پاکستان میں مذہبی کارڈ اور  خواتین کی اہمیت
نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

PDF

پی ڈی ایف


ایک طرف تو اسلام کی تعلیمات ہیں اور دوسری طرف پاکستانی مسلمانوں کی زندگی اور معاشرہ ہے۔ صنف ِ نازک کے موضوع پر ان دونوں میں شدید اختلاف اور تعارض دیکھنے میں آتاہے۔اسلام خواتین کو گوہر مقدس سمجھتا ہے اور ان کی  تعلیم و تربیت اور عزت و ناموس کی حفاظت کو ہر چیز پر مقدم گردانتا ہے۔ دوسری طرف عملی طور پر پاکستانی مسلمان گھرانوں اور سماج میں  خواتین کی اہمیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہت کم خواتین کو اسلامی اقدار اور ماحول کے مطابق تعلیم و تربیت اور معاشرتی خدمات انجام دینے کے مواقع میسر آتے ہیں۔
ایک طرف زمانہ جاہلیت کی طرح آج بھی خواتین کے نقش و نگار کو شعرو شاعری کا موضوع بنایا جاتا ہے، اور اُن کے جسمانی خدوخال کو فلموں و ڈراموں میں نمایا ں کر کے دکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو گھورنا، ہراساں کرنا، آوازے کسنا اور اُن کے راستوں میں بیٹھ جانا، ان سب برائیوں کو جرم یا گناہ تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ اور دوسری طرف عورتوں کامال مویشیوں کی طرح  خرید و فروخت کرنا اور جانوروں کا سا لین دین کرنا، انہیں تعلیم سے محروم رکھنا اور انہیں ہر برائی کی جڑ سمجھنے کو اسلامی اقدار سمجھ لیا گیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ  عزت اور غیرت نیز  مختلف علاقائی و قبائلی رسموں وغیرہ کے نام پر عورتوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
گھروں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں بات بات پر خواتین کو بے شعور ہونے کا طعنہ تو دیا جاتا ہے لیکن اُن  کی تعلیم و تربیت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس عدم توجہ کا نتیجہ افلاس،پسماندگی،جہالت اور دہشت گردی کی صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ظاہر ہےجہاں پر عورت کو پسماندہ رکھا جائے اور اس کی تعلیم و تربیت پر قابل ذکر توجہ نہ دی جائے وہاں پر اچھی ،پروقار  اور باشعور نسل جنم نہیں لے سکتی۔ان پڑھ اور غیر تعلیم یافتہ ماوں کی گودوں میں دہشت گرد اور سماج دشمن افراد ہی پروان چڑھا کرتے ہیں۔آج ہم پاکستان میں بخوبی یہ  تجربہ کر چکے ہیں کہ جس صوبے کی خواتین جتنی پسماندہ اور عقب ماندہ ہیں وہیں مجموعی طور پر بھی  پسماندگی و عقب ماندگی سب سے زیادہ ہے۔یعنی خواتین اور صوبوں کی ترقی لازم و ملزوم ہے۔ اور یہی حال ملکی و قومی ترقی کا بھی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مذہبی کارڈسب سے زیادہ چلتا ہے، وہاں پر خواتین کا استحصال  بھی مذہب کے نام پر ہی  زیادہ  ہوتا ہے۔ ان دونوں صوبوں میں  مذہبی متشدد رویے خواتین کی تعلیم اور اُن کے سماجی کردار  کے راستے میں حائل ہیں،  یہاں پر اکثر روندے ہوئے جذبات اور کچلے ہوئے احساسات کے ساتھ خواتین پروان چڑھتی ہیں اور پھر اُ ن کی آغوش میں ایسی ہی نسل جوان ہوتی ہے جو  دوسروں کے عقائد و جذبات و احساسات کو درک کرنی سے عاری دکھائی دیتی ہے۔صوبہ سندھ اور پنجاب میں عورت کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے، اسے آپ اینٹوں کے بھٹوں، کھیتوں میں کام کرتے اور جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر لانے بلکہ بعض جگہوں پر تعمیراتی کاموں میں مشقت کرتے ہوئے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں بھی عام طور پر خواتین کو اچھوت سمجھا جا ہے۔