مسلسل حکومتی ناکامیاں

محبوب اسلم
جوحضرات میری پوسٹ اور تجزیے مستقلاً پڑھتے ہیں وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ کبھی میں بھی ایاک نعبدو وایاک نستعین کے پاک کلمے کی گرفت میں مناقین کے اس ٹولے کا جسے آپ سب تحریک انصاف کے نام سے جانتے ہیں کا کٹر حمایتی تھا اور تبدیلی کے سحر میں اسقدر مبتلا تھا کہ2013 کے الیکشن میں اس پارٹی کی انتخابی مہم کو سپورٹ کرنے کی غرض سے اپنی بچت کے علاوہ بینک سے قرض پکڑ کر امریکہ سے پاکستان چلا آیا اور اس سے پہلے امریکہ میں رہتے ہوئے وہاں بھی اس تبدیلی کی لگن میں پارٹی کیلئے ممبرسازی اور فنڈ ریزنگ کا کام سرانجام دیتا رہا۔۔۔میری اور چند قریبی دوستوں کی سوچ تھی کہ پاکستان میں اب سیاست کو بدلنا چاہیئے اور پڑھی لکھی عوامی اور با شعور قیادت کو آگے آنا چاہئیے اور یوں اندھا کیا چاہے دو آنکہوں کے مصداق عمران خان کی ایاک نعبدو وایاک نستعین کی پکار نے گویا دل کے جذبات کو زبان عطا کردی۔۔۔لیکن پھر اس پاک کلمے کیساتھ جو اس منافق نے کیا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے !!! 
لیکن خدا گواہ ہے  کہ میں اسکی نا اہلی، کرپشن اور منافقت سے بہت پہلے آگاہ ہو چکا تھا اور 2014 میں میں نے وہ ثبوت جو آج پاکستان کی اعلی عدلیہ فارن فنڈنگ کیس میں موجود ہوتے ہوئے بھی اندھی بنی ہوئی ہے ۔۔۔

اس منافق اعظم کے سامنے رکھے  تھے  اور اس نے اسوقت اپنا ہاتھ میرے گریبان پر ڈالا تھا۔۔۔مجھے  اس دن یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ تبدیلی کے اس نظریے کے پیچھے  وہی کرپشن اور وہی اقتدار کی ہوس کار فرما ہے  جو اس سے پہلے کی روایتی سیاسی پارٹیوں کا وطیرہ رہا۔
 الغرض میں نے پی ٹی آئی ٹیک فورس کی بنیاد رکھی اور تحریک انصاف کے ان سب منافقین کے مکروہ چہروں سے نقاب اٹھانے کی اپنی سی کوشش کی اور 2014 سے میں مسلسل انکےسیاہ کرتوت عوام کو بتاتا چلا آرہا ہوں۔۔۔

وہ پارٹی کے اندر سیف اللہ نیازی اور عامر کیانی کی پارٹی فنڈز کی چوری ہو، پارٹی الیکشن میں پرویز خٹک، علیم خان اور جہانگیرترین کی دھاندھلی ہو، جسٹس وجیہ الدین کیساتھ زیادتی ہو، سابقہ کے پی احتساب کمیشن کے ڈی جی جنرل حامد کا حکومتی دخل اندازی پر استعفی ہو یا پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت کی تانگی مائنگ اسکنڈل اور بلین ٹرین کا ڈرامہ ہو۔۔۔
الغرض میں انکے کالے کر توتوں پر عوام کو مسلسل آگاہ کرتا آیا ہوں کہ ان ٹھگوں سے ھشیار رہیں۔۔۔لیکن ہونی کو کون ڈال سکتا ہے ؟؟؟جبکہ خاص طور پر ملک عزیز میں اسٹیبلیشمنٹ نے انصاف کے ترازو اور انتخاب کے پلڑے پر اپنا بوٹ پھنسا دیا ہو!!!
آج اس نا اہل اور کرپٹ ٹولے نے ملک کا جو حال کر دیا ہے  وہ ناقابل تلافی ہے ۔ ملکی قرضے میں ریکارڈ توڑ اضافے کیساتھ ساتھ شرح نمو منفی ہو چکا ہے ۔۔۔یعنی ابے کا یہ نِکا نہ صرف فیل ہو چکا ہے  بلکہ اسکول کی عمارت کو تقریباً گرانے ھی والا ہے  لیکن یہ ابے بھی اب پھنس چکے ہیں کہ کریں تو کیا کریں؟؟؟ 
دوسری طرف معیشت جیسے بنیادی عنصر کا ستیاناس مارنے کے علاوہ بھی ھر ھر محاذ پر بھی حکومت کی نااھلی ہے  کہ کپڑے پھاڑ کر سرعام دندناتی پھر رھی ہے  اور کوئی کچھ پوچھنے والا ھی نہیں؟؟؟ کرونا وائرس پر یہ سیلیکٹڈکھوتا پہلے اسکو عام فلو کہتا رہا اور اب عوام میں اموات بڑھنے کی نوید سنارہاہے ۔۔۔

پہلے لاک ڈاؤن نہیں کیا پھر دیر سے کیا اور جلد اٹھا لیا اور اب کہتا ہے  کہ اصل زور تو اگست میں آئیگا۔۔۔یعنی یہ کونسا نشہ ہے  جو یہ صاحب کرتے ہیں کہ ایک ہوشمند بندہ توایسی بے تکی نہیں ہانک سکتا؟؟
دوسری طرف چینی اور آٹے کے چوروں کی نشاندہی ہوچکی لیکن نہ توقیمت نیچے آئی نہ رقم ہی برآمد کی گئی اور الٹا چوروں کو حکومتی یوٹیلیٹی سٹوروں کی مد سے خریداری کر کے فائدہ بھی پہنچایا گیا۔۔اور چینی چور کوئی لندن میں مزے لوٹ رہا ہے  اور کوئی وزارت بدل کر مزے کر رہا ہے ۔۔۔لیکن نیب کی حزب اختلاف پر کمال کی آنیاں جانیاں ہیں؟؟؟
پٹرول کی اپنی ایک کتھا ہے ۔۔۔دنیا بھر میں پٹرول کی قیمت منفی حدتک چلی گئی تو اس نا اھل حکومت نے بادل نخواستہ قیمت کم کی لیکن پٹرول مارکیٹ سے غائب ہوگیا۔۔۔اور یہ حکومت بے بسی کی تصویر بنی کھڑی ہے ؟؟؟
پشاور میٹرو ہے  کہ بننے کا نام نہیں لیتی اور اٹھارہ بیس ارب کا پراجیکٹ اب سو ارب سے تجاوز کر چکا ہے  اور کرپشن کی تحقیقات کو حکومت نے روک رکھا ہے ۔۔۔لیکن نیب حزب اختلاف کی روٹیاں گن رہا ہے ؟؟؟ 
دوسری طرف حالیہ بجٹ تبدیلی کی وہ زبوں حالی پیش کر رہا کہ تبدیلی منہ چھپاتی پھر رھی ہے ۔۔۔اور یہ منافقین کرونا سے پہلے معیشت پر پاکستان کے ایشین ٹائیگر بننے کا لطیفہ کچھ اسطرح گٹے جوڑ کر سنا رہے  ہیں کہ لوگ بوٹے کو ڈھونڈھ رہے  ہیں کہ جب گالیاں دینے کی باری آتی ہے  تووہ غائب ہو جاتا ہے ؟؟؟ 
الغرض کرپشن اور نا اہلی کا وہ امتزاج بنا ہے  کہ عوام کے ہوش ٹھکانے آچکے ہیں۔ لیکن یہ بھیانک مذاق ابھی اور چلے گا۔۔۔کیونکہ ابا اور نِکا اب ایک پیج پر پھنس چکے ہیں۔۔۔

نہ نِکے نے کچھ کر کے دینا ہے  اور نہ ابے کے پاس فیالحال کوئی دوسرا نِکا موجود ہے  جو اس دلدل میں پھنسائی گئی حکومت کو لینے کیلئے آگے بڑہے ۔۔۔لیکن یہ دودھ کی رکہوالی پر بیٹہے  بلے اس ملک کا ستیاناس مار رہے  ہیں اور ھم سب خاموش تماشائی بنے یہ بھیانک مذاق دیکھ رہے  ہیں؟؟؟
بہتر تو یہی ہے  کہ امریکی جنرل کیطرح ھمارے بوٹ والے سپہ سالار بھی عوام سے معذرت طلب کریں اور آئین پاکستان کے تحت سیاست میں حصہ نہ لیں اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے نبردآزما ہو اور بھارت سے کشمیر کو چھڑوانے پر توجہ مبذول رکہیں۔ اور داخلی ملکی حالات عوام کی صوابدید پر چہوڑ دیں اور کسی کیلئے ایمپائیر کی انگل نہ بنے اور نہ ھی کسی کو یہ انگل دینے کے خواب دکھائیں؟؟؟
اور اگر تو اگلے دو سال میں اس ملک کی حالت کو بچانا مقصود ہے  تو جلد از جلد اس نا اھل اور کرپٹ حکومت کی پیج سے ہٹیں تانکہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت کا بلا امتیاز محاسبہ ہوسکے۔۔۔

وگرنہ بصورت دیگر خاک بدھن یہ ملک کسی تیسرے درجے کےافریقی ملک کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا۔۔۔خدارا اس ملک اور اسکی عوام پر رحم فرمائیں اور اپنا بوٹ یا انگل اب ھٹائیں اور اس ملک میں نا اہلیت کی سر پرستی ختم کریں اور اسکا بلا امتیاز احتساب ہونے دیں۔۔۔
اور ایک اپیل عوام سے بھی کرنی ہے کہ ایک نظر امریکی عوام پر بھی ڈال لیں کہ ظلم ایک خاص حد تک ہی برداشت کیاجا سکتا ہے  اور ایک وقت آتا ہے  کہ اپنے حقوق کیلئے عوام کو آخر کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین

 

 


افکار و نظریات: مسلسل حکومتی ناکامیاں