مغرب اور مقامِ رسالت

محبوب اسلم

مغرب کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا درجہ کیاھے۔۔۔اصل بات یہ ھے کہ یہ سب اچھی طرح جانتے ھیں اور اپنی طاقت کے چھن جانے کے خوف میں مبتلا ھیں!!! 
اھلیان پاکستان 
السلام و علیکم 
فرانس کا صدر ملعون ایمانئیول مارکون ھو یا امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سب اچھی طرح جانتے ھیں کہ انکے کھوکھلے سرمایہ دارانہ نظام کو اگر کوئی حقیقی خطرہ ھے تو وہ اسلام سے ھے اور اسلام کی روح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ کیساتھ نتھی ھے۔۔۔تو یہ ھر ھر حربہ استعمال کر کے تھک چکے لیکن اسلام سر بلندی کی منازل طے کرتا چلا جا رھا ھے۔۔۔اس میں گو ھم مسلمانوں کا اور خاص طور پر ھمارے نااھل لیڈران کا کوئی کمال نہیں ھے۔۔۔لیکن میرے ربالعزت کا قول ھے کہ یہ دین سب پر افضلیت حاصل کر کے رھئیگا اور یہ ھماری آنکھوں کے سامنے ھو رھا ھے جب انھیں مغربی معاشروں میں پلنے والے افراد اسلام کو گلے لگاتے ھیں تو انکے لیڈران کی نیندیں حرام ھو جاتی ھیں اور یہ دیوانہ وار نبی پاک کی ذات اقدس پر  کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ 
مغربی معیشت سرا سر کساد بازاری کی مرھون منت ھے اور اس پر انکا بال بال قرضے میں جکڑا ھوا ھے لیکن یہ عوام سے ٹیکس کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر اس نظام کو سہارہ دئیے ھوئے ھیں۔ لیکن انکے معاشرے کا اصل المیہ انسان کی روح کی بے حالی میں پنہاں ھے۔۔۔جہاں انکی جوانیاں شراب اور ناچ گانے میں گذر جاتی ھیں تو آخری عمر اولڈ ھاؤس میں اور درمیان کی ادھیڑ عمر اپنے کتوں کیساتھ  نبھاتے ھوئے گذر جاتی ھے۔ 
انکی مادہ پرستی کی زندگی کو ذرا سا کریدے تو نیچےکا مکروہ اور تعفن زدہ چہرہ فوراً سامنے آ جاتا ھے۔ مثال کے طور پر آج کے اس جدید دور میں بھی انکے معاشرے میں کالے افریقی نژاد شہری برابری کے حقوق کیلئے سڑکوں پر پولیس تشدت کا شکار ھو رھے ھیں۔امریکہ میں  روزانہ تین عورتیں قتل کر دی جآتیں اور روزانہ چھ سو سے زائد کو جنسی تشدت کاسامنا ھوتا ھے۔ الغرض مادہ پرست معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ و برباد ھو چکا ھے اور  ایسے میں دین اسلام کی فطرتی روح اور پیغام سے متاثر ھوکر جب انکی عوام ھم مسلمانوں کی  کوتاھیوں کے باوجود اسلام قبول کر رھی ھے تو انکے لیڈران بوکھلاھٹ کاشکار ھیں کہ کہیں بیٹھے بٹھائے انکی اپنی سرزمین پر حالات انکے بس سے باھر نہ ھوجائیں۔۔۔
دوسری طرف مسلمان ممالک میں اب شعور جاگ رھا ھے عوام اپنے بکے ھوئے اور مغرب کے سامنے  دو زانوں جھکے ھوئے اورغاصب حکمرانوں کیخلاف جدوجہد کر رھے ھیں۔۔۔یوں یہ انسانی حقوق کے جعلی دعویدار لرزاں ھیں اور اچھی طرح جانتے ھیں کہ اسلام دین فطرت ھے نا کہ اشتراکیت کیطرح کا کوئی کوکھلا نظام جو حکمران طبقے کی کرپشن کے زور تلے مغرب کےسرمایہ کارانہ نظام کے مقابلے میں بلا آخر ھارگیا۔۔۔لیکن اسلام چودہ سو سال گذر جانے کے بعد بھی پوری آب وتاب کیساتھ نہ صرف موجود ھے بلکہ مغرب کی شاطرانہ چالوں اور اپنے ضمیر فروش حکمرانوں کی نا اھلیوں کے باوجود نہ صرف قائم و دائم ھے بلکہ آنے والے دنوں میں یہ دنیا مسلمان نوجوان ک ٹھوکر میں ھوگی۔ 
اور اسلام کا یہی خوف فرانس کے ملعون صدر ایمانئیول ماکرون جیسےافراد کی نیندیں حرام کیے ھوئے ھے۔۔۔یہ آزادئی رائے اور انسانی حقوق کا ڈھکوسلہ فرانس کی الجزائر میں مسلمانوں پرانسانیت سوز مظالم کے سامنے تار تار ھو جاتا ھے۔ انھیں ڈر ھے کہ یہ مسلمان پھر سے اکھٹے نہ ھو جائیں۔۔۔کہیں یہ مسلمان عوام اپنے ان حکمرانوں کو عبرتناک انجام سے دوچار نہ کر دیں جو انکی چوکھٹ پر ھمہ وقت ڈھیر ھیں۔۔۔لیکن ھونی کو کون ٹال سکتا ھے۔۔۔وہ وقت قریب آ لگا ھے۔۔۔فلسطین، عراق، شام، لیبیا، یمن، کشمیر، برما اور افغانستان میں بہنے والا مسلم لہو رنگ لا کر رھیگا ان شااللہ!!! 
ھم مسلمان ان حالات میں انکی ریشہ دوانیوں کا سب سے بہتر جواب اپنے اپنے ملک میں ان کی ٹاؤٹ حکومتوں کی بیخ کنی کر کے دے سکتے ھیں۔ یہ ایک طویل جدوجہد تو ضرور ھے لیکن یہ وقت کی اولین ضرورت ھے۔ ھر ھر اسلامی ملک میں ان شیطان کے چیلوں نے اپنے گرکوں کو اقتدار میں لا کر بیٹھایا ھوا ھے۔ ان کے یہ گرکے ان اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل پرقابض ھیں اور عوام دو وقت کی روٹی کوترس رھے ھیں۔ لیکن یہ معاملات اب زیادہ عرصہ اسطرح چل نہیں سکتے۔ مسلم نوجوان آج بیدار ھو چکاھے اور ان شا اللہ  اس معرکہ حق و باطل میں 
آخری فتح حق کی ھی ھوگی!!! 


 

 


افکار و نظریات: مغرب اور مقام رسالت