اساتذہ کو ہتھکڑیاں پہنانا انسانیت کی بدترین تذلیل ہے۔ حکامِ بالا نوٹس لیں۔ تاجر برادری، سول سوسائٹی ، انسانی حقوق ، صحافیوں اور معزز شہریوں کی طرف سے حکومتِ آزاد کشمیر اور پولیس کی شدید مذمت۔

تفصیلات کے مطابق کوٹلی آزاد کشمیر میں پرائیویٹ سکولز کالجز ایسوسی ایشن﴿اپیسکا﴾ نے لاک ڈاون کے خلاف پُر امن احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرےکے بعد پولیس نے اپیسکا کے معزز اساتذہ کو ذلت آمیز انداز میں گرفتار کیا، اور انہیں ہتھکڑیاں پہنا کر جیل میں بند کر دیا گیا۔


اس پر معززین علاقہ سمیت ملک کے گوش و کنار سے باشعور طبقے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے حکومتِ آزاد کشمیر کی شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کیمطابق احتجاج کرنے پر علاقے کے معروف اور قابلِ قدر اساتذہ کرام چوہدری مطلوب حسین، عامر زیب اور راجہ مکرم عباس کو ہتھکڑیاں پہنانے اور جیل میں بند کرنے پر سکولوں و کالجز کے طلبا و طالبات نیز معززین علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عوامی احتجاج اور معززین علاقہ کے دباو کے باعث اسا تذہ کو رہا تو کر دیا گیا لیکن اس سے اساتذہ کے منصب کی جو توہین ہوئی ہے اس پر لوگوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔

اپنے ایک بیان میں میجر ﴿ر﴾ ملک محمد حنیف خان، میجر ﴿ر﴾ سردار محمد عظیم خان، میجر ﴿ر﴾گل اختر، میجر ﴿ر﴾ سردار محبوب حسین سدوزئی، میجر ﴿ر﴾سردار محمد سلیم خان، صوبیدار﴿ر﴾ سید نثار حسین شاہ، گرداور﴿ر﴾ راجہ سخی دلیر خان ریٹائرڈ نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اور اس اہانت اور توہین کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے صدائے کشمیر انٹرنیشنل فورم کے ترجمان احمد کشمیری نے بھی ایران سے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تعلیم کے مقدس پیشے کا تقدس اور طلبا و طالبات کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھی حکامِ بالا سے اس واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