علماء و ذاکرین کانفرنس، وحدت کا سفر

تبرید حسین، لندن

جب فرقہ واریت کے شعلوں کو ہوا دے کر بلند کیا جا چکا، ملت تشیع کو پس دیوار لگانے کی اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں ایسے موقع پر ملت تشیع کو یکجا کرنا اور ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا یقینا ایک ایسا سعید عمل ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ تمام علماء و منتظمین بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
اس اجتماع میں خاص طور دو اہم قومی تنظیموں کے راہنماؤں، علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اور علامہ ساجد نقوی صاحب کی ایک پلیٹ فارم پر موجودگی قوم و ملت کیلئے ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔
پروگرام کے اختتام پر ایک اعلامیہ اور قراردادیں بھی پیش کی گئیں جو یقینا ملت کی نمائندگی کرتی ہیں۔
تمام منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔
بہترین پروگراموں میں بھی بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں

1- مستقبل کے حوالے سے بہتر اور ٹھوس منصوبہ بندی کا اعلان نظر نہیں آیا۔ مثلا ملت کے علماء و زعما کا جو خوبصورت گلدستہ اکٹھا کیا گیا تھا ان کے مستقل روابط اور آئندہ پیش آنے والے حالات کی منصوبہ بندی کیلئے ایک رہبر/ رابطہ کمیٹی کا تشکیل پانا ضروری تھا تاکہ اس بیٹھک کے ثمرات محض ایک نشست تک محدود نہ رہتے۔

2- کیونکہ یہ ملت کا نمائندہ اجتماع تھا اس لئے اس میں تمام موثر ملی و قومی تنظیموں کو دعوت اور نمائندگی ضروری تھی۔ تاکہ شیعہ قوم کی کاملا وحدت سامنے آتی اور تمام نظریاتی و تنظیمی طبقات ملکر مشترکہ دشمن سے نبرد آزما ہوتے۔ مگر بدقسمتی سے علامہ سید جواد نقوی صاحب سے اس اجتماع کے حوالے سے رابطہ یا دعوت نہیں دی گئی۔ ان کی عدم شرکت کے سبب قومی وحدت کا مقصد شائید پوری طرح حاصل نہیں ہو سکا۔ مجھے معلوم ہے آغا جواد صاحب کے کچھ بیانات سے کچھ شخصیات اور تنظیمیں ہم آھنگ نہیں یا شائید قابل اعتراض ہیں۔ مگر پھر بھی ایک قومی بیانئے کی تشکیل کیلئے ان کی موجودگی ضروری سمجھتا ہوں۔ قومی حوالے سے وہ ایک گروہ کی بہرحال نمائندگی کرتے ہیں۔
جب اس نمائندہ اجتماع کے حوالے سے معاملات آگے بڑھ رہے تھے تو میرے پاس یہ مصدقہ اطلاعات تھیں کہ آغا سید جواد کے نمائندوں کی طرف سے کچھ تنظیموں اور شخصیات سے رابطہ کیا گیا تھا کہ شیعہ وحدت کیلئے کسی بھی کاوش کا ساتھ دینے اور شرکت کے لئے آمادہ ہیں۔

جب مجھے علم ہوا کہ آغا جواد کو دعوت نہیں دی گئی تو میں نے ذاتی طور پر آغا شیخ محسن نجفی، آغا ساجد نقوی، قبلہ حافظ ریاض نجفی اور کچھ دیگر بزرگان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ شیخ محسن صاحب اور کچھ بزرگان سے اجلاس سے ایک دن قبل تفصیلی گفتگو ہوئی اور اپنی گزارشات ان کی خدمت میں پیش کیں۔


شیخ محسن صاحب آغا جواد کی شرکت کے حوالے سے قائیل نظر نہیں آئے۔ بلکہ لہجے میں درشتی تھی۔ ان کی بزرگی کے پیش نظر باقی تفصیلات حذف کر رہا ہوں۔ کچھ اور بزرگان نے بھی آغا جواد کے بعض اقدامات اور سخت بیانات کی جانب توجہ دلائی کہ بعض اوقات ساری شیعہ قوم، تنظیمیں اور سب کے سب علماء ہی ان کے بیانات کی زد میں ہوتے ہیں۔


میں نے ان سے یہی عرض کیا کہ جب وہ آپ بزرگان کے ساتھ بیٹھیں تو ان سے اس رویے کی شکایت بھی کی جا سکتی ہے اور وہ وضاحت بھی دے سکتے ہیں یا آئندہ اپنے بیانات میں بہتری لا سکتے ہیں۔

جہاں ھم ذاکرین اور خطباء کو بھی ساتھ لیکر چلنے کیلئے تیار ہیں حتی کہ اھلسنت برادران کو بھی(اور یقینا یہ درست قدم ہے) وہیں ہمیں آغا جواد اور ان کے ساتھیوں کو بھی ساتھ لیکر چلنا چاہیے۔ تبھی ایک مکمل وحدت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا۔ امید ہے آئندہ آنے والا وقت شائید اس حوالے سے بہتری لائے انشاءاللہ۔

3- اسی طرح "اچھا پڑھنے والے" ذاکرین کی بھی موثر نمائندگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ توقع ہے آئندہ انشاءاللہ اس میں بھی بہتری ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مشخص غالی و نصیری گروہ سے فاصلہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

4- بعض مقررین کی طرف سے فرقہ واریت کو فقط مقامی سازش کہا گیا۔ میرے خیال ہے اس حوالے سے بزرگان کو خود بیٹھ کر بہتر انڈرسٹینڈنگ اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔ تاکہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس مسئلے کے وسیع تر تناظر کو مدنظر رکھا جائے۔

5- کراچی اس وقت بری طرح سے جل رہا ہے۔ اور حب اہلبیت سے سرشار مومنین جوانمردی سے ان حالات کا مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔ اگر کراچی کی موثر نمائندگی بھی سٹیج پر موجود ہوتی تو بہتر ہوتا۔

6- میری ذاتی رائے ہے کہ تمام قیادتوں کی طرف سے مشترکہ طور پر ایک قومی کنونشن بلانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے جہاں قوم کا مورال بلند ہو گا وہیں قومی قیادت کے حوالے سے اعتماد بڑھے گا۔ اور ملک و ملت کے دشمنوں کو بھی زوردار پیغام جائے گا کہ ہم نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ محبین اھلبیت متحد و متفق بھی ہیں۔

آخر میں کم وقت میں اس وحدت کی کاوش کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ پروردگار اس وحدت کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔ جو گروہ ابھی تک دور ہیں وہ بھی قریب ہو جائیں اور ہمارے قائدین کی خدا رہنمائی فرمائے تاکہ وہ ملک و ملت کے مفاد میں بہترین فیصلے کر سکیں۔


13 ستمبر 2020

حضرت مالک بن نویرہ کی مظلومانہ شہادت