لبیک یا رسول اللہ ﷺ یعنی۔۔۔؟ 

مقدر عباس


ہمارے لا محدود سلام اس پر کہ جسے رب العالمین نے رحمت للعلمین بنا کر بھیجا۔ سلام  اس ہستی پر کہ جو سید الانبیأ ہیں ۔جو مکہ و منیٰ کے وارث ہیں۔سلام اس پر جس نے اپنی ردا میں حجرِاسود کو اٹھایا۔سلام ہو اس پر جس کی بُراق ،سواری تھی۔جسے راتوں رات مسجدالحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی گئی۔سلام اس پر کہ جسے جبرائیل سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے۔سلام اس پر کہ جو مقامِ قاب قوسین او ادنیٰ کی منزل تک جا پہنچا۔
سلام اس پر کہ جس نے آسمان کے فرشتوں کو  نماز پڑھائی ۔سلام اس پر کہ جس پر ربِّ جلیل نے وحی فرمائی۔ان پر سلام جو طبیبِ دَوّار تھے۔جو اپنی حکمت کو لئے ہوئے ،اندھے دلوں ،بہرے کانوں اور گونگی زبانوں کا علاج کرتے تھے۔وہ ایسے طبیب کی مثل کہ جس کو انسانیت کا درد ہو،اور وہ  دوا لئےغفلت زدہ اور حیرانی و پریشانی کے مارے ہوؤں کی کھوج میں لگا رہتا ہو۔سلام ہو اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی۔سلام اس پر کہ جس نے بیکسوں کی دستگیری کی۔ جو ضعیفوں کا ملجا اور یتیموں کے لئے پناہ گاہ تھے۔سلام اس پر جس نے آ کر جاہلوں کو عالم،سود خوروں کو کسب حلال،قاتلوں اور زندہ در گور کرنے والوں کو فرزند دوستی،مشرکوں کو موحِّد،فرقوں میں منقسِم لوگوں کو منسجم،خرافات زدوں کو حقیقت  کے متلاشی اور ذلّت میں پڑے ہوؤں کو عزت و عظمت کی راہ دکھائی۔  "ذرّہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب" ۔سلام ہو ہادیِ برحق خدا کے صادق اور امین  رسولﷺ پر۔
اس پر سلام جو انسانیت کے غم میں مصلوں سے اشکوں کو ترَ کرتا تھا۔جوظلمات میں گھرے ہوؤں کے لئے مشعلِ راہ تھا۔جس کی امّتی امّتی کہتے کہتے،مناجات کرتے ہوئے سحر ہو جاتی تھی۔اس پر سلام کہ جسے پھر بھی پتھر مار کے لہو لہان کر دیا جاتا ،کبھی مجنون تو کبھی جادو گر کہا جاتا۔سلام اس مکارم اخلاق کی بلندیوں پر فائز رسولﷺ پر۔سلام اس پر جس نے ایسی حکومت کی بنیاد رکھی کہ جس میں کسی گورے کو کالے پر ،کالے کو گورے پر ،عجمی کو عربی پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں  تھی۔جہاں فضیلت کا معیار تقویٰ تھا۔سلام ہو اس کارخانۂ تربیت پر کہ جس نے ایسے انسانوں کی تربیت کی کہ جو دنیا کے لئے باب العلم ،نجات کی کشتی اور ہدایت کے چراغ بنے ۔اس پر سلام جس نے مردہ دلوں میں روحِ حیات پھونک دی۔وہ بلال رضی اللہ عنہ کہ جو لوگوں کے کہنے پر بھاگتے تھے۔یا رسول اللہﷺ یہ آپ کا کرم تھا کہ وہی موذّن جب اذان کی صدا بلند کرتا تھا ،تمام لوگ اس صدا پر لبیک کہتے ہوئے خانۂ خدا کا رخ  کر لیتے تھے۔خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے اُس زمانے میں اللہ کے  محبوب پیامبر ﷺ کو اذیتیں دیں ۔جن کی اذیتوں پر تبت یدا ابی الہب کی آیات نازل ہوئیں۔
پیغام ہے ان ذلیل،پست فطرت اور اسفل سافلین کے مصداق لوگوں پر کہ جو آج  نفس کی اسیری میں مبتلا،آزادی ٔبیاں کے نام پر محسنِ انسانیت کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔تم کیا ہو تم سے پہلے کتنے ابو جہل و ابولہب اس نور کے مٹنے کی آس لیکر  فی الناّر ہوئے۔تم نے خود اپنے آپ کو شجرۂ خبیثہ کا مصداق قرار دیا ہے۔یہ وہ نور ہے جس کے ِاتمام کا وعدہ خود خدا وندمتعال نے فرمایا ہے۔تم نہیں رہو گے،جب تک خدائی ہے  محمد مصطفیﷺ کا نام باقی رہے گا۔ایھا المسلمون!  آئیں سیرت و کردار میں اس صادق و امین پیامبر ﷺ کےاسوہ ٔحسنہ کو عملی کریں۔وہ جس رحمت للعلمین نے پَرایوں کو اپنا بنایا تھا۔ہم اپنوں کو پرایا نہ بنائیں۔ خدا ایک ،رسول ایک ،کلمہ ایک،قبلہ ایک،قرآن ایک  ،لیکن ہم کیوں ایک نہیں ہیں۔؟ہم اپنا رول ماڈل اُس مدینہ کو قرار دیں ۔جس کا سیاسی ،اقتصادی اور معاشرتی نظام اسلامی تھا۔لبیک یا رسول اللہ ﷺیعنی زبان سے بھی اور عمل سے بھی،کہ ہم ان طاغوتوں کے سامنے نہیں بلکہ الہیٰ اقدار کے سامنے سر جھکائیں گے۔تمام اخلاقی اقدار میں دنیا کے کیلئے رول ماڈل بنیں گے۔
افسوس ہو ان نام لیوا  مسلمانوں پر کہ جن کا نام تو مسلمان ہے لیکن آج روحِ اسلام سے خالی ہیں جو پنجۂ یہود میں جکڑے ہوئے ہیں۔جن کا رول ماڈل اللہ کے حبیب نہیں بلکہ  مغربی تہذیب کے یہ تراشے ہوئے بُت ہیں۔جہاں دشمنِ دیں،دشمنِ رسول اللہﷺ سے بیزاری کا اعلان کرنا ہے وہاں یہ بھی عہد کرنا ہے کہ  لبیک یا رسول اللہ ﷺ یعنی ہماری جان ،مال اور اولاد آپ کی راہ پر قربان۔لبیک یعنی یہ اقرار  کہ یہود و نصاریٰ  سے بیزاری کا اعلان،یعنی اس بات کا اعلان کہ تعلیم ،سیاست اور معاشرت آپﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہو گی۔

علّامہ اقبال ؒ کا پیغام
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی