پروفیسر مقصود جعفری

شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر نے والئی کشمیر یوسف چک کو مذاکرات کےلئے بلایا اور دھوکہ دیا۔ اسے وقف زنداں کیا۔ کشمیرایک خودمختار آزاد ریاست تھی۔ یکے بعد دیگرے یہ راست متاع غیراں بنی اور پنجہ استبداد میں جکڑی رہی۔ یہاں افغانوں‘ سکھوں اور ڈوگروں نے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔

 احمد شاہ ابدالی کے پوتے زمان شاہ نے رنجیت سنگھ کو لاہور کا والی مقرر کیا۔ اسکے بیٹے شاہ شجاع کی افغانستان پر گرفت ڈھیلی دیکھ کر رنجیت سنگھ نے لاہور میں اپنی حکومت قائم کر لی۔

 1846ءمیں معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے 75 لاکھ نانک شاہی سکہ کے عوض کشمیر کو رنجیت سنگھ کو بیچ دیا۔ رنجیت سنگھ نے پنجاب اور کشمیر پرحکومت کی۔ پھر رنجیت سنگھ نے پونچھ کے ڈوگرہ گلاب سنگھ کو کشمیر کا والی مقرر کیا اور رفتہ رفتہ کشمیر سکھوں کی راجدھانی سے ڈوگرہ ہندو¶ں کے زیر نگیں آگیا۔

 جموں کے ڈوگرہ گلاب سنگھ نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ جب 1947ءمیں تقسیم ہند ہوئی تواس وقت کشمیر کا مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ پہلے اس نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ موانست کیا۔ پھر لارڈ ماونٹ بیٹن‘ نہرو‘ گاندھی اور پٹیل کی سازش کا شکار بنا اور ہندوستان سے الحاق کردیا۔

 اس کار شیطانی میں غدارکشمیر شیخ عبداﷲ بھی برابر کا شریک تھا۔ پونچھ کے دلیر عوام نے آزادی کا اعلان کر دیا اور پاکستان سے الحاق کےلئے سینہ سپر ہو گئے۔پونچھ کے جاں بازوں نے سر ہتھیلی پر رکھ لئے اور مہاراجہ کشمیر کی فوج سے ٹکرا گئے۔ جنگ آزادی سے قبل ڈوگروں کےخلاف عسکری محاذ پر سردارشمس خان‘ سردار سبز علی اور سردار ملی خان کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں۔

 راجہ گلاب سنگھ نے منگ میں ان کی زندہ کھالیں کھنچوائیں اور سردار شمس خان کو دھوکے سے شہید کروا دیا گیا۔ سیاسی محاذ پر مہاراجہ ہری سنگھ کیخلاف سردار بہادر علی خان آف کھڑک راولاکوٹ کے کارنامے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سردار سکندر حیات کے والدگرامی سردار فتح محمد کریلوی جو اس وقت کشمیر اسمبلی کے رکن تھے انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت و فراست کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر میں روح پھونک دی۔

 1947ءکی جنگ آزادی کے اصل ہیرو سردار محمد ابراہیم خان ہیں۔ سری نگر میں انہی کے گھر الحاق پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی جبکہ ایک دن قبل چوہدری حمید اﷲ نے خود مختار کشمیر کی تجویز دی تھی جسے مسلم کانفرنس کے زعماءنے رد کردیاتھا۔

 راقم الحروف کی نظر سے انگریزوں اور مسلمانوں کی جنگ آزادی کشمیر پر لکھی گئی کتابیں گزری ہیں۔ اکثریت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ تحریک غازی ملت بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کی زیر قیادت منظم کی گئی۔ وہ سری نگر سے پاکستان پہنچے۔ کوہ مری کو ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔

 سرور حسن‘ جنرل فضل کریم‘ الیسٹر لیمب اور قدرت اﷲ شہاب نے اس بات کا اپنی تصانیف میں اقرار کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ کے ہیرو سردار محمد ابراہیم خان ہیں۔ سردار محمد ابراہیم خان کی انگریزی تصنیف (KASHMIR SAGA) اور اردو تصنیف ”متاع زندگی“ آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر پر بھرپور روشنی ڈالتی ہیں۔

مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب ایبٹ آباد کے بازار سے ان دنوں سردار محمد ابراہیم خان کی گاڑی گزری تو فرط جذبات اور جذبہ عقیدت سے لوگوں نے گاڑی سے اٹھنے والی دھول کو آنکھوں سے لگایا۔

میری یہ دیانت دارانہ رائے ہے کہ پونچھ میں جنگ آزادی کا سہرہ سردار محمد ابراہیم خان اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم کے سر ہے۔ مجاہد اول نے نیلا بٹ کے مقام پر آزادی کا اعلان کیا اور پھر ارجہ کے قریب نالہ گوئیں سے مجاہد اول نے ڈوگرہ فوج پر گولی چلا کر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔

 سید زاہد حسین نعیمی اپنی تصنیف ”کشمیر جدوجہد آزادی“ میں لکھتے ہیں کہ کوہ مری بیس کیمپ تھا۔ جہاد کشمیر کی یہیں منصوبہ بندی ہوئی اور یہیں سپریم کونسل بنائی گئی۔ اس سپریم کونسل کے چیئرمین سردار محمد ابراہیم خان اور سپہ سالار اعظم کیپٹن حسین خان تھے۔

سردار محمد عبدالقیوم خان بھی اس پندرہ رکنی سپریم کونسل کے رکن تھے۔ کمانڈر کوٹلی سیکٹر کرنل شیراحمد خان‘ کمانڈر سدھنوتی سیکٹر کرنل خان محمد خان‘ کمانڈر راولاکوٹ سیکٹر کیپٹن حسین خان شہید اور کمانڈر باغ سیکٹر سردارمحمد عبدالقیوم خان اور کمانڈر میرپور سیکٹر خان آف منگ کیپٹن خان محمد خان تھے۔

 مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ سردار محمد ابراہیم خان اور سردار محمد عبدالقیوم خان پونچھ شہر میں میرے والد گرامی تحسین جعفری کے شاگرد تھے۔ نیز میرپور کے کمانڈر فاتح میرپور کیپٹن خان محمد خان بھی والد گرامی کے شاگرد تھے۔ ان تینوں شخصیات سے میری عقیدت ہے اور ان کا مجھ پردست شفقت رہا اور میں نے آزادی کشمیر کا جذبہ ان کی انقلابی شخصیات سے اخذ کیا۔

آزادکشمیر کے ممتاز ادیب و دانشور سابق پرنسپل سیکرٹری صدر جناب خواجہ غلام احمد پنڈت مرحوم اپنی تصنیف ”کشمیر آزادی کی دہلیزپر“ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ سردار محمد ابراہیم خان نے اس تحریک کو منظم کیا اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان نے عسکری محاذ پر اسے مضبوط کیا۔ پونچھ کے مجاہدین نے نہتے ہاتھوں ڈوگرہ فوج کا مقابلہ کیا اور سر فروشی کی داستانیں رقم کیں۔

ان ہزاروں شہیدوں میں مجھے ہلٹر باغ کے خادم حسین شاہ گردیزی یاد آ رہے ہیں پاکستان نوازی پر ڈوگرہ فوج نے انہیں احاطہ کچہری باغ میں درخت کے ساتھ باندھ کر کہا کہ پاکستان مردہ باد کہو ورنہ گولیوں سے بھون دیئے جاو گے اس مرد قلندر نے کہا ”پاکستان زندہ باد“ اور اسے شہید کر دیا گیا‘ میں نے اس درخت کی زیارت کی ہے اس جہاد میں مجاہدین کی امداد کرتے تھوراڑ کے معرکہ میں چند خواتین نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ حسین بی بی اور جبارہ بیگم نے جان دےکر شمع آزادی جلائی۔

 سردار مختار خان ایڈووکیٹ نے اپنی تنصیف ”آزادی کا خواب پریشاں“ میں شان بیگم ‘ بگو بی بی اور موتی بیگم کا ذکر کیا ہے آزادکشمیر کی موجودہ حکومت سے میری اپیل ہے کہ ان شہداءکی یادگاریں تعمیر کی جائیں خصوصاً یادگار شہدائے دوتھان‘ یادگار شہدائے قلعہ باغ‘ یادگار شہدائے ہڈا باڑی باغ اور یادگار تھوراڑ قائم کریں تاکہ آئندہ نسل ان شہیدوں کے کارہائے نمایاں کو یاد رکھے اور جذبہ شہادت کو تازہ کرے۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/25-Jul-2015/402825


افکار و نظریات: تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ ساز شخصیات