پاکستانی سیاہ فام 

 آغا نیاز مگسی 

 

ویسے تو سیاہ فام النسل کے حوالے سے جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور سوڈان مشہور ہیں ۔ان ممالک کے شہریوں کی اکثریت سیاہ رنگت کی ہے ۔ جبکہ  سیاہ رنگ کی حامل مشہور شخصیات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی  اور موذن رسول  حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہا ، داستان لیلی مجنوں کا شہرہ آفاق کردار،  لیلی، جنوبی افریقہ کے رہنما اور سابق صدر  نیلسن منڈیلا،  سابق امریکی صدر بارک اوبامہ ان کی اہلیہ مشعل اوبامہ اور نوبل انعام یافتہ امریکی ناول نگار  ٹونی موریسن شامل  ہیں ۔

سیاہ فام نسل کے لوگ ہزاروں سال سے نسل در نسل غلام بنتے آئے ہیں ۔ حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہا بھی غلام تھے جن کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی سے نجات دلائی ۔ سیاہ فام نسل کے لوگ زیادہ تر غیر انسانی سلوک کا شکار رہے ہیں ۔ ان کی خرید و فروخت ہوتی رہی ہے اور یہ نسلی تعصب کا بھی شکار رہے ہیں اور یہ سب سے زیادہ امریکہ  میں نسلی تعصب اور بدترین تشدد کا نشانہ بنتے آئے ہیں ۔

امریکہ میں سابق صدر ابراہا لنکن نے سیاہ فام شہریوں کی غلامی کا خاتمہ کرایا لیکن اس کے باوجود امریکہ میں آج بھی امریکی سیاہ فام شہری  کہیں نہ کہیں نسلی تعصب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  امریکہ میں سیاہ فام نسل کے لوگ ماضی کی نسبت ہزار گنا بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی اور برابری کے مواقع حاصل ہیں جس کا واضح ثبوت  بارک اوبامہ کا امریکہ کا  2 بار صدر منتخب ہونا اور ٹونی موریسن کو نوبل ادبی انعام کا ملنا ہے ۔

پاکستان کے سیاہ فام نسل کے لوگ بڑے خوش قسمت واقع ہوئے  ہیں کہ ان کو کسی بھی قسم کے تعصب کا شکار نہیں ہونا پڑا ہے اور نہ ہی ان کو یہاں غلام بنایا گیا ہے  بلکہ ان کو ہر لحاظ سے مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہے ۔  پاکستان میں سیاہ فام لوگوں کو شیدی کہا جاتا ہے  یہ زیادہ تر  کراچی کے ملیر اور منگھو پیر اور بلوچستان میں مکران کے  علاقوں میں آباد ہیں ۔

پاکستان میں ان کی آبادی  3 لاکھ کے لگ بھگ ہے ان کی اکثریت بلوچی بولتی ہے اس کے علاوہ کچھ لوگ سندھی اور سرائیکی بھی بولتے ہیں ۔  پاکستان میں شیدی یا سیاہ فام کمیونٹی میں سے جنرل ہوش محمد المعروف ہوشو شہید ، پروفیسر صبا دشتیاری، ناز بی بی  المعروف بانل دشتیاری بہت مشہور شخصیات ہو کر گزری ہیں ۔

 ہوش محمد المعروف ہوشو شہید  سندھ کے تالپور حکمران  میر شیر محمد خان تالپور کے فوج کے سپہ سالار  یعنی آرمی چیف  جنرل ہوش محمد شیدی تھے وہ 1843 میں   برطانوی فوج کے ساتھ اپنے ملک سندھ کے دفاع کے لئے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے انگریزوں کے خلاف جنگ کے دوران ان کا لگایا گیا نعرہ " مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں " تاریخ کا حصہ بن گیا ہے  ۔ سندھ میں  ہوشو شیدی کا لگایا گیا یہ نعرہ آج  بھی  سندھیوں کے لہو کو گرما دیتا ہے۔  کراچی میں شیدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچی نامور نقاد اور دانشور  پروفیسر ن م دانش، لیجنڈ فٹبالر عمر بلوچ،   ڈانسر ابراہیم  ڈاڈا، بلوچی کے نامور گلوکار جاڑوک بلوچ  نوجوان فٹبالر خالق بلوچ بھی سیاہ فام کی نامور شخصیات میں شامل ہیں ۔ جبکہ  2018 میں پاکستان پیپلزپارٹی نے شیدی کمیونٹی کی تنزیلہ قمبرانی کو ایم پی اے  منتخب کرا کے ایک قابل تعریف قدم اٹھایا ہے ۔

 پاکستانی سیاہ فام ایک لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کو کسی بھی طرح سے نسلی تعصب کا شکار نہیں بنایا جاتا ہے لیکن ان کی اپنی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ تعلیم کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں اس لیے وہ ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں ان کی اکثریت غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں ۔ ان کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔

 


افکار و نظریات: پاکستانی سیاہ فام