ یعنی کوئی ایسا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں جس کی ہمارے پاس دلیل نہیں یعنی ہم اس عقیدے پر قائل ہی نہیں۔
نمبر ۲: جب لا الہ الا اللہ کہا اور بے شک دلیل کے ساتھ مان کر کہا مگر یہ کہنا اس وقت تک قابلِ قبول نہ ہوگا جب تک دل سے اسے تسلیم بھی نہ کرلیا اور جو دل سے یہ کلمہ کہہ دیتا ہے کہ ’’کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے‘‘ تو وہ اس معبود واحد کی عبادت بھی انتہائی شوق، رجحان اور رغبت کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی دلیل رکھنا اور دل سے کہنا شعور کے دو الگ درجات ہیں، یعنی جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دل سے رسول جانتا ہے وہ آپ کی رسالت کو بھی مانتا ہے اور اس کو سیکھنے، سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی پوری سعی بھی کرتا ہے، یعنی عمل کے بغیر صرف عقیدے کا ہر دعویٰ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہ ہوگا۔
قرآن مجید میں کئی بار اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کا حکم آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا حکم ماننا کافی ہوگا ؟

اگر کوئی 50 فی صد مانتا ہو اور باقی آدھا چھوڑ دے تو کیا یہ کافی ہے؟ یا شاید 75 یا پر 90 فیصد؟ تو عام فہم بات ہے کہ حکم 100 فیصد ہی کا ہے یعنی جان بوجھ کر ایک ذرہ سابھی چھوڑنے کی اجازت نہیں مگر نادانستگی یا عذر پر یقیناً معافی ہوسکتی ہے۔
اب اگر ہم دین اسلام اور اس کے مختلف مذاہب کو دیکھیں تو ہمیں اس گلدستے میں مختلف رنگ کے پھولوں کی تین وجوہات نظر آتی ہیں۔

پہلی یہ کہ مختلف انسانوں نے الگ طبیعت، علم کے مختلف درجات، ارادہ، ذہنی استطاعت وغیرہ میں کمی بیشی کی بنا پر ایک ہی بات کو مختلف انداز سے سمجھا اگر چہ نیت ہر ایک کی نیک ہی رہی ہو مگر بات میں فرق پھر بھی آگیا۔

دوسری وجہ کہ بنی اکرم ؐ کے چند احکام جان بوجھ کر اپنی ذاتی خواہش یا مالی نفع نقصان یا پسند اور ناپسند وغیرہ کی وجہ سے چھوڑ دیے گئے ۔

تیسری وجہ وہی کہ مطالعہ، تحقیق اور موازنہ کی زحمت میں پڑنے کی بجائے جیسا سنا ویسا ہی تسلیم کرلیا۔
اگر شعور کی اس نچلی سطح کو عبور کرکے ذرا اوپر سے معاملہ کا جائزہ لیں اور مختلف افکار اور عقائد کا منصفانہ اور غیر جانبدارانہ موازنہ کریں اور ساتھ ہی خداوندِ کریم کی بارگاہ میں ہدایت طلبی کی مخلصانہ التجا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ حق عیاں نہ ہو۔ ہر مسلمان ہر روز اپنی پانچ نمازوں کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کی آیت نمبر 6 کی بھی تلاوت کرتا ہے اور کہتا ہےکہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی یا اللہ ہمیں سیدھے رواستہ کی ہدایت فرما، اور سورۃ البقرہ کی آیت 186 میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے تو اللہ اس کی سنتا بھی ہے اور جواب بھی دیتا ہے تو تمام مسلمانوں کو اُسی ایک ہی راستہ پر ہونا چاہیے تھا جو سیدھا ہے، پھر اتنے رنگا رنگ مسالک و مذاہب کیوں؟
یہاں مقصد نہ تو کسی ذات پر تنقید ہے اور نہ ہی کسی خاص مسلک کی تائید یا تکذیب، بلکہ قارئین کو دعوتِ فکر ہے اور فیصلہ ہر ایک کا اپنا۔ ہم رحلتِ رسول اکرمؐ کے صرف پچاس سال بعد کے واقعات کو دیکھیں گے۔

بہت سے مسالک اس بات سے منع فرماتے ہیں کہ تاریخ کو مت دیکھو، یہ گمراہی کی طرف لے جاتی ہے وغیرہ مگر سوال یہ ہے کہ کیوں؟

تاریخ میں وہ کون سی چیز پوشیدہ ہے جو آج چودہ سو سال بعد ہمیں گمراہ کردے گی؟

اگر گمراہ کرنا ہی تھا تو اس زمانے کے مسلمانوں کو کرتی جو اصحابِ رسولؓ تابعینؒ اور تبع تابینؒ کا زمانہ تھا یا تو وہ لوگ بھی گمراہ ہوئے یا ہم بھی نہ ہوں گے۔
ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح چند خاص عقائد اور چند خاص لوگوں کے دفع کے لیے مطالعہ اور تحقیق سے روکا جاتا ہے۔

مختصراً کہ رسول اکرمؐ کے اس دنیا سے پردہ کر جانے کے تقریباً صرف پچاس برس بعد ہی نہ صرف آپؐ کی مسجد کو اصطبل بنایا گیا، لشکر والوں کو اجازت ملی کہ اصحابِؓ رسول میں جو بھی بادشاہ کی بیعت نہ کرے اس کو قتل کیا جائے، صحابیاتؓ اور اصحابؓ رسول کی بیٹیوںؒ کی عصمت دری کی جائے، خانہ خدا کو آگ لگائی گئی اور اس پر پتھر برسائے گئے، مدینہ منورہ جہاں کی مٹی ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے وہاں لاکھوں ناجائز بچے پیدا ہوئے بلکہ اس واقعہ سے ایک سال پہلے حبیب اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سارے خاندان کو تین دن بھوکا پیاسا رکھ کر تہہ تیغ کر دیا گیا۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:۔

