صحافیوں پر مظالم جاری
تحریر:سید عمیر علی شاہ
بیورو چیف روزنامہ مسلم ورلڈ لاہور 

جشن آزادی منانے کے بعد منڈی بہاؤالدین پولیس نے پریس کلب ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین کے صحافیوں کی آذادی پر حملہ کر دیا ۔

16 اگست 2020 کو ڈرامائی انداز میں تھانہ صدر پولیس نے صحافی رستم علی بیورو چیف روزنامہ عوامی مطالبہ لاہور اور سئنیر صحافی ملک روف زبیر کو اٹھا لیا ۔ ملک روف زبیر کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔راستے میں ملازمین ملک روف زبیر کو پولیس مقابلہ میں پار کرنے کا سین بناتے رہے۔

پولیس ملازمین کو دونوں صحافیوں کی گرفتاری کو خفیہ رکھنے اور کسی کو بھی ملاقات نہ کروانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ۔ حوالات میں بہت ہی گندی تھی۔ مینڈک،چھپکلیوں،کیڑوں اور تموڑیوں کے چھتے تھے۔

کھانے ، پینے کا بندوبست نہیں تھا۔ اگلے دن تقریبا" 11 بجے ملک روف زبیر کو تھانہ صدر لا کر رستم کو ساتھ لے کر عدالت میں پیش کیا گیا اور 3 دن کا ریمانڈ لے لیا گیا۔ عدالت میں پیش کرنے پر رستم اور ملک روف زبیر اور ان کے گھر والوں کو پتہ چلا کہ ان کے خلاف من گھڑت واقعہ بنا کر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ملک روف زبیر کو دوبارہ نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ملازمین نے ملک روف زبیر کو بتایا کہ آج رات تماری تفتیش کرنی ہے ۔ تمہیں دوسرے ملزمان سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا ۔ ملازمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک روف زبیر کو پولیس مقابلہ میں پار کرنے کا پورا محکمہ زور دے رہا ہے ۔ تھانہ کی پولیس کا کہنا تھا کہ ہمارے علم میں ہے کہ آپ لوگ بے گناہ ہیں ۔لیکن ہمیں ڈی پی او منڈی بہاؤالدین محمد ناصر سیال کی طرف سے احکامات ہیں ۔ ہم مجبور ہیں اور آپ لوگوں نے ہم سے اچھے کی امید بھی نہیں رکھنی ہے ۔ہماری نوکری کا مسئلہ ہے۔ ہم افسوس کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے ہیں ۔ دوبارہ نامعلوم مقام سے ملک روف زبیر کو صدر تھانہ لایا گیا ۔دوبارہ رستم اور ملک روف زبیر کو اچانک عدالت میں پیش کیا گیا تاکہ ان کا وکیل نہ پیش نہ ہو سکے۔

دوبارہ 2 دن کا ریمانڈ لے لیا گیا۔اسی دن آر پی او آفس گوجرانوالہ رستم علی اور ملک روف زبیر کو لے جا کر لیگل ایس پی کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ایس پی نے بھر پور پولیس کو فیور دی۔رستم علی اور ملک روف زبیر کی ملاقات بند رکھی گئی ، انتہائی سختی رکھی گئی۔ اس دوران  ملک روف زبیر کے گھر بار بار پولیس بھیجی گئی ۔ پولیس والوں نے ملک روف زبیر کے گھر کا رات گئے گیٹ توڈ دیا۔پولیس چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ملک روف زبیر کے گھر داخل ہو گئی۔

پولیس نے رستم علی اور ملک روف زبیر سے پہلے دن ہی موبائل قبضہ میں لے کر لاک اوپن کروا لیے تھے۔ رستم علی اور ملک روف زبیر کا موبائل اب تک پولیس کے قبضہ میں ہی ہے اور پولیس موبائلوں سے ان صحافیوں کا پرسنل ڈیٹا مسلسل پبلک کر رہی ہے ۔ موبائلوں کو غلط یوز کیے جانے کا اندیشہ ہے ۔

