اقوام کی تقدیر

حسن نواز چیمہ

یہ سوال ہمارے ہاں بہت عام ہے۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان پر اربوں رپوں کا قرض کیسے چڑھا؟ ذمہ دار کون ہے؟ عوام یا حکمران؟ یا دونوں؟
عام طورپر یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی جیبیں بھری ہیں، جس وجہ سے آج دھرتی ماتا قرضے کے بوجھ تلی دبی ہے اگر حکمران عوام کے لیے نرم گوشہ رکھیں اور ایمانداری کو اپنا شیوہ بنا لیں تو پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل دوبارہ کر سکتا ہے کیوں کہ

"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی"۔

مندرجہ بالا جواب ہر اس پاکستانی کا ہے جو میری طرح حالات کے ہاتھوں مجبور ہے اور مسیحائی کیلئے کسی معجزے کا منتظر ہے۔
آئیں اس جواب کا جائزہ لیتے ہیں۔اس کے جواب کا ایک پہلو تو بجا ہے مگر دوسرا نامکمل ہے۔ مطلب قرضوں کی وجہ کرپشن ہے لیکن اگر ہم اس کو مکمل طور پر حکومتی کھاتے میں ڈال دیں تو یقین مانیے سراسر زیادتی ہو گی مگر جزوی طور پر ڈالنا آپ کا حق بنتا ہے۔ آئیں اس کرپشن کے کھیل کی نفیسات کو جانتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ انسان کرپشن کرتا ہی کیوں ہے؟
میرے نزدیک دوسروں پر برتری حاصل کرنے کا جذبہ انسان سے کرپشن کرواتا ہے۔ ہم جانتے ہیں غلبے کی خواہش قدیم ترین انسانی فطرت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔تو اس حلقۂ انسانی میں فقط حکمران ہی شامل نہیں ہوتے رعایا بھی ہوتی ہے۔

حکمرانوں کی کرپشن تو آپ سب جاتے ہی ہیں آج بات کرتے ہیں۔ رعایا کی کرپشن یعنی کہ ہماری اپنی کرپشن جو ہمارے نزدیک نیکی کا کام نہیں تو گناہِ کبیرہ بھی نہیں۔ چلیں شروع کرتے ہیں:
سب سے پہلے میرے پیدا ہونے پر کرپشن کی گئی۔ رکیے ذرا ! غلط کیوں سمجھتے ہیں۔کیسے کرپشن کی گئی ولادت کے بعد ایک پیدائشی سرٹیفیکیٹ بنتا ہے شاید آپ کو معلوم ہو,اس سرٹیفیکیٹ پر میری عمرتقریباً پانچ سال کم لکھوا کر کرپشن کی گئی مگر اس کو کوئی کرپشن ماننے کو کوئی تیار نہیں۔

ایک دفعہ میں نے اپنے بزرگوں سے پوچھا کہ حضرت یہ عمر کم کیوں لکھواتے ہیں تو انہوں نے مسکرا کر پنجابی میں جواب دیا "پتر توادے واستے ای کیتا اے نوکری تو چھیتی ریٹائر نہیں ہوو دے"۔

بابا جی کی اس قدر دوراندیشی نے مجھے ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔
اس کے بعد میں سکول جانے لگا ایک دن میں نے سکول سے چھٹی کا مطالبہ کیا تو یہ کہہ کر دل بہلا دیا گیا کہ آج چلے جاؤ کل چھٹی کر لینا۔یقین مانیے یہ جملہ آٹھ سے دس سال سنا سنا کر میرے جذبات کے ساتھ کرپشن کی گئی مگر اس کو کوئی کرپشن نہیں مانتا۔
ایک دن درگاہ کے پاس سے گزر رہا تھا وہاں لنگر تقسیم کیا جا رہا تھا اصول یہ تھا کا ایک بندے کے لیے صرف ایک چاولوں کا پیکٹ ہے مگر میں نے وہاں چکما دے کر چار پیکٹ لے لیے جو میرے لیے باعث مسرت تھا مگر اس طرح میں نے چار پیکٹ لے کر باقی تین بندوں کے حصے سے کرپشن کی مگر اس کو کوئی کرپشن نہیں کہتا۔
اس کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لینا تھا مگر سابقہ کارکردگی ناقابلِ قبول تھی تو کرنل صاحب کی سفارش کروا کے میرٹ پر آنے والے بندے کے مستقبل کے ساتھ کرپشن کر کے ناموار یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا مگر اس کو کوئی کرپشن نہیں مانتا۔
ایک دن مسجد میں نماز کے ارادے سے گیا تھا مگر وہاں ایک خوش نم اور نفیس چپل نے دل کو بہلا دیا اور اُس باٹا کی چپل کو خاموشی سے چرا کے گھر لے آیا اس چپل کے مالک کے ساتھ کرپشن کی مگر کوئی اس کو کرپشن مانتا ہی نہیں۔
اور پھر الیکشن کا دور تھا اور میں نے پانچ سو روپیہ لے کر ووٹ بیچ کر قوم کے ساتھ کرپشن کی مگر اس کو کوئی کرپشن نہیں کہتا۔کیوں نہیں کہتا؟
آپ کو معلوم ہے ہمارے نزدیک کرپشن کیا ہے؟ حکومتی کارندوں کا اعلیٰ معیار زندگی اور حکومتی نمائندوں کی غیر معمولی تفریح ہمارے نزدیک کرپشن کی تعریف ہے جو بچپن سے سکھائی گئی ہے۔
حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کیا آپ میری طرح کی کرپشن تو نہیں کر رہے اگر کر رہے ہیں تو حکومت کو لانے والے بھی آپ ہو اور ملک پر اربوں کا قرضہ چڑھانے والے بھی آپ ہو۔ بقول شاعر:

تنقید کے تقاضوں میں اب خوف سا آتا ہے صاحب
غلطی سے میری آنکھیں میرا گریباں دیکھ بیٹھیں

میرے نوجوان دوستو! یاد رکھو!"جس طرح کی رعایا ہو گی اس طرح کے حکمران اس پر مسلط کر دیے جائیں گے"۔ اگر دھرتی ماتا کو قرضوں کے چنگل سے آزاد کروانا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو بدلو اور جس طرح کی حکومت کے خواہش مند ہو خود اس طرح کے بن جاؤ۔ تمام حالات میں اکائی کی بہتری ہی بہتر حالات کی شروعات ہوتی ہے۔پس اس معاشرے کی بہتری آپ سے منسلک ہے جس دن تم بہتر ہو گئے سب بہتر ہو جائے گا۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ


افکار و نظریات: اقوام کی تقدیر