حضرت امام حسینؓ سے سیکھئے

محبوب اسلم

ھم بھی کیا قوم ھیں کہ حضرت حیسن رضی اللہ تعالی عنہ کی عظیم قربانی کو محض محرم کے دس دنوں تک تقاریر و مجالس اور ماتم تک محدود کر دیا۔۔۔اور جو اصل سبق تھا اسے بھلا چکے۔۔۔دین اسلام کے احیا کی خاطر جو لازوال قربانی نبی پاک صلی اللہ و علیہ وآل وسلم کے خاندان نے دی وہ عظیم مقصد ھم نے محض زبانی جمع و خرچ تک محدود کر دیا۔۔۔صد افسوس!!!

حقیقت تو یہ ھے کہ حق اور باطل کی اس صدیوں سے چلتی جنگ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی اور اھل بیت صلی اللہ وعلیہ وآل وسلم نے جو عظیم قربانی دی ھے وہ رھتی دنیا تک ھر حق پرست کیلئے مشعل راہ ھے اور جب تک ھر ایک مسلمان اس عظیم قربانی کی مثال کو اپنی ذاتی اور اجتماعی معاشرتی زندگیوں میں لاگو نہیں کرتا اسوقت تک یہ عظیم الشان قربانی رائیگاں جائیگی کیونکہ یزدیت ھر زمانہ میں سر اٹھاتی ھے اور ھر زمانہ میں وسائل اور اختیارات پر قابض ھوتی ھے اور یوں ھم سےھر ایک کو یہ موقع ملتا ھے کہ وہ لشکر یزید کا ساتھ دے کر دنیا کما لے یا سنت حسینی پر عمل پیرا ھوکر باطل کا سر کچل دے اور اپنی آخرت سنوار لے۔

لیکن آج اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں تو آپ کیا دیکھتے ھیں؟؟؟ ھاں یہ کہ یزیدیت اپنے عروج پر ھے اور اقتدار اور اختیار پر قابض ھے۔۔۔لیکن حسینیت کہاں ھے جو اپنے وقت کی یزیدیت کو للکار سکے؟؟؟ ھم امام حسین کے چاھنے والے بدقسمتی سے شیعہ اور سنی میں تقسیم کر دئیے گئے۔۔۔ھم حسین کی محبت کا دم بھرنے والے صرف مجالس اور ذاکرین کی باتوں کے ھیر پھیر پر واہ واہ کرنے اور محرم پر سر پیٹنے پر اکتفا کر چکے؟؟؟ کیا یہ وہ درس ھے جو حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا اور نبی صلی اللہ وعلیہ و آل وسلم کے اھل بیت کا خون بہا کر دیا؟؟؟اللہ ربالعزت کی قسم بالکل نہیں۔۔۔آج جب یزیدیت سر چڑھکر بول رھی ھے تو ھمیں جذبہ حسینیت کی اس سے پہلے جتنی ضرورت تھی وہ پہلے کبھی نہیں رھی!!!

آج چاھے یہ یزیدیت اسرائیل کو چند سکوں کی خاطر قبول کرنے میں ھو۔۔۔بلوچستان میں نہتے جوانوں کو گولیوں سے بھوننے میں ھو۔۔۔کراچی میں ندی نالوں پر قبضہ کر کے نکاسئی آب کا بیڑا غرق کرنے میں ھو، آرمی کے جنرلوں کے امریکہ میں کرپشن پر پھلتے پھولتے کاروباروں میں ھو،سیاستدانوں کے بیرون ملک سرمایہ کے ڈھیروں میں ھو، پارٹی فنڈز کے ڈکارنے یا مافیازکی سر پرستی میں ھو۔۔۔یہ یزیدیت اس بات کا تقاضہ کرتی ھے کہ ھم امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی حق کی بلندی کیلئے اس عظیم قربانی کا اعادہ کریں اور ان تمام یزیدی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جائیں۔۔۔

چاھے سر جاتا ھو تو جائے کہ حق کا عَلم جھکنا نہیں چاھئیے۔۔۔آئیں عہد کریں کہ ھم امام حسین اور اھل بیت کی عظیم الشان قربانی کو شیعہ سنی کے فضول تناظر میں نہیں دیکھیں گے بلکہ اس قربانی کی اصل روح کو اپنی زندگیوں اور خاص طور پر اپنے معاشرے میں بڑھتی ھوئی یزیدیت کا سر کچلنے کیلئے استعمال کرینگے۔۔۔وگرنہ یزیدیت امام حسین اور اھل بیت کی عظیم الشان قربانی کے باوجود جیت جائیگی اور یہ ھمیں کسی طور پر قابل قبول نہیں ھونا چاھئیے!!! آنے والے دن مزید سخت ھونگے اور ھمارے ایمان کا بھرپور امتحان لیا جائیگا ھمیں جلد یہ فیصلہ کرنا ھے کہ آیا ھم لشکر یزید کے ساتھی ھیں یا ھم لشکر حسین کیساتھ کھڑے ھیں؟؟؟ 

اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی وہ حدیث مبارکہ ھمارےلیئے مشعل راہ ھونا چاھئیے کہ برائی کو اپنے ھاتھوں سے روکو اور اگر اسکی سکت نہ رکھتےھو تو اسکو زبان سے روکو اور اگر اسکی بھی سکت نہیں رکھتے تو دل ھی میں اس برائی کو برا جانو۔۔۔اوریہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ھے؟؟؟

اللہ ھمیں برائی کا اپنے ھاتھوں اور اپنی زبانوں سے مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔
آمین
محبوب اسلم

 


افکار و نظریات: حضرت امام حسینؓ