کیا تحریک لبیک ناصبیوں کی جماعت ہے!؟
تحریر: ساجد مطہری


تنظیم مشترکہ نظریات رکھنے والوں کا پلیٹ فارم ہوتی ہے۔ اگر تحریک لبیک والے آصف اشرف جلالی کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں اور اسی طرح الفاظ کو کھینچ کھینچ کر رسولﷺ کی آل اور ان کی دختر گرامی  سلام اللہ علیھا کی شان میں گستاخی کو روا سمجھتے ہیں تو پھر یہ تو واضح ہے کہ یہ اہل سنت کے بجائے ناصبیوں کی جماعت ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں خاص کر اہل سنت کو اس جماعت سے لاتعلقی کا  اظہار کرنا چاہیے۔
ہم ذیل میں مسئلہ فدک کا بطورِ خلاصہ جائزہ لیتے ہیں:
1۔ فدک کی زمین جناب سیدہ (س) کی ذاتی جاگیر تھی۔ 
 فدک کی زمین (فئی) کی زمین تھی جو خیبر  کے یہودیوں سے جنگ لڑے بغیر  حاصل ہوئی تھی اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ  ’’فئی‘‘ کی زمین رسول اکرم (ص) کی ذاتی جاگیر ہوتی ہے  وہ  ذاتی صوابدید کے مطابق اس میں تصرف کر سکتے ہیں، لہذا اہل سنت کے مشہور عالم دین ابو یعلیٰ لکھتے ہیں:  جب یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی ’’ اقرباء کو انکا حق دیجئے‘‘  تو  آنحضرت (ص) نے اپنے لخت جگر فاطمہ (س) کو بلایا اور فدک کی زمین اپنی بیٹی کے نام  کر دی۔ 
جب یہ زمین بی بی سیدہ(س) کی ذاتی جائیداد تھی تو پھر ارث اور میراث کا مسئلہ ہی درمیان میں پیدا نہیں ہوتا۔
بہرحال رسول اللہ (ص) کی رحلت تک یہ   زمین  جناب سیدہ (س) کے تصرف میں رہی  لیکن جب خلیفہ اول مسند خلافت پر بیٹھے تو اس نے زبردستی   یہ زمین چھین لی، بی بی (س) اپنا حق مانگنے دربار میں آئی، جواب میں خلیفہ وقت نے رسول اللہ (ص) کی طرف منسوب  ایک حدیث کا حوالہ دیا  ’’ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے‘‘ 
تو سوال یہ ہے کہ  کیا اپنے حق کا مطالبہ کرنا خطا اور گناہ ہے؟!  تعجب اس بات کی ہے کہ ابن ابی الحدید معتزلی کے مطابق اس حدیث کے راوی صرف خلیفہ اول ہیں اور جناب سیدہ (س) کو حدیث کا حوالہ بھی وہی شخص دے رہا ہے جو ’’ حسبنا کتاب اللہ‘‘ کہہ کر رسول اللہ کو کتابت حدیث اور وصیت سے منع کررہا تھا۔ 
2۔ حضرت زہرا (س) عصمت کے درجہ پر فائز تھیں
آصف  اشرف جلالی  (نعوذ  باللہ) جناب سیدہ (س) کو خطا کار کہہ رہا ہے، بھلا! وہ بی بی کیسے خطا کار ہو سکتی ہے جس کی شان میں آیہ تطہیر  نازل ہوئی    اور انکی عصمت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دی ہے۔
بھلا! وہ بی بی کیسے خطا کار ہو سکتی ہے جو جنت کی تمام خواتین کی سردار ہوں ، جس کی خوشنودی اللہ  اور  رسول کی خوشنوی اور جس کی اذیت اللہ  اور رسول کی خوشنودی  ہو  ۔
 یہ اللہ تعالیٰ کا قران مجید میں اٹل فیصلہ ہے  کہ ’’جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کو اذیت دیتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اخرت میں لعنت کی ہے اور انکے لیے ذلت آمیز  عذاب تیارکر رکھا ہے‘‘  
اﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ایک ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺍﻟﺤﺪﯾﺪ ﺍﻟﻤﻌﺘﺰﻟﯽ ﻧﮯﻏﺼﺐ ﻓﺪﮎ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯﻧﻘﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﻃﻨﺰﯾﮧ ﻟﺐ ﻭ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦﺍﺱ ﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺑﮍﮮ ﻭﺍﺿﺢ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻧﺪﺍﺯﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ؛ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻴﮟ:
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﻣﺪﺭﺱ "ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﻟﻔﺎﺭﻗﯽ" ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﮐﯿﺎ (ﻓﺪﮎ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ) ﻓﺎﻃﻤﮧ سلام اللہ علیہا ﺳﭻ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟
ﻣﺪﺭﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ! ﻭﮦ ﺳﭻ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺳﭻ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺪﮎ ﺍﻥ
ﮐﻮ ﻟﻮﭨﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﻴﮟ؟

ﻣﺪﺭﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:

ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﻓﺪﮎ ﺳﯿﺪﮦ (ﺱ) ﮐﻮ ﻟﻮﭨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺮﯾﮏ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺧﻼﻓﺖﺑﮭﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﻭﻝ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﻓﺪﮎ ﻟﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽﺗﺼﺮﯾﻖ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮐﮧ "ﺩﺧﺘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﭻ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ 

اب ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان  اگر ناصبیوں کی جماعت ہے تو پھر اس سے کوئی گلہ نہیں اور اگر اہل سنت کی جماعت ہے تو آصف اشرف جلالی نے جس طرح لہک لہک کر  جناب فاطمہ (س) کی شان میں گستاخی کی ہے اُس کی اس جماعت سے رکنیت معطل کی جائے اور حکومت پاکستان  اس  ملعون کو اس گستاخی  پر قانون کے مطابق سزا دے۔
 

 


افکار و نظریات: ناصبیوں کی جماعت