اکثر  مرد حضرات کے دماغوں میں پہلے سے ہی یہ بیٹھا ہوا ہوتا ہے کہ عورتیں احمق اور بیوقوف مخلوق ہیں۔وہاں بھی خواتین کو معاشرتی مسائل میں حصہ لینے اور ملک و قوم کی خدمت کیلئے تعلیم  دلانے کے بجائے ، کچھ نہ کچھ تعلیم اس لئے دلائی جاتی ہے  چونکہ اب  وہاں ڈگری بھی سوشل اسٹیٹس (معاشرے میں مقام و مرتبے) کیلئے ضروری  سمجھی جاتی ہے۔ آزاد کشمیر  کے بہت سارے علاقوں میں بچیوں کی شادی بیاہ  کے موقعوں پر  زیورات کی طرح تعلیمی ڈگری  کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔اس عمل کا رد عمل بھی ان بچیوں کی آغوش میں پلنے والی نسل کی روزمرہ زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔ اب وہاں کے نوجوانوں کی اکثریت ڈگری اور سند کی تلاش میں ہوتی ہے۔ کچھ آئے یا نہ آئے نام کے ساتھ کسی نہ کسی دینی یا دنیاوی   تعلیمی  ڈگری یا سند کا ذکر ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
  پاکستان میں کہنے کو تو خواتین کی اہمیت اور حقوق  کے نعرے تو بہت لگائے جاتے ہیں،  سیاستدان، حکمران، مذہبی اشرافیہ،این جی اوز، اور  والدین  سب خواتین کی حالتِ زار کا رونا روتے ہیں لیکن عملا آج بھی مجموعی صورتحال ویسی ہی ناگفتہ بہ ہےجیسی ماضی میں تھی۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان جیسے  اسلامی ملک میں سرکاری و قومی یا معاشرتی سطح پر خواتین کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق  کوئی معیاری ، معتدل اور موزوں منصوبہ بندی  موجودنہیں ہے۔ مختلف عوامی  حلقوں کی طرف سے بھی زیادہ سے زیادہ  بچیوں کے لیے سلائی کڑائی کے مراکز، پبلک  سکول یا چھوٹا موٹا دینی  مدرسہ یا ہاسٹل  بنانے پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بچیوں کو تعلیم دلانے کا رجحان نسل در نسل کم ہی ہے ، جس کی وجہ سے بہت ساری بچیاں یاتو سکولوں میں داخل ہی نہیں کرائی جاتیں اور اگر داخل ہوبھی جائیں تو جلد یا بدیر تعلیم نامکمل چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں۔بہت سارے علاقوں میں اگر بچیاں میٹرک کر بھی لیں تو اس کے بعد دینی ماحول میسر نہ ہونے کے باعث  مجبور ہوکر انہیں تعلیم ترک کرنا پڑتی ہے۔بچیوں کو روزانہ تعلیمی درسگاہوں تک لانا  اور واپس لے جانا بھی ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی  خواتین آزادانہ طور پراکیلے اپنی تعلیمی درسگاہوں تک بھی نہیں جا سکتیں۔انہیں باقاعدہ باپ یا بھائی کی صورت میں روزانہ ایک سیکورٹی گارڈ  (محافظ) یا خصوصی ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہےسب خاندان سیکورٹی گارڈ یاخصوصی ٹرانسپورٹ سروس فراہم نہیں کر سکتے اور یوں بھی بہت ساری  بچیاں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں، چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ   پاکستانیوں میں پائی جانے والی بے راہروی بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کے راستے میں ایک اہم  مگر غیرمحسوس رکاوٹ ہے ۔
ہمارے ہاں خواتین کے حوالے سے زبانی ہمدردی اور جمع خرچ کا رواج تو ہے لیکن عملا مشکلات کو حل کرنے کا شعور اور سلیقہ ابھی تک مطلوبہ  سطح کو نہیں پہنچا۔