بہادری اور شجاعت کی مثال

میجر طفیل شہید نشان حیدر
اگلا مورچہ ۔ عمرچوہدری

 مشرقی پاکستان میں دشمنوں کو ناکوں چنے چبوانے والے فاتح لکشمی پور میجرطفیل محمدشہید کا شمار قوم کے ان جانبازسپوتوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے وطن کی آن، شان اور حفاظت کیلئےجان کا نذرانہ پیش کیا ،میجر طفیل محمد شہید 22 جولائی1914 کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور کی گجر فیملی میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1943 میں پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 1947ء میں جب وہ میجر کے عہدے تک پہنچے تو اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔
میجر طفیل شہید جہاں ایک ذمے دار آفیسر تھے، وہیں ایک ذہین اور تجربہ کار انسٹرکٹرکی حیثیت سے بھی جانے جاتے تھے۔میجر طفیل محمد کو کمپنی کمانڈر بنا کر مشرقی پاکستان رائفلز میں تعینات کیا گیا، 7 اگست 1958 کو لکشمی پور میں بھارتی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے بحیثیت کمانڈر میجر طفیل نے اپنے ونگ کے ساتھ دشمن کی چوکی کے عقب میں پہنچ کر فقط 15 گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوئے۔انہیں حکم ملا کہ وہ بھارتی فوج کی اس نفری کو جس نے لکشمی پور کے علاقے میں گھس کر اپنے مورچے قائم کر لئے ہیں، انہیں پیچھے دھکیل دیں ۔ یہ 7 اگست 8 195 کا دن تھا جب انہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو محاصرے میں لے لیا۔ بھارتیوں نے گولیاں برسا دیں۔ میجر طفیل کے جسم میں کئی گولیاں پیوست ہوگئیں مگر انہوں نے زخم کی پروا کیے بغیر دستی بم نکالا اور دانتوں سے پن کھنچ کر اس مورچے پر دے مارا جہاں بھارتی چھپے بیٹھے تھے۔ مشین گن مع سات دشمن کے اڑ گئی۔ پھر وہ ادھر مڑے جدھر ایک اور مور چہ تھا۔ جہاں سے مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔ ایک دستی بم اس مورچے پر مارا ،وہ مورچہ بھی ختم ہوگیا۔ زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود ریکی کے دوران ان کی نظر دشمن کی چوکی کے کمانڈر پر پڑی جو ان کے جوانوں پر فائرنگ کرتا ہوا دوڑ ا آرہا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اچھلے اور اسے اڑنگا مار کر زمین پر گرایا پھر اپنی آہنی ٹوپی کو ہاتھ میں لے کر اسکے سر اس زور سے وار کئے کہ وہ جہنم واصل ہوا ۔اس دوران دشمن کے سپاہی پہنچ گئے انہوں نے مزید کئی گولیاں ان کے جسم میں اتار دیں۔پاک فوج کے اس شیردل افسر نے بری طرح زخمی ہوتے ہوئے بھی وہ اس وقت تک قیادت کرتے رہے جب تک دشمن سے تمام مورچے خالی نہ کرالیے۔میجر طفیل محمد نے لکشمی پور مشرقی پاکستان میں جرات و بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کا صفایا کیا اور گھمسان جنگ کے بعد ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے کرشہادت کا درجہ حاصل کیا۔میجر طفیل محمد شہید نشان حیدر بورے والا پنجاب میں مدفون ہیں میجر طفیل محمد کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے۔
پاک فوج کے جن شہدا کو نشان حیدر دیا جاتا ہے وہ میدان جنگ میں غیر معمولی داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوتے اورانکی بہادری کا چرچا انکے دشمن بھی کرتے ہیں۔میجر طفیل محمد شہید نے جس معرکہ میں ملک دشمن کو شکست دی تھی یہ واقعہ عسکری تاریخ میں غیر معمولی بیان کیا جاتا ہے میجر طفیل محمد شہید کی لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا، میجر طفیل محمد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے دوسرے سپوت ہیں۔ صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔

 

 


افکار و نظریات: میجر طفیل شہید نشان حیدر