مردہ شگنی اور زندہ پیر

 تحریر: محمد زکی حیدری

 میرا نام رحمت خاتون ہے، ہم خانہ بدوش تھے، بلوچستان سے سندہ آئے تو سندھ دھرتی نے ایک محب ماں کی طرح اپنی بانہیں کھول کر ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا. ہمارا خاندان میرے والد بَگن؛ امی مومل، پانچ سالہ چھوٹی و لاڈلی بہن شگفتہ عرف شگنی اور مجھ پر مشتمل تھا، اس کے علاوہ دو دنبے اور ایک گدھا گاڑی بھی ہمارے گھر کے افراد کی مانند ہی تھے کیونکہ ایک خانہ بدوش ہی جانتا ہے کہ اس کیلئے چوپایہ و سواری کس اھمیت کے حامل ہوتے ہیں.

 ہمارے ساتھ ہمارے چاچا اور ماما کا خانہ بدوش خاندان بھی ہوتا، ہم اکثر شہر کے باہر پڑاو کرتے تھے.  ہم سندہ کے کھیتوں و میدانی علاقوں میں خیمہ زن ہوتے، خیمے سے میری مراد پھٹی ہوئی خستہ حال آٹے کی بوریوں سے بنی جھگی ہے. بارش ہوتی تو گدھے کو گاڑی سے جدا کر کے اس گاڑی کی اوٹ میں بیٹھ جاتے.

 مختلف علاقوں سے ہوتے ہوتے ایک بار ہم نے بدین (سندہ) کے قریب پڑاؤ کیا اور آئل ایکسپلورنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے ایک سندھی انجینئر جو ہمیں بچہ کچھا کھانا دیا کرتا، کو میں بہت پسند آئی تو انہوں نے ابا سے بات کی، میرے ہاتھ پیلے کر دیئے گئے، ابا، اماں، اور شگنی نے آزاد پنچھی کی طرح خانہ بدوشی کا سفر جاری رکھا اور میں اپنے خاوند کے ساتھ پہلے بدین اور پھر کراچی آگئی اور ایک ٹیوٹر کہ توسط سے پڑھنا لکھنا سیکھا. اب پچیس سال ہو چکے تھے کہ مجھے ابا، اماں اور شگنی کی کوئی خبر نہ تھی.

 ایک دن کراچی میں میرے میاں آفیس سے واپسی کے وقت ایک ادھیڑ عمر شخص، جو چھڑی کے سہارے چل رہا تھا، کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئے اور سندھی میں ان سے کہا "ھلیا چاچا ھلیا رحمت ردھنے میں ھوندی اچی ویندی" (آئیں چاچا آئیں رحمت باورچی خانے میں ہوگی آتی ہی ہوگی).

 میں نے باہر آکر بابا کو دیکھا، یہ میرے بابا ہیں!!! یقین نہیں آ رہا تھا وہ تو ہٹے کٹے تھے، اکیلے موٹا دنبہ اٹھا کر گدھا گاڑی میں ڈالا کرتے، آج کیا ہوا کہ کمر خم، ہاتھوں پہ جھریاں، بھنویں لٹکی ہوئیں.  میں روتی ہوئی قدموں میں گر گئی، میری سسکیاں سن کر ان کے اشک جاری ہوئے جو پل میں ایک دریاء بن گئے اور سارے بند توڑتے ہوئے ان کے چہرے کی جھریوں کا مسح کرتے زمین پہ گر رہے تھے. میں نے بلوچی میں پوچھا "بابا آئی اؤں شگنی کھیاں ھندھاں؟" (امی اور شگنی کہاں ہیں) ان کا کوئی جواب نہ آیا، وہ بس روتے ہی رہے میں سمجھ گئی امی خانہ بدوشوں کی واحد مستقل منزل تک پہنچ چکی ہیں. اور شگنی؟ ہاں اسے بھی کہیں بِہا کر آئے ہوں گے.  مگر میرا اندازہ غلط تھا. بابا نے جب مجھے شگنی کا بتایا تو مجھ جیسی خوددار خانہ بندوش، جو آج تک خودکو کئی امیروں سے بھی امیر تر سمجھتی تھی، کو بھی یقین ہوگیا کہ خانہ بدوش جیسا بدقسمت کوئی نہیں ہوتا.

