اکابرین اور تنظیموں کے نام 

سلام علیکم!

آغا جواد نقوی جب پاکستان تشریف لائے توہم قومی قیادت کے حوالے سے مسائیل کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے آئی ایس او کے سینئرزکی طرف سے ممکنہ قومی قیا دت کے ناموں میں آغا جواد کا نام بھی شامل تھا۔ باقی سب تاریخ ہے۔

آغا جواد نقوی نے اپنے انقلابی و اصلاحی پیغام کے ذریعے بہت سے نوجوانوں اور اہل درد کو اپنی طرف متوجہ اور متاثر کیا۔ ان کی فکری و عملی صلاحیتوں کو مزید نکھارا ۔پچھلی دفعہ جب پاکستان آیا تو آئی ایس او، ایم ڈبلیو ایم کے مسئولین اور آغا شاہد نقوی اور برادر رضوان عابدی کے ہمراہ آغا جواد سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔

وسیع مدرسہ اور بہترین انتظام و انتصرام، کشادہ ترین مسجد، بچیوں کا مدرسہ، جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتال، پرنٹنگ پریس اور دیگر سہولیات دیکھ کر عجیب طمانیت قلبی نصیب ہوئی کہ قوم کے پاس ابھی ایسے منتظم موجود ہیں۔
اب بقول اقبال
شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
1- آغا صاحب نے جس انداز سے عوامی اجتماع میں ایک قومی تنظیم آئی ایس او پرشدید تنقید کی ہے وہ کم ازکم الفاظ میں قابل تشویش ہے۔
2- ہم جیسے( بشمول نثار ترمذی بھائی، علی رضا نقوی بھائی، علی رضا بھٹی بھائی اور دیگر)  دیوانے  جو فرزانوں کی اس بستی میں نظر یاتی و فکری ہم آہنگ تنظیموں کو یک جا و یک جان دیکھنا چاھتے ہیں ان کی مشکلات اور مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔
3- آئی ایس او کا پاکستان میں ولایت فقیہ کی ترویج، تشیع کا نظریاتی دفاع اور جوانوں کی فکری تربیت میں کلیدی کردار  ہے۔ آئی ایس او کی انقلابیت، فعالیت، خلوص اور تقوی قابل رشک ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے علماءحق کے ساتھ مل کر تشیع کے عقائد میں انحرافات اور اصلاح کے لئے بھی شاندار خدمات انجام دی ہیں۔
4- آئی ایس او جیسی متدین اور نظریاتی و فکری جماعت سے اگر آپکو حکمت عملی کا اختلاف ہے تو آپکو پورا حق ہے آپ ہماری ملت کے بزرگوار ہیں مگر بہتر راستہ یہی ہے کہ تنظیمی مسئولین اور اداروں کی زریعے اپنی رائے پہنچائیے۔ اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ آئی ایس او بھی ایک بزرگ عالم اور ہمدرد کے طور پر ضرور توجہ دے گی۔
5- قبلہ جواد نقوی صاحب آپکی علمی اور سحر انگیز شخصیت ایک قومی اثاثہ ہے خدارا اسے متنازعہ مت بنائیے ورنہ یہ ایک قومی نقصان ہوگا
6- ا سی طرح سوشل میڈیا پر جو ایک ہنگامہ برپا ہے ان برادران سے بھی گزارش ہے کہ ''تھم جائیے'' آئی ایس او کے مرکزی صدور نے ایک متوازن بیان جاری کر دیا ہے جس سے آپکی تشویش اور موقف زمہ دار لوگوں تک پہنچ چکا۔
7- علامہ سبطین سبزواری صاحب اور دیگر بزرگان سے بھی گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر خدارا مورچہ نا لگائیے۔ یہ کسی طرح بھی قوم کیلئے سود مند نہیں۔ علما کے زریعے ہی سفارت کاری کیجئے
8- سب نظریاتی و فکری کارکنان بےشک جس بھی گروہ سے ہوں سب آپس میں بھائی ہیں مومن ہیں ہمارا ولایت کا رشتہ ہے۔ شرح صدر پیدا کریں سب لوگ مخلص ہو کر کام کر رہے ہیں کسی کے خلوص میں شک نہ کریں ایک دوسرے کو برداشت اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
9- آخری گزارش یہی ہے کے ملت مظلومہ تشیع پاکستان پہلے ہی بیرونی و داخلی محازوں پر برسرپیکارہے۔ سب تنظیمیں اور شخصیات ہاتھوں میں ہاتھ دیجئے اور دشمنوں سے  مقابلہ کیجئے،اپنی  توانائیاں مثبت سمت میں صرف کیجئے، یہی حسینیت ہے۔
راہ حق میں آپ کا ساتھی
تبرید حسین
 لندن ۱۱ جولائی بروز ہفتہ بوقت ۱۳:۳۰