ملتِ پاکستان کی عظمت

منظوم ولایتی

رہبر معظم سید علی حسینی خامنہ ای نے مختلف مواقع پر پاکستان اور اس کی ملت کے بارے میں بالعموم اور بعض مواقع پر پاکستان کے اہل تشیع کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔

کوشش ہے کہ اس تحریر میں مجلہ " العمار" سے امام خامنہ ای کے ان بیانات کی روشنی میں پاکستان ، ملت پاکستان اور تشیع پاکستان کی خصوصیات کو حوالہ جات سمیت بیان کیاجائے۔ رہبر معظم کے خیالات کو کاماز کے اندر بیان کر رہا ہوں۔
یاد رہے کہ یہ تحقیق جناب سید شجاعت علی زیدی صاحب کی طرف سے انجام پائی ہے، جزاک اللہ سید۔

"پاکستان کا تاریخی ماضی اس بات پر گواہ ہے کہ پاکستان کی ملت حقیقی معنوں میں ایک مسلمان ملت یے اور بہت گہرے اسلامی احساسات کی حامل ہے"۔ ( 18/09/1372 ہجری شمسی)

" پاکستان کے مسائل مسلمانوں اور خود ہمارے دوسرے مسائل و اہداف سے قطعا جدا نہیں ہیں ہمیشہ سے ملت ایران اور ملت پاکستان میں ایک مخصوص رابطہ رہا ہے جو ہمیشہ یادگار اور روز بروز مستحکم ہوگا"۔(16/10/1370 کو پاکستانہ وفد سے ملاقات کے دوران)

" حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم اور پاکستانی قوم کے مخلص افرادطخاص طور پر شیعیانِ پاکستان ایران کی ملت کیلیے مختلف مسائل میں ایک مضبوط پشت پناہ کی حیثیت رکھتے ہیں، انقلاب کی ابتداء ہی سے ایسا رہا ہے، آج بھی ایسا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔ میرا ذاتی عقیدہ ہےکہ پاکستانی قوم قوم کا ایمان بہت ساری مسلمان اقوام یا شاید کہا جاسکے کہ اکثر مسلمان اقوام سے ذیادہ عمیق ہے اور اس کے لیے میرے پاس دلیل بھی موجود ہے، اور وہ یہ کہ اس ملک پر سالہا سال انگریزوں نے حکومت کی ہے اور یہ سارا علاقہ انگریزوں کے زیر تسلط تھا انگریز جتنا کرسکتے تھے اس قوم کو دین سے جدا کرنے کیلے وہ انہوں نے کیا اور بالآخر آج اس تمام کوشش اور دباو کا جو نتیجہ ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے اور وہ ایک گہرا ایمان اور اسلامی جوش و جزبہ ہے جو آج بھی باقی ہے"۔ (حوالہ مذکورہ بالا)۔

" پاکستان کی قوم ایک عظیم قوم ہے ، جسکی تاریخ ایک طویل اور لمبی مجاھدت پر مبنی ہے، پاکستان کی قوم اسلام پر ایمان رکھنے والی قوم ہے کہ جس کی ترقی اور پیشرفت ایرانی قوم کیلیے خشحالی کا باعث ہے"۔(25/04/1390 کو ایک خطاب)

ماضی قریب میں پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب سے جو تباہی ہوئی تھی اس میں رھبر معظم کی فوری مالی ، سیاسی اور اقتصادی مدد کے علاوہ نماز عید کے خطبہ میں پردرد اور محبت بھری حمایت کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جس میں آپ آبدیدہ ہوگئے تھے، اور ہزاروں لاکھوں نمازیوں کو بھی گریہ پر مجبور کردیا تھا۔ اس خطبہ میں آپ پاکستانی قوم کو مومن ،پیش قدم اور دیانت دار ملت کیسے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے فرمایا:
" آج بین الاقوامی معاملات میں سب سے اہمترین مسئلہ جو امت اسلامی کیلیے اہم ہے وہ پاکستان میں آنے والا سیلاب ہے، اس کا نام سیلاب ہے مگر درحقیقت ایک عظیم بلا اور بہر بڑی مصیبت ہے جو آج پاکستانی قوم پر نازل ہوئی ہے۔ وہ پاکستانی قوم جو مومن اقوام میں ایک مومن ملت ہے یہ قوم مختلف مسائل میں دوسری اقوام کے ساتھ پیش قدم اور ان سےطپہلے میدان میں حاضر ہوئی ہے، دیانت اور دینی اقدار کی پابندی اس قوم کی خاصیت ہے، آج یہ قوم ایک عظیم مصیبت میبتلاء ہے۔ دریائے سندھ کی طغیانی کی وجہ سے آج شمال پاکستان سے جنوب پاکستان تک سیلاب آیا ہوا ہے، شمال میں چین کی سرحدوں سے لیکر جنوب میں بحیرہ ہند تک ایک بہت بڑے سیلاب ، بہت بڑی طغیانی اور بہت بڑے طوفان کی وجہ سے لوگوں کہ زندگی مکمل طور پر برباد ہوچکی ہے۔ دس ہزار سے زیادہ گاوں برباد ہوچکے ہیں ، تمام باغات اور کھیتی باڑی کہ اس قوم کے رزق اورطامید کا باعث تھی خراب ہوچکی ہے، اقتصاد و دولت برباد ہوچکی ہے، دسیوں ہزاروں سکول، مساجد اور امام بارگاہیں اس طویل اور عظیم سیلاب میں برباد ہوچکی ہیں۔ وہ اطلاعات جو مجھے دیں گئیں ہیں ، دریائے سندھ جس کی چوڑائی عام حالات میں ڈیڑھ سے دو کلو میٹر ہے، فی الحال نوے کلومیٹر ہوچکی ہے۔لوگ مال مویشی، زندگی، گھر امیدیں سب ختم ہوچکی ہیں ۔
وہ اندازہ جو اب لگایا جاسکا ہے تقریبا چالیس سے پچاس ہزار مین ڈالر کا ہے۔ دو کروڈ لوگ آوارہ ہوچکے ہیں اور ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس میں بچے ، بوڑھے، خواتین اور معذور افراد شامل ہیں۔

