۱۶ دسمبر۔۔۔دہشت گردوں کا مذہب کیوں نہیں ہوتا؟
ابو آیت
ہمارے ہاں جھوٹ نہیں پکڑا جاتا۔  دہشت گردی کے مراکز  جگہ جگہ ہیں، جہاں مدرسہ ہو وہیں جہاد ہاوس ہے، جہاں دوچار مولوی نظر آئیں وہیں خطرہ ہے،   اُن کے نیٹ ورکس سب کے سامنے ہیں،   ان کے سرپرست کسی سے ڈھکے چھپے نہیں،  اُن کے مالی و سیاسی و سرکاری اور نیم سرکاری سہولتکار سب عیاں ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے بڑے  قوم سے یہ فرماتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں  ہوتا۔  
قارئین محترم!فیصلہ آپ کیجئے۔  یہ لوگ جودینی مدرسوں کے پڑھے ہوئے،    علمِ دین کے حامل ،  قرآن و حدیث کے حافظ،  نماز گزار ،شلوار کے  پائنچوں کو گھٹنوں تک بلند رکھنے والے،  داڑھی کو ناف تک بڑھانے والے،  شیو و پینٹ شرٹ کو کفر و گمراہی کہنے والے اور  توحید و جہاد کے علمبردار ہیں۔۔۔ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے یا اُن کا کوئی مذہب نہیں ہے  جو  خود ہی دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں۔
 پشاور میں وارسک روڈ پر  آرمی پبلک اسکول ( اے پی ایس ) واقع ہے۔  16 دسمبر 2014 میں کالعدم تحریک طالبان کے عسکریت پسندوں نے حملہ کر کے طلباء اور اساتذہ کو قتل کرناشروع کیا۔   اسکول میں تقریباً 1100 افراد رجسٹر ڈتھے جن میں سے 960 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔شہید ہونے والے بچوں کی عمریں  9 سے 16 سال کےدرمیان تھیں۔سفاک دہشت گردوں نے سکول میں گھس کر معصوم بچوں کا قتل عام کیا ۔  اساتذہ سمیت ایک سو چالیس نہتوں کو گولیوں کی بوچھاڑ  سے شہید کر دیا۔ 
 ایک ٹیچر بچوں کو بچنے یا چھپنے کا بتا رہی تھی ۔ اسے(پرنسپل)  زندہ جلایا گیا۔ چھپنے والے بچوں کو  کر ایک دوسرے کے سامنے خون میں نہلایا گیا۔  پاک آرمی کی کوئیک رسپانس فورس 15 منٹس میں  موقع پر پہنچ گئی۔ اس وقت ساتوں دہشت گرد پاک آرمی کے ہاتھوں  واصل  جہنم ہوئے۔ 
 اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کہیں محفوظ نہیں رہے گی۔  ملک میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔  
 تحریک طالبان پاکستان کے  ترجمان احسان اللہ احسان نے  اس حملے اور  ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری  قبول کی تھی۔ سوشل میڈیا کے مطابق احسان اللہ احسان  کی پانچ فروری 2017 کو گرفتار ہونے کی خبریں آئیں۔پاکستان فوج کی جانب سے اپریل 2017 میں احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان پیش کیا گیا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اس اعترافی بیان کی ویڈیو میں انھوں نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا۔  یہ بھی کہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔
احسان اللہ احسان کے مطابق انھوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی ۔ وہ بعد میں تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان بھی رہے۔ حیرت کی بات اور لمحہ فکریہ  ہے کہ یہ صاحب  11 جنوری 2020 کو  فوج کی حراست سے بھاگ  گئے۔ مگر کیسے ؟؟ اس بارے میں کوئی کچھ جانتا ہے نہ شاید کبھی جان سکے گا۔
 آج سانحہ اے پی ایس کی چھٹی برسی ہے ۔  جس دن یہ ظلم ہوا اُس روز آپ سب کی طرح میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ   یہ دہشت گرد کون لو گ ہیں!؟ ہم پہچاننا چاہ رہے تھے اِن دہشت گردوں کو لیکن ان پر پردہ ڈال دیا گیا۔    معصوم پھولوں  کو مادر علمی کی گود میں اپنی سفاکیت کا نشانہ بنانے والوں کے چہروں پر نقاب ڈال دی گئی۔   ہمیں یہ کہہ کر چپ کروا دیا گیا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب  نہیں ہوتا۔ 
اب بعض ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان پر نیا احسان کر دیا گیا ہے۔اُن کے سرپرستوں اور سہولتکاروں نے ان کے لئے اگلی خلافت کے راستے اور منزلیں تلاش کر لی ہیں۔ ان کا نیٹ ورک  اب نئی امارتِ اسلامیہ  کی تلاش میں  چل نکلا ہے۔  اس وقت سرکار کے ملک دشمنوں کی فہرست میں نہ کوئی طالبان ہے اور نہ ہی احسان اللہ احسان۔ بلکہ  بعض ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان اپنے جیالوں کے ہمراہ ترکی کا مہمان ہے۔اب ترکی کی خلافت کا احیا کیا جائے گا۔
ایسے میں  سانحہ اے پی ایس کے شہید بچوں کے والدین سخت پریشان ہیں۔  انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ  طالبان اور احسان اللہ احسان کا کوئی دین و مذہب نہیں ہے یا اُن کی سرپرستی اور سہولتکاری کرنے والوں کا!؟  اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے ہم مسلک اور ہم مذہب اعلیٰ حکومتی  اور حساس اداروں کی کلیدی پوسٹوں پر موجود ہیں، اس وقت تک دہشت گردوں کے مذہب پر پردہ ڈالا جاتا رہے گا۔

 

 


افکار و نظریات: دہشت گردوں کا مذہب