غیر قانونی عہدے 
تحریر  ابو ولی اللہ خان 

سنا ہے ایسے حکمران بھی تھے جو حکومتی امور سرانجام دینے والوں کو سختی سے کہتے تھے کہ اپنے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کی خدمت کےلیۓ کھلے رہنے چاہئیں، یقینن آج بھی ایسے افسران موجود ہیں جو اس صفت کے پیروکار نظر آتے ہیں، پاکستان میں تبدیلی کے بعد مدینہ جیسی ریاست کی رٹ کس طرح حکومت نے قائم کی وہ آپ کے سامنے ہے، جہاں دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا چکی وہیں پر ایسے افسران بالا اعلی عہدوں پر تعینات ہیں جو غریب عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 اس کی عمدہ مثال تحصیل خیرپورٹامےوالی بہاولپور میں دیکھی جا سکتی ہے، اسسٹنٹ کمشنر تحصیل خیرپورٹامےوالی کے ہیڈ کلرک شاہد چوہان جو کہ سرکاری عہدے پر تعینات ہیں، انہوں نے ایک بہترین فریضہ رجسٹری برانچ کے کلرک کا اپنے چھوٹے بھائی وسیم چوہان کے سپرد کیا تاکہ عوام کی اکثریت دھکے کھانے سے بچ جائے اور کام آسانی سے ہوسکیں، وسیم اپنے بھائ شاہد چوہان کے سرکاری عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ سے ہورہا ہے، جسے اقربا پروری کا نام دیا جاتا ہے۔
 یہ ایک الگ بحث ہوگی کہ شاہد چوہان صاحب خود کتنا مال کماتے ہیں یہ کہانی ثبوت مانگتی ہے اور ثبوت بھی کچھ نہیں کیا کرتے، اس ملک میں تو شراب کو ایک منٹ میں شہد قرار دے دیا جاتا ہے، سوال بڑا ہی سیدھا سا ہے کہ ہیڈ کلرک اپنے عہدے کے نام پر ناجائز اختیارات کیوں استعمال کرتے ہیں اور کس نوٹیفکیشن کے تحت اپنے چھوٹے اور پیارے بھائ وسیم کو رجسٹری برانچ کا عہدہ دے دیتے ہیں جب ہیڈ کلرک صاحب موجود نہ ہوں تو ان کی جگہ پر بھی ان کے بھائی عہدہ سنبھالتے ہیں، کیا اس ساری صورتحال کا خیرپورٹامےوالی کے صحافیوں کو علم نہیں یا سوال اٹھانا گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔
 ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرصہ دراز سے اب تک جتنے بھی اسسٹنٹ کمشنرز صاحبان عہدوں پر رہے انہوں نے آج تک اس غیر قانونی ٹاؤٹ کو کیوں نہ ہٹایا، دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ ٹاؤٹ سائلین سے رقم کا لین دین کرتا ہے اور بڑے بھائی کے ذریعے اسے حل کراتا ہے، سب تو نہیں کچھ لوگ پیسے لے کر اس مسئلے کو چھپاتے آۓ ہیں، لیکن لہو تو لہو ہے سچا ہوتو حرکت  ہوتی ہے، حکومتی عہدیدار جب اتنی کتابیں پڑھنے کے بعد سخت امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے عہدے پر تعینات ہوتے ہیں تو کیا غریب کو انصاف کی فراہمی اتنا مشکل کیوں بن جاتا ہے، آپ بخوبی اس بات سے آگاہ ہیں کہ ابھی بھی پٹواری صاحبان اپنا کردار کس طرح نبھا رہے ہیں۔
 کسی کا کوئی بھی مسئلہ ہو 500 والے منشی سے شروع ہو کر ہزاروں اور پھر لاکھوں تک چلا جاتا ہے، جتنا کم عہدہ اتنا زیادہ بولنا اور کم پیسوں سے کام کا آغاز ہوتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری افسران رشوت نہیں لیتے، کیونکہ ان کے آگے نمائندے ہیں جو پکڑے جائیں تو کیا ہونا ہے اور اگر سرکاری عہدیدار پکڑا جائے تو ملازمت خطرہ میں ہوتی ہے، اس لیۓ بہترین طریقہ کار موجود ہے کہ آپ منشی رکھ لیں اور ڈائریکٹ رشوت نہ لیں، یاد رہے کبھی بھی کوئی ایماندار افسر بلیک میل نہیں ہو سکتا کیونکہ سچائ بذات خود ایک طاقت ہے جس کے اندر ہو بولتی ہے اور ثابت کرتی ہے، مشکوک افراد ہمیشہ بلیک میل ہوتے ہیں جو جیبیں گرم کیا کرتے ہیں، امید ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل خیرپورٹامےوالی اور ڈسٹرکٹ کمشنر صاحب بہاولپور اس معاملے کی تحقیقات کریں گے اور رجسٹری برانچ کے عہدے کا ناجائز استعمال ہونے کا نوٹس لیں گے۔