اقبال کی نگاہ میں کشمیر

کالم نگار  |  محمد صادق جرال

موجود وقت دونوں طرف کے کشمیری مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے جس طرح مجید نظامی کو ہی مضبوط آواز سمجھتے ہیں بلاشبہ مجید نظامی نے اس کا پورا حق ادا کیا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے کشمیر کے مظلوم مسلمان علامہ محمد اقبالؒ سے رجوع کرتے تھے۔ مفکر پاکستان فرزند کشمیر علامہ محمد اقبالؒ کشمیر کے حالات پر کتنے افسردہ تھے جس کا اندازہ انکے اس اظہار سے ہوتا ہے۔

 ’’آج وہ کشمیر ہے محکوم‘ مجبور و فقیر ۔۔۔ کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر‘‘

جب گلاب سنگھ نے کشمیر کو انگریزوں سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض خرید لیا تھا تو علامہ اقبالؒ نے اس کا اظہار ایسے کیا

’’می تواں ایران و ہندوستان خرید۔۔۔  بادشاہ را ازکس ناتواں خرید‘‘

یعنی ہندوستان اور ایران و دنیا کے کسی بھی ملک کو خریدا جاسکتا ہے لیکن بادشاہی کو کسی سے بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ یہ یا تو طاقت سے حاصل کی جا سکی ہے یا پھر رعایا کے دل جیتنے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

 1846ء میں کشمیری ڈوگرہ کی غلامی میں جکڑے گئے گلاب سنگھ کی اولاد نے کشمیریوں پر ہر طرح کے ظالمانہ ٹیکس لگائے ان کی کیفیت پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ انسانی فروخت اور ظلم پر خون کے آنسو روتے تھے اور اس کا اظہار کیا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’کہ اے صبح کی ہوا اگر تیرا گزر جنیوا کی طرف ہو تو ہماری طرف سے مجلس اقوام (جو اس وقت کا بین الاقوامی ادارہ تھا) سے کہہ دینا کہ ظالم انگریزوں نے کسانوں کو کھیتوں‘ نہروں اور باغات کو بیچ دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں پوری قوم کو بیچ دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کتنے سستے داموں فروخت کیا گیا ہے۔

 علامہ اقبالؒ نے محنت کشوں کی حالت پر کہتے ہیں کہ سرمایہ دار انکی محنت و مشقت سے بنائی ہوئی ریشمی قبا پہنتے تھے اور محنت کش کے نصیب میں پھٹا لباس ہوتا تھا۔

علامہ اقبالؒ ،سید علی ہمدانی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں میں قوموں کی تقدیر ہے اور وہ قوموں کی تقدیر بنانے والے ہیں۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں ایسی دانشمندانہ قوم جس کو علی ہمدانی نے علم و ہنر سے بہرہ ور کیا ہو اس کو صنعت و حرفت دیا۔ تہذیب و تمدن دیا آج وہی ہنر مند قوم زبوں حال ہے۔

 ’’بقول اقبال چرب دوست و تر دماغ قوم ہے‘‘ جو آج ذلت و افلاس کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ جو ساری دنیا میں ایران صغیر کے نام سے مشہور ہے اہل کشمیر کی قابل رحم حالت دیکھ کر علامہ اقبالؒ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ’’ازاں مئے فشاں قطرہ‘ برکشیری کہ خاکسترش آفریند شرارے‘‘

 اے اللہ کشمیر کی مٹی سے ایسی چنگاری پیدا کر جو انقلاب برپا کرے، جو کشمیریوں پر ظلم و ستم کے خلاف پوری دنیا میں انسانیت کو جگاے۔ اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبالؒ کی یہ دعا قبول کر لی۔ اہل کشمیر نے خواب غفلت سے انگڑائی لی اور ڈوگرہ سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔

کشمیر میں 2/3 واقعات ایسے ہوئے جس میں درجنوں کشمیری شہید ہوئے اور 13 جولائی 1931ء کو 22 افراد کا سنٹرل جیل سرینگر کے باہر سینوں پر گولیاں کھائیں۔ 1932ء کو سیاسی شعور ملا اور آج جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیریوں کی محبت میں کشمیر کے طویل دورے کئے۔

 1947ء میں کشمیری مجاہدین نے بغاوت کرکے مہاراجہ کے 10 ہزار فوجی مار دئیے۔ آزاد کشمیر اور گلگت‘ بلتستان کا علاقہ آزاد ہوا‘ مہاراجہ رات کے اندھیرے میں فرار ہو گیا۔ تقسیم ہند کے اصول کے مطابق مسلمانوں کی کشمیر کی بڑی ریاست کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہئے تھا لیکن سازش کے تحت 27 اکتوبر 1947ء کو جبراً رات کے اندھیرے میں کشمیر پر قبضہ کر لیا گیا۔

 آج کشمیر کی جدوجہد بھی علامہ اقبال اور قائداعظم کی قیادت چاہتی ہے۔ اس تاریک دور میں کشمیریوں کی نظر میں صرف مجید نظامی کی قیادت اور آواز ان کے لئے اندھیرے میں روشنی ہے۔ ہماری ناکامی اور انتشار کی وجہ نظریہ پاکستان سے دوری ہے۔ ہماری منافقانہ پالیسیاں ہی ہماری تباہی کا باعث ہیں۔