محکمہ پولیس نے دونوں صحافیوں، ان کے گھر والوں،ساتھی صحافیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو اتھرڈ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔سب کے گھر پولیس کا ڈالہ بھیجا گیا ۔پرچوں کی دھمکیاں دی گئیں ۔ ملک روف زبیر اور رستم علی کو بھی مزید مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔

گرفتار صحافیوں کو کہا گیا کہ بندوں کے نام دیں،جو آپ کی سچائی کا حلف دے سکیں ۔لیکن ان ہی ساتھی صحافیوں کو بھی بعد میں نامزد کر دیا گیا۔ مقدمہ میں ایک ان ناون پرسن ڈاکٹر کا نام بھی ڈال دیا گیا ۔ ایس پی انویسٹی گیشن نے بھی معاملہ سنا ۔

مقدمہ درج کرنے کے لیے رستم کے خلاف عدالت میں رٹ کی گئی تھی۔لیکن ایک بھی نوٹس وصول نہیں ہوا۔بوگس کارروائی بنا کر رستم علی کو لا علم رکھا گیا ۔ایف آئی آر درج کرتے وقت ملک روف زبیر اور ڈاکٹر اکرم کا نام بھی شامل کر دیا گیا۔بعد میں ساتھ دینے والے صحافیوں کو بھی زلیل کرنے کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ 
 ناصر سیال سابق ڈی پی او منڈی بہاؤالدین نے اپنے صحافی ساتھیوں کے ذریعے ان حق سچ لکھنے والے اور مظلوم کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کو اور ان کی فیملی کو نشان عبرت بنایا گیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے آنے والے ڈی پی او منڈی بہاؤالدین سید علی رضا صاحب ان منڈی بہاؤالدین کے بہترین صحافیوں کو انصاف فراہم کریں گے یا مزید ظلم کی داستان رقم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔
پارلیمنٹ میں صحافیوں کے حق میں قوانین بھی پاس ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں صحافی قتل بھی ہوتے ہیں ۔ پولیس اور دیگر ادارے صحافیوں کے خلاف انتقامی کاروائی بھی کرتے ہیں ۔

علاقائی صحافی اپنا کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ فری میں 24 گھنٹے ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرتے ہیں ۔ کہنے کو تو صحافت کو ملک کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔لیکن جب تک صحافی اور ان کا قلم آزاد نہیں ہو گا وہ کس طرح کھل کر کام کر سکتے ہیں ۔

صحافی کسی بھی ملک میں آنکھ، کان اور ناک کا کام سر انجام دیتے ہوئے عوام کو غلط اور درست بتاتے ہیں ۔صحافی لوگوں کو آگاہی،تعلیم، شعور اور تفریح فراہم کرتے ہیں ۔

لیکن آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر حملے کب تک ہوتے رہیں گے ؟ کب تک حق سچ کا علم بلند کرنے والے نشان عبرت بنتے رہیں گے ؟


اگر ہمارے ملک میں قانون اور انصاف ہوتا تو محرم کے مہینے میں،یزید کے پیروکاروں کی بیعت نہ کرنے پر،  کربلا بنانے والے پولیس والوں اور جھوٹا مقدمہ درج کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی۔ لیکن صد افسوس یا تو یہ حق سچ کی آواز خاموش ہو جائے گی یا ملک چھوڑ جائے گی۔


آخر کب تک پاکستان میں صحافی پولیس کی طرف سے نشان عبرت بنتے رہیں گے ؟

وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے تو تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، کیا یہی وہ تبدیلی ہے ؟

جس ملک میں صحافی بھی پولیس گردی کا شکار ہیں اس ملک میں عام لوگوں کے ساتھ پولیس کیا سلوک کرتی ہو گی؟ سوچیے گا ضرور۔۔۔۔

 


افکار و نظریات: صحافیوں پر مظالم جاری