اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مسئلہ کشمیر و فلسطین۔۔۔ منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک 17 دسمبر 2020 کو پانچواں آن لائن سیشن منعقد ہوا، عنوان جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات تھا۔ سیشن کا اہتمام سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم نے کیا تھا۔ سیشن کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمے سے کیا گیا۔ ایجنڈے کے مطابق مسئلہ کشمیر کے خدشات اور امکانات پر گفتگو ہوئی۔ ابتدائیے میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے ترجمان محترم نذر حافی صاحب نے گذشتہ سے پیوستہ گفتگو کو اپنےمخصوص انداز میں خلاصہ کیا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

تحریر : ابو آیت
انہوں نے کہا کہ بقولِ اقبال آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ
منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ص ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں !
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟
فقط کہنے کو ہم اتحاد و اتفاق کے داعی ہیں ۔ لیکن ہم سب اپنے اپنے فرقوں اور پارٹیوں تک محدود ہیں۔ ہر مسئلے پر تقسیم در تقسیم ہیں۔ اسی تقسیم کے باعث غلامی در غلامی کے جال میں بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابتدائیے کے ساتھ سیشن کے پہلے معززمقررماہر تعلیم جناب جواد کاظمی صاحب کو دعوتِ گفتگو دی۔ یاد رہے کہ جناب جواد کاظمی صاحب کا اپنا تعلق خود آزاد کشمیر سے ہے۔ انہوں نے مقدمے میں کشمیر و فلسطین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حوالے سے آگاہی اور شعور اجاگر کرنا بہت دانشمندانہ اور احسن عمل ہے۔ اُنہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا کہ ستر سال بیت گئے ہیں لیکن عالمی برادری ان مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ خاموشی امت مسلمہ کے لئےالمیہ اور سانحہ ہے۔ اُمت مسلمہ بھی اتنی بڑی امت ہو کر کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور اُمت مسلمہ کی طرف سے بطور کشمیری، بظاہر مجھے مایوسی نظر آتی ہے۔آج بحیثیت کشمیری مجھے میری شناخت خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو ہمیں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رہ کا یہ فرمان سنایا جاتا ہے کہ " کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" اور دوسری طرف کشمیر کو تقسیم در تقسیم کر کے اُسکی شناخت ہی ختم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی کتب میں درج ہے کہ کشمیر کی سر زمین چار ہزار سال سے پے در پے فتح کی جاتی رہی ہے۔ اب حالت یہاں تک آگئی ہے کہ کشمیر اپنا وجود اور اپنی شناخت کھو دینے کے قریب ہے۔
یہاں جناب جواد کاظمی صاحب فرط جذبات میں ڈوب گئے اورانہوں نے اپنی بات روک دی۔
میزبان جناب نذر حافی صاحب نے مائیک تھاما، اور اس سوال کے ساتھ ، مائیک ایک بار پھر جناب جواد کاظمی صاحب کے حوالے کر دیا ، انہوں پوچھاکہ اب اس صورتحال کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
جواد کاظمی صاحب نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے آزاد کشمیر چالیس ہزار مربع میٹر، گلگت بلتستان اٹھائیس ہزار مربع میڑ اور مقبضوضہ کشمیر تینتالیس یا چوالیس ہزار مربع میٹر ہے۔ اس طرح جموں اینڈ کشمیر کل 84 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ دنیا کی ایک سو پانچ ریاستوں میں سے ایک بڑی ریاست کشمیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ابتدا میں ہی حل کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک پلانٹڈ مسئلہ ہے۔ بڑی طاقتیں چاہتی تھیں کہ دو ریاستوں کی تقسیم کے وقت ان کے درمیان یہ مسئلہ رکھ دیا جائے۔ پاکستان اور ہندوستان دو الگ اور بڑی ریاستیں ہیں ۔ تقسیم کے وقت ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی سے کام لیا گیا۔
شروع میں میں استصواب رائے کی بات کی جاتی تھی ۔اب بہتر (72) سال بعد یہ بات بھی بھلا دی گئی ہے۔ کشمیری کیا چاہتے ہیں ؟؟ یہ آج تک کسی نے نہیں جانا۔ عالمی طاقتوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے کے لیئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں قائداعظم کے بعد کوئی قیادت نہیں ابھری ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری یہی صورتحال ہے کہ بقول ِشاعر
