سید حسین عارف نقوی

نذر حافی

سید حسین عارف نقوی  مرحوم ایک ناقابلِ فراموش شخصیت ہیں۔ مرحوم کی ولادت ۱۹۴۲میں مرادآباد  (ہندوستان) میں ہوئی۔اُن کے والد کا نام سید صغیر حسین شاہ تھا، بعد  ازاں اُن کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا، پاکستان میں انہوں نے  راولپنڈی شہر سے اپنی دینی و دنیاوی تعلیم مکمل کی۔ان کی مادر علمی کو مدرسۃ الثقلین (مدرسہ آیت الله حکیم) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اُن کے معروف ترین اساتذہ میں سے مولانا  شیخ محمدحسین جعفری  اور مولانا   شیخ احمدحسین نوری کے نام سرِ فہرست ہیں۔

ان سے میری پہلی ملاقات  “مجلّہ نورِ معرفت اسلام آباد” کے اس وقت کے  مدیر قبلہ سید رمیز الحسن موسوی نے کروائی تھی۔ جس کے بعد مرحوم سے وقتاً فوقتاً مختصر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مجھے ان کی قلمی لطافت، منفرد اسلوب اور شیرین تجزیہ و تحلیل کا زیادہ تر اندازہ نورِ معرفت میں ان کے چھپنے والے مقالہ جات کے مطالعے سے ہی ہوا۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے اپنے تمام تر قلمی سفر میں صرف اور صرف انتہائی اہم علمی موضوعات پر ٹھوس منابع کے ساتھ قلم اٹھایا۔ وہ ساری زندگی  بغیر دینِ اسلام کی دفاعی اور تحقیقی بنیادوں پر کام کرتے رہے۔ ان کی نگارشات میں کتابوں کے علاوہ متعدد کتابچے اور کئی اہم مقالہ جات شامل ہیں۔ جہاں تک راقم الحروف کا حافظہ ساتھ دے رہا ہے، ان کی اہم ترین کتابوں میں سے چند ایک کا ذکر کئے دیتا ہوں۔ ان کی ایک تحقیقی کاوش “تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان” کے نام سے ہے، جس میں انہوں نے ہماری آئندہ نسلوں اور محقیقین کے لئے اپنے ہم عصر علمائے کرام میں سے تقریباً ساڑھے چار سو سے زائد علماء کرام کے حالات زندگی جمع کر دئے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب “تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان (شمالی علاقہ جات) بھی ہے۔ جس میں شمالی علاقہ جات کے تقریباً چار سو سے زائد علمائے کرام کے حالات زندگی درج ہیں۔ ان کی ایک شہرہ آفاق کتاب “برّصغیر کے امامیہ مصنفین” ۲ جلدوں پر مشتمل ہے۔ وہ چونکہ خود بھی ایک عالمِ دین تھے اور انہوں نے اپنی دینی تعلیم مدرسہ آیت اللہ الحکیم اور مدرسہ تعلیم قرآن راولپنڈی سے حاصل کی تھی، چنانچہ انہوں نے حوزوی کتابوں کے تراجم پر بھی توجہ دی۔ جن میں سے بطورِ نمونہ ایک کتاب تاریخ اصول فقہ شیعہ از محمود شہابی کا ترجمہ ہے۔ ترویجِ معارفِ قرآن و سنّت کے علاوہ انہوں نے دفاعِ قرآن و سنّت میں بھی قلم اٹھایا اور محمد و آلِ محمد (ع) کے بغض میں یا غلط فہمیوں کی بنیاد پر لکھی جانے والی کتابوں اور تصنیفات پر مقالہ جات کی صورت میں علمی نقد بھی کیا۔

اپنی ان تمام تر مصروفیات کے باوجود انہوں نے کتابوں اور مقالہ جات کی تصنیف کے ساتھ ساتھ عوام النّاس کے استفادے کے لئے چھوٹے چھوٹے کتابچے بھی لکھے، جن میں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا فریضہ بطورِ احسن انجام دیا۔ ان کے مختصر و مفید کتابچوں میں سے نمونے کے طور پر دو کا تعارف پیشِ خدمت ہے۔ عوام کو تعلیمات اسلامی سے آشنا کرانے کے لئے قرآن و اہلبیت (ع) کی تعلیمات کے عنوان سے ان کا صرف سولہ صفحات پر مشتل ایک کتابچہ ہے۔ اس کے علاوہ اکابرین تحریک کے عنوان سے بھی 5 کے 24 صفحات پر مشتمل ایک اور کتابچہ ہے، جس میں انہوں نے قبلہ مولانا سید محمد دہلوی، قبلہ مولانا مفتی جعفر حسین نجفی، قبلہ مولانا سید عارف حسین الحسینی شہید اور قبلہ مولانا سید ساجد علی نقوی کے حالات زندگی اور خدمات پر مختصر مگر جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

اربابِ علم و دانش بخوبی جانتے ہیں کہ کتابیات ،فہرست نویسی اور تحقیق کے حوالے سے وہ اپنے فن میں طاق تھے۔ ایک ایسی قیمتی شخصیت کا یوں خاموشی کے ساتھ ہمارے درمیان سے اٹھ جانا اور ہمارے کسی بھی پلیٹ فارم سے موصوف کی دینی و علمی خدمات کو منظرِ عام پر لانے اور آگے بڑھانے کا عزم نہ کرنا یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

اتوار کے روز٢٣ دسمبر ٢٠١٢  (ماہ صفر کی۹) تاریخ کو ان کی وفات ہوئی۔انہیں اسلام آباد کے مشہور قبرستان ایچ الیون  میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔  ان کے حافظے میں معلومات اور تاریخی حقائق کا ذخیرہ آخری عمر تک بخوبی موجود تھا۔ ان کی توفیقات اور ان پر خداوندِ عالم کے خاص لطف و کرم کا مشاہدہ صرف اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں دینی و قلمی خدمات انجام دیں، جب قلم کی طاقت سے دین کے دفاع اور علم کے تحفظ کا رواج ہی نہیں تھا۔ انہوں نے نہایت منفرد انداز میں لکھا اور اپنے تمام تر قلمی و علمی سفر میں تحقیقی معیارات، اجتماعی اخلاقیات اور باہمی اخوت کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ حتّی کہ مناظرے جیسے موضوع پر بھی انہوں نے جب قلم کو حرکت دی تو انتہائی میٹھے انداز میں، شیرین تعبیرات کے ساتھ اور اسلامی اخلاق کے عین مطابق، محبت و اخوت کے پیرائے میں وہابی و دیوبندی علماء اور ان کی مناظرانہ تصانیف کا تعارف کروایا۔

المختصر یہ کہ  کسی بھی علمی شخصیت کو فراموش کرنا، پورے ایک علمی عہد کو فراموش کرنے کے مساوی ہے اور جو لوگ اپنے علمی عہد سے ناطہ توڑ لیتے ہیں، وہ کسی طور بھی جہالت کی آغوش سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ حالات کی موجودہ تاریکی میں ہمیں اپنےمعاشرے کی علمی حالت  کو سامنے رکھتے ہوئے، اس عظیم شخصیت اور واجب الاحترام محقق کے  علمی و قلمی سفر کسی طور بھی رکنے نہیں دینا چاہیے۔

nazarhaffi@gmail.com

 


افکار و نظریات: سید حسین عارف نقوی