آج یہ قوم اس حالت میں بھی رمضان میں روزہ رکھ رہی ہے۔ آج عید کا دن ہے ، روز امت اسلامی ہے ایرانی قوم ہمت کرے اور مدد کرے۔ ایران حکومت نے مدد کی ہے وہ کافی نہیں ہے اور زیادہ مدد کریں یہ ہم سب کا فرض ہے یہ ہمارے مومن اور مسلمان بھائی ہیں جو اس مصیبت کا شکار ہوئے ہیں، سب پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں۔ یہ فقط ملت ایران کہ ذمہ داری نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کی ذمہ داری ہے کہ میں تمام اسلامی ممالک اور اقوام سے مخاطب ہوں سب پر لازم ہے مدد کریں۔( 19/04/1389شمسی کو عید الفطر کا خطبہ)

"پاکستانی قوم کی موجودہ مشکلات کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ اسلام اور دینی معارف سے وابستہ ہونا ہے" پاکستانی قوم اور اس کی وحدت کے حقیقی دشمن یہ مغربی ممالک اور ان میں سے سر فہرست امریکہ ہے"۔( 19/07/1368 شمسی کو ایک خطاب)

اس تحریر کا اختتام رھبر معظم کی پاکستانی قوم کو کی جانے والی الہی اور سیاسی نصیحت سے کرتے ہیں جو کہ سنہرے حروفطسے لکھے جانے کے قابل ہے:
" قلم، سرمایہ، تبلیغات اور غلام ممالک کے پست فطرت استعماری مزدور، منظم طور پر اسلامی انقلاب ایران اور اس کی فداکار ملت کے بارے میں پروپیگنڈا کر کے ان میں تفرقہ و اختلاف اور عوامی صفوف میں۔شگاف کرنا چاہتے ہیں، خدا کی لعنتطان ہاتھوں پر جو اس انداز میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کررہے ہیں ہم تمام مسلمانوں اور خاص طور پر ملتوں کی سطح پر یہ نصیحت کرتے ہیں اور اس میں پاکستانی ملت کو خاص طور پر یہ نصیحت کرتے ہیں کہ بعض علماء نما افراد ، حکومتوں اور استکبار سے وابستہ ذاکرین کو اس بات کی اجازت نہ دین کہ تفرقہ انگیز باتوں اور نعروں سے مسلمان بھائیوں میں اختلاف پیدا کریں"۔( 19/07/1368 شمسی کو ایک خطاب)

حالیہ دونوں جشن صادقینؑ کے موقع پر 3 نومبر 2020ء کو رھبر معظم نے اپنے خطبے کے دوران پاکستانی کے اندر اس سال بعض ذاکریں اور علماء نما حضرات کی طرف کی گئی شر انگیزیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"امام خمینیؒ کی جانب سے اعلان کیے جانے والے ہفتہ وحدت کی اہمیت کو اگرچہ ہمارے مسلمان ممالک کے حکمران زیادہ نہ سمجھ سکے لیکن دشمن اس کی اہمیت سے زیادہ آگاہ ہے کہ کس قدر اپنے اپنے عقیدہ پر رہتے ہوئے وحدت کی فضا قائم کرنا امت اسلامی کے لیے اہم ہے اسی لیے وحدت اسلامی کے برخلاف دشمنوں کی جانب سے مختلف نظریاتی و عسکری مراکز قائم کیے جاتے ہیں اور اقدامات کیے جاتے ہیں (جیسے MI6 برطانیہ یا CIA کے تکفیری لشکر داعش کا قیام) کہ وحدت کے خلاف مواد تیار کرتے ہیں اور اپنے نوکروں (ایجنٹوں) کو اکساتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کریں کہ جیسے آپ نے دیکھا کہ ہمارے ہمسائے ملک (پاکستان) میں ایک ذاکر (مثلا آصف رضا علوی) منبر پر آتا ہے اور دوسرے اسلامی فرقے کے مقدسات کے خلاف منبر سے توہین کرتا ہے اور پھر سفارت برطانیہ میں جا کر پناہ لیتا ہے۔ ایسی مزید روشن و متعدد مثالیں آپ کے سامنے ہیں کہ یہ دشمن چاہتے ہیں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف غضب دلائیں اور آپس میں لڑائیں"۔

اللہ تعالی پاکستان کی ملت کو اتفاق و وحدت کی لڑی میں پرو دے۔