لو آپ اپنے دام میں ۔۔۔!

اگلا مورچہ ۔ عمر چوہدری 

انسانی حقوق کی پاسداری اور عالمی قوانین کی ”پذیرائی“ میں پاکستان نے ”را“ کے ملازم اور بھارتی نیوی کے حاضر سروس جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کےخلاف بھارت کو ”رحم“ کی اپیل کرنے کی باضابطہ اجازت دیدی ہے اور اسے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا گیا ۔قبل ازیں کلبھوشن یادیو کو یہ سہولت فراہم کی گئی تھی لیکن اس نے انکار کر دیا۔
 پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی میں ”ملوث“ کلبھوشن یادیو کے والد سے ملنے کی بھی دعوت دی گئی انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت برائے انصاف کی ہدایات کی روشنی میں ہم نے دہشت گرد اور جاسوس ہونے کے باوجود اسے انسانی ہمدردی کے تحت سہولیات فراہم کرنے کی ”آفر“ کی لیکن اس نے انکار کر دیا ۔
17جولائی 2019ءکو عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی موقف کو مسترد کر دیا تھا جس میں فوجی عدالت کی طرف سے اسے پھانسی کی سزا دینے اور بھارت واپسی کےلئے رسائی دینے کا کہا گیا تھا۔
 کلبھوشن یادیو المعروف ”حسین مبارک پٹیل “کو 3مارچ 2016ءکو کاﺅنٹر انٹیلی جنس آپریشن نے بلوچستان کے علاقہ ماشکیل سے گرفتار کیا گیا بھارتی سرکار نے حسب روایت یادیو سے کسی ”قسم کے“ رابطے اور واسطے سے بھی انکار کر دیا اور کہا گیا کہ’ وہ ہمارا سابق نیول افسر ہے اور اسے ایران سے اغواءکرنے کا بے بنیاد الزام بھی لگایا گیا‘ تا ہم انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے 25مارچ 2016ءکو کلبھوشن یادیو کی دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث ہونے کی اعترافی ویڈیو جاری کر دی جس میں یادیو نے” بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہونے کا دعویٰ بھی کیا“۔
کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ’ 2002ءسے میں خفیہ آپریشن کر رہا ہوں 2003ءمیں ایران کے علاقہ چا بہار میں چھوٹا سا کاروبار شروع کر دیا اور اس کی آڑ میں 2003ءاور 2004ءمیں کراچی بھی آتا جاتا رہا اور ”را“ کی جانب سے تفویض کیے گئے ”کام“ بھی کرتا رہا ۔2013ءمیں اسے” را“ نے باقاعدہ انرول کر لیا اور بلوچستان میں ان کے لئے کام کرنے کا کہا گیا‘۔
 کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کےلئے ہماری ایجنسیوں کے افسران اور اہلکاروں نے غیر معمولی جدوجہد اور محنت کا عملی مظاہرہ کیا ۔ شاندار حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے بھارتی چیرہ دستیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا بھارتی نیوی کا حاضر سروس ملازم ہونے کی وجہ سے اس کے خلا ف ”کورٹ مارشل “کا فیصلہ کیا گیا ،اس سلسلہ میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے موصولہ رپورٹس کے باوجود باضابطہ تحقیقات کے بعد کلبھوشن کو قصور وار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا تجویز کی۔ 11اپریل 2017ءکو پاکستانی سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس کی پھانسی کی سزا کی توثیق کر دی ۔مئی 2017ءمیں بھارت نے عالمی عدالت برائے انصاف سے رجوع کیا اور ”روایتی“ مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تا ہم 24ماہ بعد بھارت کے موقف کو مسترد کر دیا گیا ۔
وطن عزیز میں دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور خصوصاً بلوچستان میں ناپسندیدہ کارروائیوں میں ملوث بھارتی جاسوس اور حاضر سروس نیول کمانڈر کی انسانی ہمدردی کے تحت اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات بھی کروائی گئی اب بھارت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پھانسی کیے فیصلہ پر نظر ثانی کیلئے پٹیشن دائر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں بھارت کو ”سفارتی چینل “کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