شگنی اماں سے پہلے مر چکی تھی، بابا نے بتایا کہ ہم نے سردیوں کے موسم میں ایک درگاہ کے گردونواح میں پڑاؤ کیا تھا اس درگاہ کی عمارت بہت عالیشان و خوبصورت تھی ھر روز صبح قرآن کی تلاوت ہوتی، دور دور سے لوگ چادر چڑھانے آتے، گنبذ پر کاشی کا نفیس کام ہوا ہوا تھا، دیواروں پر آیات قرآنی، بہترین قالین، زائرین کی طرف سے نذرانے کے طور چاول کی دیگیں و اگر بتی کی خوشبو و گہما گہمی.

 ایک دن جاڑے کے موسم میں تیز طوفانی بارش ہوئی، شگنی کو بخار تھا اور پھر سرد ہوا چلی تو ننہی سی جان سردی سے ٹھٹھرانے لگی، ھر ایک بوند گولی کی مانند محسوس ہو رہی تھی جو جھگی کی بوسیدہ چادر کو چیرتی ہوئی جب معصوم شگنی کے جسم سے ٹکراتی تو شگنی لرز جاتی۔

 ماں نے اپنی پھٹی چادر سے اپنے لخت جگر کو لپیٹا مگر یہ جاڑے کی بارش تھی، دیکھتے ہی دیکھتے تیز ھوا تقریبا جھگی کی پوری چادر کو اپنے ساتھ اڑا لے گئی تھی، کھلے آسمان تلے ایک ماں اپنی شگنی کی سانسوں کی ڈور جوڑے رکھنے کی کوشش میں جاڑے کی طوفانی بارش سے برسرپیکار تھی، اتنے میں ابا کو خیال آیا شاید درگاہ پر کوئی ہو۔

اس نے بجلی کی سی رفتار پکڑی، کیچڑ سے بھرے کھیت، تیز طوفانی بارش و انتیسویں کی رات کے گھپ اندھیرے کی بھلا کیا مجال کہ ایک پابرہنہ باپ کا راستہ روک کر سکے، پلک جھپکتے میں بگن درگاہ کے دروازے پر تھا، متولی کی چارپائی خالی پڑی تھی شاید اس نے ٹھنڈ و بارش کی وجہ سے مقبرے میں سو کر دروازے بند کر دیئے تھے. بگن دیوانہ وار دروازے بجانے لگا مگر متولی سو رہا تھا، گلا پھاڑ پھاڑ کر چِلانے سے بھی بات نہ بنی۔

 بگن کے کیچڑ سے بھرے پاؤں جب درگاہ کے صحن میں نصب اعلی معیار کے ماربلز پر پڑے تو بگن دو بار پھسل کر گرا، لیکن اس نے درگاہ کے چاروں دروازے بجائے کہ شاید کوئی چادر یا گرم کپڑا مل جائے مگر نہ شد!  جب ناکام ہوا تو واپس جھگی کی طرف دوڑا. جب جھگی پہ پہنچا تو اسے مومل کی گود میں زرد چہرے والی شگنی نظر آئی جو اب ہمیشہ کیلئے سکون کی نیند سو چکی تھی.

 میں اس درگاہ کے پہلو میں بنے قبرستان میں جب اپنی شگنی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئی تو اس وقت کئی لوگ درگاہ پہ چادریں چڑھانے آ رہے تھے، میں سوچنے لگی  کہ جب اللہ (ج) کا فرشتہ درگاہ پہ  ڈالی جانے والی ان ڈھیر ساری چادروں کا ثواب لکھے گا تو کیا شگنی کا بوسیدہ پیراہن اس کے قلم کی جنبش کو روک نہ دیگا. کیا سردی سے ٹھٹھراتی شگنی کے جسم کی بجائے درگاہ پر چڑھائی جانے والی چادر سے ارحم الرّاحمین خوش ہو کر ان کے رزق و مال و فصل و... میں برکت ڈالے گا؟

ہاں شہید زندہ ہوتے ہیں، وہ پیر صاحب بھی شہید تھے، سو وہ بھی زندہ تھے ظاہر ہے انہیں بھی چادر کی ضرورت تھی، یعنی *زمـــین پر کھیلتی کودتی شگنی مردہ تھی اور قبر میں پڑے ہوئے وہ پیر صاحب منوں مٹی تلے دفن ہوکر بھی زندہ اور چادر کے زیادہ حقدار تھے۔

 


افکار و نظریات: مردہ شگنی اور زندہ پیر