انوکھا انصاف

 آسیہ بتول، میرپورآزادکشمیر 

پولیس کا محکمہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت اورقانون کی پاسبانی کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔ درسی کتب میں بھی یہی بات بچوں کو پڑھائی جاتی ہے لیکن بچہ ابھی پوری طرح ہوش کو پہنچتا نہیں کہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ پولیس سے بچ کررہنا ہے ۔ جرائم کی کتب کا قلم پولیس کے ہاتھ میں ہے اور پولیس کبھی بھی کسی کا بھی نام اس میں لکھ سکتی ہے ۔ پولیس کو تنخواہوں میں عوام کا پیسہ دیا جاتا ہے لیکن بجائے اس کے کہ عوام تحفظ محسوس کرے لوگ پولیس کے نام سے ہی تھر تھر کانپتے ہیں،
گاہے بگاہے پو لیس کی ٹریننگ کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے تا کہ پولیس دیسی گر اور روایتی ٹوٹکوں پہ اکتفا کرنے کے بجائے محنت، جانفشانی اور نفسیاتی حربوں سے مسائل کو حل کرے لیکن لگتاہے کہ ٹریننگ پر اٹھائی جانے والی رقم بھی ضائع ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری پولیس وہی دیسی ٹوٹکے ہی استعمال کرتی نظر آ تی ہے اور حیرت کی بات ہے کہ ہمارے قانون کے رکھوالوں کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔

موٹروے کیس میں بھی یہی دیسی ٹوٹکا استعمال کیا گیا اور اسے مستند تسلیم کر کے جناب وزیر اعلی عثمان بزدار نے پولیس کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا۔

 ۹ ستمبر ۲۰۲۰ کو موٹروے پر زیادتی کا انتہائی مکروہ واقعہ پیش آیا جس کا مرکزی ملزم عابد علی روپوش ہوگیا۔یہ واقعہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا جس میں بےبس اور مدد کی منتظر خاتو ن مسافر کو نشانہ بنایا گیا ۔ ذمہ دار پولیس اہلکاربھی تھے جو مدد کی پکار سن لینے کے باوجود بھی تاخیر سے پہنچے ۔ واقعہ وائرل ہونے کی وجہ سے حکمرانوں کو نوٹس لینا پڑا فورا روایتی گر استعمال ہونا شروع ہو گئے اور قانون کے رکھوالے میدان میں آگئے ۔
 ملزم کی رو پوشی کی صورت میں خاندان بھر کے لوگوں کو اٹھا لیا گیا۔ یہی گر کام آیا اور ملزم ایک ماہ بعد مل گیا۔ بھاڑ میں ڈالو ساری ٹریننگ آ خر دیسی گر ہی کام آیا۔

عابد کی بیوی، بیٹی، بیٹا، بہنیں،ماں باپ سب ایک مقام پر تھانے کے باہر حراست میں ہیں۔ عابد کے والد کے بقول خواتین پر تشدد بھی کیا گیا۔ خاندان کے سارے مرد تھانےلے جائے گئے ۔ میڈیا بھی فخر سے رپورٹ کرتا رہا کہ عابد کا فالاں رشتہ دار، فالاں رشتہ دار پولیس کی حراست میں ہے ۔ اب پولیس حراست  کیا چیز ہے یہ سب ہی جانتے ہیں۔ پولیس کے بقول عابد کے بھائی قاسم علی کو وہاں سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ ریڑھی لگاتا تھا یعنی ریڑھی کا کام بھی ایک مہینے سے ٹھپ۔ پورے خاندان کو اٹھا کر حراست میں رکھنا کون سا قانون ہے؟

ماں باپ کو گھرمیں زیرِ حراست رکھنا،بیٹا گھر آیا باپ نے پکڑوا دیا مگر انعام کا وعدہ پولیس سے کیا گیا۔ کیا کوئی اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ اس کے گھر کی خواتین کے ساتھ اس سارے عرصے میں زیادتی نہیں ہوئی ہو گی؟

مردوں پر تشدد نہیں ہوا ہو گا؟ 

 یہ کس طرح کا قانون ہے کہ ایک انسان کو انصاف مہیا کرنے کے لیے درجنوں بے انصافیاں کی جائیں۔
قانون کی ایک مجرم کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کرنے کے لیے درجنوں قانون توڑے جائیں۔ وزیر اعلی عثمان بزدار سے سوال ہے کہ انھیں نظر نہیں آیا کس طرح ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

واقعی مجرم کو نشانِ عبرت بنایا گیا ہے لیکن مجرم کو سزا دے کر نہیں بلکہ اس کے خاندان کی خواتین کو بے آبرو کر کے، مردوں کو بے روزگار کر کے،  ہراساں کر کے اور کمسن بچوں کے ذہنوں کومفلوج کر کے ۔  واقعی معاشرے کو عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔ قانون
کے پاس مجرم کو نشانِ عبرت بنانے کا یہی طریقہ تھا کیونکہ مجرم کو کیونکہ پھانسی نہیں دے سکتے تھے ۔ پھانسی سے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے ۔

جب میں انتہائی تاسف سے عابدعلی کے ماں باپ کی کتھا سن رہی تھی تو میری بیٹی نے پوچھا ماما ملزم کے گھر والوں کو کیوں پکڑا ہے میں نے کہا ملزم کو واپس بلانے کے لیے ۔ کہنے لگی ہمار ی اسلامیات کی کتا ب میں لکھا ہے کہ باپ کا بدلہ بیٹے سے اور بیٹے کا بدلہ باپ سے نہیں لےسکتے ۔ میں بظاہر تو چپ رہی لیکن دل میں کہا وہ اسلامی قانون ہے ، یہ پاکستانی قانون ۔

 


افکار و نظریات: آسیہ بتول