ترجمانِ پنجاب کا شکریہ 

تحریر ابو ولی اللہ خان بہاولپور 

مشیر وزیر اعلی پنجاب فیصل حیات خان جبوانہ سیال صاحب کی اساتذہ کرام سے خوشگوار ملاقات اور اساتذہ خوشی سے نہال۔ 
ہزاروں خاندانوں کا معاشی استحصال کرنے کو ریاست مدینہ کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ پنجاب کے ایسے اساتذہ کرام جن کو کورونا وبا کی پہلی لہر میں یونیورسٹیوں کے بند ہونے کی وجہ سے بی ایڈ کا رزلٹ تاخیر سے ملا۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال میں ایسے اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔ اب کورونا وبا کی دوسری لہر اور یونیورسٹیاں بند ہیں اس لہر میں بھی مزید اساتذہ کرام کو نوکریوں سے فارغ ہونے کے خدشات۔ پنجاب ٹیچرز یونین ABQ نے 3 دسمبر 2020 کو صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس سے التماس بھی کیا کہ 8 ماہ سے اساتذہ کرام فاقوں پر مجبور ہیں اس لئے انہیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور نہ کریں بلکہ جلد بحال کرکے اپنے وعدوں کا پاس رکھیں۔ مراد راس نے پنجاب ٹیچرز یونین سے مذاکرات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ جلد ایسے تمام اساتذہ کو بحال کیا جائے گا جن کا رزلٹ کورونا وبا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ۔ لیکن بدقسمتی کہ اساتذہ کرام کے مسائل پر غور کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہیں کیونکہ اس نام نہاد ریاست مدینہ میں استاد کے مقام کو پیروں تلے روند کر عمدہ کارکردگی پیش کی گئی ہے۔ اتنے عرصے سے اساتذہ کو محکمہ نے بہانے بنا کر چکر پہ چکر لگانے پر مجبور کر دیا۔ سبز گنبد خضرا تو آج بھی موجود ہے اعلی حکام و افسران خود کو انسان سمجھتے تو انہیں اساتذہ کو ذلیل و خوار کرنا اچھا نہیں لگتا لیکن موجودہ حکومت و محکمہ ایجوکیشن کے سربراہان اتنے بے حس ہیں کہ اساتذہ نے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے واسطے دیۓ کہ نبی کریم ص کے صدقے اساتذہ کرام پر رحم کریں اساتذہ بہت مجبور ہیں اور سڑکوں پر نکلنے کو شرمندگی سمجھتے ہیں اس واسطے پر شاید وزیر اعلی پنجاب تو ابھی تک نیند میں ہیں لیکن پاکستان ذمہ دار شہری کے چیئرمین جناب حافظ عمر الغزالی صاحب کی خصوصی کاوش سے حکومت پنجاب وزیر اعلی کے صوبائی اسمبلی و سپوکس پرسن جناب فیصل حیات جبوانہ سیال صاحب سے ملاقات کی درخواست کی کہ اساتذہ 8 ماہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں براہ کرم ان سے بات کریں اور ان کے مسائل کا حل کریں۔ فیصل حیات جبوانہ صاحب نے اپنے والدین کی تربیت و اساتذہ کی تربیت کی بہترین عکاسی کرتے ہوئے پنجاب ٹیچرز یونین کے قائدین سے ملاقات کی حامی بھری اور نہایت خوشگوار ملاقات ہوئی جس میں پنجاب ٹیچرز یونین نے  8 ماہ سے معاشی استحصال اور کورونا کی وجہ سے ملازمتوں سے فارغ کر دیۓ جانے والے اساتذہ کو بحال کرنے کی سمری   PS/SSE 696جو سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے منظوری کےلیۓ وزیر اعلی پنجاب کو بھیجی ہوئی ہے اس پر کاروائی کرنے کی استدعا کی جس پر سپوکس پرسن حکومت پنجاب جناب فیصل حیات صاحب نے مثبت کردار ادا کرنے کی حامی بھری بلکہ فوری طور پر کورونا وبا میں نوکریوں سے فارغ اساتذہ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ کے دفتر درخواست ارسال کی اور پنجاب ٹیچرز یونین کے قائدین کو عزت و احترام کا مقام دیتے ہوئے عزت دار خاندان کا بیٹا ہونے کا اور نبی کریم ص کے امتی ہونے کا ثبوت دیا۔ فیصل حیات جبوانہ سیال صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ اساتذہ مزید ذلیل و خوار نہ ہوں بلکہ اساتذہ کی پریشانی حکومت پنجاب کی پریشانی ہے۔ 
پنجاب ٹیچرز یونین اور تمام اساتذہ کرام مشیر وزیر اعلی پنجاب جناب فیصل حیات جبوانہ سیال صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور احترام سے پیش آۓ۔ 
پنجاب ٹیچرز یونین پاکستان ذمہ دار شہری کے چیئرمین جناب حافظ عمر الغزالی صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے عملی قدم اٹھایا اور اپنی پہلی کوشش کو کامیاب بنایا۔ 
لیکن 8 ماہ سے اساتذہ کی تنخواہوں کی بندش نہایت تکلیف دہ ہے اس لیۓ ایسے اساتذہ کرام نے پنجاب ٹیچرز یونین سے التجا کی کہ دسمبر میں ہی بحال کرایا جائے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے۔ جس پر پنجاب ٹیچرز یونین ABQ کے قائد و مرکزی صدر وحید مراد یوسفی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ " بی ایڈ کی بنا پر Terminated ایجوکیٹرز کی بحالی میں بلا جواز تاخیر کے خلاف  29 دسمبر بروز منگل 2 بجے دن وزیر اعلی پنجاب ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور یہ دھرنا کورونا وبا میں نوکریوں سے فارغ اساتذہ کی بحالی تک جاری رہے گا "  یاد رہے اساتذہ کرام 8 ماہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں سڑکیں بلاک اس لیۓ نہیں کرتے کہ میڈیا عوام کو یہی دکھاۓ گا یہ سیاسی حربے ہیں۔ حکومت ۔ میڈیا اور عوام بھی اساتذہ کو ذلیل و خوار ہوتا تو دیکھ رہے ہیں لیکن بد قسمتی ساتھ نہیں دے رہے کیونکہ کوفے میں بھی یہی ہوا تھا۔  اساتذہ نے اب ٹھان لی ہے دسمبر میں حتمی فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ 
امید ہے کہ سیکریٹری ایجوکیشن پنجاب۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس۔ اور مشیر وزیر اعلی پنجاب جناب فیصل حیات جبوانہ سیال صاحب اس مسئلے کو دسمبر میں ہی حل کرکے حالات گھمبیر نہیں ہونے دیں گے۔ اساتذہ کی امیدیں فیصل حیات صاحب پر جمی ہوئی ہیں دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ص کا یہ امتی اساتذہ کا کتنا درد رکھتے ہیں۔ ٹیچرز کی جو فیصل حیات جبوانہ صاحب سے ملاقات ہوئی اس پر تمام اساتذہ ان کے شکر گزار ہیں 
اللہ کرے اور امید کی جاتی ہے ریاست مدینہ میں اساتذہ سڑکوں پر ذلیل و خوار نہیں ہونگے۔

 


افکار و نظریات: ترجمانِ پنجاب کا شکریہ