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ

کٹا حسین کا سر نعرۂ تکبیر کے ساتھ

موسیٰؑ و فرعون و شبیرؑ و یزید

ایں دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوتِ شبیری است

باطل آخر داغ حسرت میری است

یہ حقیقت کہ دنیا میں جتنی شاعری، تمام زبانوں میں مجموعی طور پر، امام حسینؑ پر ہوئی اور ہو رہی ہے اتنی کسی دوسرے موضوع پر نہیں ہوئی ، اوپر صرف شاعرِ مشرق کے تین اشعار پیش کیے ہیں۔

مقصد صرف یہ ہے کہ واضح ہو کہ اس زمانے میں ہی اسلام کو اس قدر بگاڑ دیا گیا تھا کہ اسی رسول کے گھروالوں کا قتلِ عام کیا گیا جو ہدایت دینے، درست اور غلط سمجھانے، حق اور باطل کو واضح کرنے اور جنت کا راستہ دکھانے تشریف لائے تھے، مگر ستم در ستم یہ کہ یہ قتلِ عام، جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہےکہ اس زمانہ میں ہوا جو زمانہ صرف اصحابِ رسول، تابعین اور تبع تابعین ہی کا تھا۔

کچھ لوگ ان ساری خباثتوں کا ذمہ دار صرف اس ایک شخص یعنی یزید کو قرار دیتے ہیں ، مگر وہ بھی کم نہیں جو اسی یزید کو خلیفۃ المسلمین مانتے ہیں اور اس کے قصیدے گاتے ہیں اور اہلِ بیتِ رسولؑ کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک غلط شخص کس طرح ساری امتِ مسلمہ کا بادشاہ بن گیا؟

یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے دوسری جنگِ جہانی کے پانچ تا چھ کروڑ انسانوں کا قاتل صرف ایک ہٹلر کو قرار دے دیا جائے، ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ باقی قصورواروں کو فرشتہ ثابت کیا جاسکے، یعنی بُرا صرف ہٹلر ہی تھا باقی سب تو آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، یہی غلطی صرف یزید کو غلط کہنے والے اور باقیوں کو بری از ذمہ قرار دینے والے کرتے ہیں، اور امام حسین علیہ السلام کا مقصد تھا ہی یہ کہ درست کو درست اور غلط کو غلط ہی کہو، غلط کی غلطیاں چھپا کر اسے درست کہنے سے سوائے بگاڑ، کھوٹ، ضرر، نقصان اور خرابی کے اور کچھ نہ ملے گا، یہاں بات مادی ترقی کی نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کی ہے۔


یہ سوال ابھی تشنہ ہی ہے اور اسی کے جواب کی تلاش سے کئی گتھیاں سلجھیں گیں کہ اگر ہم اس زمانے میں ہوتے تو کس نظریے کا، کس گروہ یا جماعت کا انتخاب کرتے؟

یزید کے لشکر کا یا امام حسینؑ کے جان نثاروں کا؟


لشکرِ یزید میں شامل ہونے پر ہر طرح کے مالی فائدے اور آسائشیں میسر آتیں جب کہ امام کا ساتھ دینے کا حتمی نتیجہ موت تھا اور وہ بھی سخت ترین شکل میں ، تین دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد چھتیس ہزار کے لشکر کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرتے کرتے مرنا تھا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ صرف بہتّر نے موت کا انتخاب کیا، باقی تقریباً تمام مملکتِ اسلامیہ نے یزید کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

ان دونوں راستوں سے جو ہماری سمجھ میں بہتر راستہ ہے، خدا کا راستہ ہے، شیطان سے دوری اور قربِ رحمان کا راستہ ہے ہمیں اسی کا انتخاب کرنا چاہیے، نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، کیوں کہ یہ دنیاوی زندگی چند روزہ ہے اور اس کے بعد ایک دائمی زندگی ہے، ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی۔ اس چند روزہ زندگی میں ہی اس ہمیشگی کا انتخاب کرناہوگا کہ وہاں کیسے رہنا ہے۔

امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ’’ تمہاری جان کی کم از کم قیمت جنت ہے، اس سے کم پر خود کو فروخت مت کرنا‘‘۔
ہماری بات یہیں پر اختتام پذیر ہوتی ہے، انتخاب ہر ایک کا ذاتی اور انفرادی ہے، ہم آخر میں صرف یہی کہیں گے کہ جنت صرف حسینیوں ہی کو میسر ہوگی ان شأ اللہ، مگر یہ بات یاد رھے کہ حسینی ہونا کوئی خطاب یا لقب نہیں ہے بلکہ ایک کردار کا نام ہے جس کو اپنانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔

یعنی اگر میں خود کو دن رات حسینی کہتا رہوں اس سے کچھ نہ ہوگا بلکہ مجھے چاہیے کہ میں قرآن مجید، حدیثِ رسولؐ، سنتِ رسولؐ اور سیرتِ امام حسینؑ سیکھوں اور اس کے راہ کےمطابق زندگی بسر کروں، جنت سستی ہرگز نہیں۔

 


افکار و نظریات: حسینی کیوں بخشے جائیں گے