اور مودی نے خود کُشی کر لی

اور مودی نے اپنی پیٹھ میں چھری گھونپ لی

اگلا مورچہ ۔ عمر چوہدری 

سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا مودی کے دوبارہ بر سراقتدار میں آنے پر کہا گیا تھا کہ اب بار مودی ہندو ستان کے حصے بخرے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا اور وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ”جمہوریت“ کا ”دعویدار “ہندوستان تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے خصوصا ً مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا جانبدارانہ رویہ ہندوستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے اور اب آخر کار نریندر مودی نے تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر سے اپنی ہی پیٹھ میں چھری گھونپ دی ہے ۔مقبوضہ کشمیر پر اپنی ’سینا‘ کے ذریعے قابض ہونے کا ہندوانہ خیال اب اس کی تباہی کی جانب رواں دواں ہے ،کئی ڈویژن مسلح بھارتی فوجی اور ان کے بے رحمانہ سلوک مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو دبا نہیں سکے سینکڑوں فوجیوں کی بلی چڑھانے انہیں فوجی ملازمت سے باغی کرنے اور انسانیت کے نام پر دھبہ بھارت کا مقدر بن چکا ہے ۔
دنیا بھر میں ہندوستانی سوچ پر تنقید جاری ہے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہندوانہ سوچ کی نفی کر کے مودی اور اس کی سرکار کی دوغلی پالیسی کو تختہ مشق بنا رکھا ہے ،سینکڑوں نوجوانوں کو یرغمال بنانے، انہیں عمر بھر کے مفلوج کرنے ،مہینوں قید و پابند رکھنے ،خواتین اور بچوں کو پابند سلاسل رکھنے ،انٹر نیٹ اور فون بند کرنے کے باوجود سخت ترین حالات میں بھی کشمیریوں نے حق خودداریت کی راہ میں آنے والی ہر کوشش کو ٹھوکر مار دی ،سید علی گیلانی اور یٰسین ملک کو اذیتیں دینے کے باوجود ان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکا ۔
اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو خطرناک قرار دے دیا ہے جبکہ یورپین تھینک ٹینک نے بھی اس صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ،مسلمانوں سے بربریت کے سلوک نے جہاں بھارت کو نا پسندیدہ ملک قرار دے دیا ہے وہیں ظلم و بربریت کا پلان ترتیب دینے والا مودی کا دست ِراست وزیر داخلہ امیت شاہ کورونا وائرس کا شکار ہو کر نئی دہلی کے ہسپتال جا پہنچا ہے اس موذی شخص نے کورونا کی تصدیق کے بعد خود سے ملنے والوں کو ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا ہے یعنی اچھوت شخص اپنی اچھوت سے دیگر لوگوں کو بھی خبردار کر رہا ہے ۔
تامل ناڈو کا گورنر بنواری لال پروہت اور مدھیا پردیش کا وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ بھی کورونا کے ہتھے چڑھنے کے بعد مختلف ہسپتالوں کی آئی سی یو وارڈ میں یاترا کر رہے ہیں ادھر اتر پردیش کی ٹیکنیکل تعلیم کی وزیر کمل رانی ورون کورونا کے باعث جہنم واصل ہو چکی ہے ۔کانپور شہر کے گھاٹم پور حلقے کی رکن اسمبلی کمل رانی ورون کی عمر 62 برس تھی۔ وہ لکھنو ¿ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس جی پی جی آئی) ہسپتال میں زیر علاج تھی۔نریندر مودی کی آنکھیں شاید وزارت صحت کی اس رپورٹ پر نہ کھلیں کہ بھارت میں مجموعی طور پر ساڑھے 17 لاکھ لوگ کورونا مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور ہلاکتیں 38 ہزار161 تک پہنچ گئی ہیں۔
اور ہاں مودی ہندوﺅں کی کم ترترین ذات ’تیلی‘ سے تعلق رکھتا ہے جو پچپن میں اپنے باپ کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچتا تھا موصوف کی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی ۔مودی گھریلو حالات سے تنگ آکر گھر سے بھاگ نکلا اور ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک کھوکھا پر چائے بیچنا شروع کر دی ۔کٹر ہندو خیالا ت رکھنے کے باعث آر ایس ایس کا حصہ بن گیا تا ہم آر ایس ایس پر پابندی کے بعد روپوش ہو گیا،روپوشی کے دنوں میں ہی ایک کتاب 
"THE STRUGGLE OF GUJARAT"
لکھی ۔1985ءمیں بی جے پی کی سیڑھی پر چڑھ کر گجرات کا وزیر اعلیٰ بن گیا ،گجرات میں ہی 2002ءمیں مسلمانوں کے بد ترین قتل عام سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں اور آج مودی بھارت کی تباہی میں نمایاں ”کردار“ ہے یقینا مودی کے ہاتھوں سے ہی جلد دنیا کے نقشے سے بھارت کا صفایا ہو جائے گا مودی کا انجام بد سے بدترین ہو گا اور وہ وقت دور نہیں ہے ۔