احباب کیا کار ہائے نمایاں کر گئے
بی اے کیا ، نوکر ہوئے، پینشن لی اور مر گئے
انہوں نے کہا کہ جب امام خمینی رہ سے پوچھا گیا کہ آپ انقلاب کی بات کرتے ہیں تو آپ کی فوج کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا " میری فوج ماوؤں کی گود میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قیادت کے بعد ہمیں بھی اپنی نسل کی ھمہ جہتی تربیت پر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خلوص سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد پروگرام کے دوسرے معزز مہمان نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ دوسرے مہمان جناب رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب تھے۔ رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب ایک سیاسی و سماجی شخصیت ہیں، خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کے پاس بہت زیادہ عملی تجربہ ہے۔ وہ ٹریک ٹو یا شٹل ڈپلومیسی کے سلسلے میں اس سے قبل تین بار ہندوستان جاچکے ہیں۔
انہوں نے ایک عینی شاہد ہونے کے ناطے چناب فارمولے کے پسِ منظر پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھاکہ واجپائی صاحب نے کہا تھاکہ مسئلہ کشمیر دس سے بارہ مہینوں میں حل کر دونگا۔ انہوں نے کہا کہ چناب فارمولے کے مطابق دریائے چناب کے ایک طرف غیر مسلم اکثریتی علاقوں کو تقسیم ہند فارمولے کی طرح ، ہندوستان کے پاس رہنے دیا جائے۔ جبکہ چناب کے اوپر مسلم اکثریتی جموں ،وادی کشمیر ، لداخ اور کارگل وغیرہ کے اضلاع کو پاکستان میں شامل کر دیا جائے۔
انہوںنے اس موقع پر ایک سفارتی وفد کا ذکر بھی کیا۔ اس وفد میں مشرقی پاکستان کے چیف منسٹر سردار ترلوتن سنگھ اور معروف زمانہ صحافی و سفارکار جناب کلدیپ نیرصاحب شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ سردار ترلوتن سنگھ نے انہیں بتایا تھاکہ جب کھلے ڈولے ماحول میں دو پنجابی ملتے ہیں تو بات کھلی ہوتی ہے۔ سردار ترلوتن سنگھ کے بقول شہباز شریف نے ملتے ہی کہا کہ سردارجی ، جموں " تہاڈا تے کشمیر ساڈا "۔ ان کے مطابق ۔ واجپائی صاحب میزائل پر نہیں مارکیٹ پر توجہ دے رہے تھے۔ ان کی نظر میں پاکستانی مارکیٹ بھی اندیا کے پاس ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح سنٹرل ایشا ، افغانستان، ایران ، عراق کی منڈیاں بھی انڈیا کو مل جاتیں۔ پس یورپ کی منڈی تک رسائی آسان ہو جاتی۔ تب ممکن تھا یورپی یونین کی طرز پر سارک پارلیمنٹ وجود میں آتی۔
انہوں نے بتایا کہ اس فارمولے پر دونوں طرف کی جمہوری حکومتیں راضی تھیں۔ مگر ہماری اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے تقسیم کشمیر کے اس چناب فارمولے کو ناکام کرنے لئے کارگل کا ایشو کھڑا کر دیا۔ کارگل ایشو در اصل چناب فارمولے کو قبول نہ کرنے کی ایک چال تھی۔کارگل کے ہیرو مارشل لا لگا کر فرنٹ پر آگئے۔ دو ہمسایہ ممالک کے ما بین جنگ تو ممکن نہیں تھی ۔ مذاکرات تو ہونے ہی تھے ۔ پھر وہی پرویز مشرف صاحب مسئلہ کشمیر کے حل کو ایسی طرف لے کر چلے گئے کہہ جس سے یہ مسئلہ ایک گورکھ دھندہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے ہاتھوں کی لگائی گئی گرہیں ، دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے تینوں اصلی فریق آپس داخلی طور پر متحد نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایک فریق اسٹیبلشمنٹ اور دوسری سیاسی قیادت ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ بی جے پی اور دوسری کانگرس۔ چناب فارمولے پر یہ تینوں فریق ایک حل پر متفق ہو گئے تھے۔ یاد رہے شملہ معاہدے میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اب یہ آپکا باہمی معاملہ ہے۔ آپ خود ہی یہ حل کریں۔ جب خود ہی حل کرنا تھا تو ان کے درمیان ایک ایگریمنٹ طے پا گیا تھا ۔ جناب خورشید قصوری صاحب نے اس پر باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ اس میں دعوی کیا گیاہےکہ ہم نے اس معاہدے کے ڈرافٹ کا آخری کامہ تک چیک کر لیا تھا۔ فقط اس پر دستخط ہونا باقی تھے۔ یوسف رضا دھنیالہ صاحب کے بقول جس طرح ہماری طرف سے کارگل جنگ چھیڑی گئی اسی طرح ہندوستان کی طرف سے محترمہ سونیا گاندھی نے اس فارمولے کو ناکام کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگرس کی پردھان تھیں۔ سردار من موہن سنگھ پرائم منسٹر تھے۔ سونیا گاندھی خوش فہمی میں مبتلا ہوئیں کہ ہم الیکشن جیت جائیں گے۔ بر سر اقتدار آئیں گے۔ تب میرا بیٹا راہول گاندھی اس تاریخی معاہدے پر اپنے ہاتھوں سے دستخط کرے گا۔ لہذا اس معاہدے کو الیکشن کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا۔ لیکن کانگرس الیکشن ہار گئی اور مودی حکومت آ گئی۔ اب تو مودی صاحب دوسری بار الیکش جیت چکے ہیں۔ وہ فارمولا، ابھی تک تینوں مذکورہ فریقوں کی ٹیبل پر رکھا ہوا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ جزئیات قابل ذکر ہیں۔ گلگلت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پاکستانی علاقوں میں پاک فوج تعینات رہے گی۔ جموں اور لداخ کے غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں انڈین آرمی رہے گی۔ مسلم اکثریتی مقبوضہ علاقوں سے انڈین آرمی کا انخلا ہوگا۔ اس طرح تین علاقے عملی طور پر وجود میں آئیں گے۔ گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی اضلاع میں انتظامی امور کے لئے ملیشا کی طرز پر فورس بنائی جائے گی۔ تین زون ہونگے۔ ملیشیا ، مقبوضہ کشمیر کا اندرونی انتطام سنبھالے گی۔ اس کے پاس نیم خود مختاری رہے گی۔ یہ ایک طرح سے مہاراجہ والی ریاست ہوگی۔ کشمیری پورے کشمیر میں آجا سکیں گے۔ لداخ والے کشمیر، کشمیر والے لداخ جا سکیں گے۔ گلگت بلتستان والے بھی اسی طرح حرکت کر سکیں گے۔ تینوں علاقوں میں کشمیریوں کو آنے جانے کی آزادی ہوگی۔ یہ بغیر پاسپورٹ کے حرکت کر سکیں گے۔ اس میں بھی پیچیدگی موجودہے۔
پاکستان کے مطابق کشمیر ہمارا ہے، سارے کا ساراہے۔ ہمارا تو سلوگن ہی یہی ہے۔ انڈیا کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ لہذا اس عبوری سیٹ اپ کی مدت دس سال معین کی گئی۔ کشمیری دہری شہریت کے ساتھ، پاکستانی اور ہندوستانی شہری کہلائیں گے۔ اس طرح یہ اپنی شناخت بھی قائم رکھیں گے۔ اس عرصے میں دونوں طرف کے میل جول سے انکی رائے پختہ ہوگی۔ دس سال بعد عبوری سیٹ اپ کو ری نیو کیا جائے گا۔ یہ ساری بات اختصار کے ساتھ بیان کی جاری ہے ۔ ممکن ہے ذہنوں میں سوالات آئیں ۔ ابہام ہوں۔ مگر اس پروگرام میں اسی اختصار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اب کرونا وائرس کی وبا نے اپنا کام کر دکھایا ہے۔ اس پر بھی سوچنا چائیے۔ آیا یہ بیالوجیکل ویپن ہے۔ اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں اب دشمن پر ایٹم بم گرانےکا وقت گزر گیا۔ اب ایسے ہتھیاروں سے جنگ ہو گی۔ جو فقط انسانوں پر اثر کریں گے۔ چرند پرند، نباتات ، جمادات، حیوانات اور مکانات سب اپنی جگہ پر باقی رہیں گے۔ صرف اور صرف انسان درمیان سے ہٹا لئے جائیں گے۔ پس مسئلہ کشمیر کے حل کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ مذاکرات اور امن ہی کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ اپنے پرائے سب دیکھ رہے ہیں۔ عربوں میں غیرت ہے نہ سکت۔ حمیت نام کی بو تک نہیں اُن میں ۔ دوسری طرف فلسطینی عوام بہت تکلیف میں ہیں۔ آیندہ پاکستان ،آذر بائی جان، ایران، ترکی ، سنٹرل ایشا ، چائنا اور روس کا بلاک اتحاد کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ فلسطینی مزاحمت موجود رہے گی۔ عالمی سطح پر بھی مسئلہ فلسطین زندہ رہے گا۔ جلد یا بدیر اس کا بھی دو ریاستی حل ہی نظر آتا ہے۔ یہ بھی اپنے اندر بہت زیادہ پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ تا حال فلسطین کا زیادہ تر حصہ اسرائیل ہڑپ کر چکا ہے۔ بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے۔ مگر اسرائیل سارے کے سارے فلسطین کو ہضم نہیں کر پائے گا ۔
اس سیشن سے بخوبی یہ نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ اہلیانِ پاکستان کا کشمیر اور فلسطین کے ساتھ نظریاتی اور جذباتی لگاو ہے۔ حکومتی سطح پر پالیسیاں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں لیکن عوامی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے ساتھ پاکستانیوں کا عشق ناقابلِ زوال ہے۔پاکستانی ایک نظریاتی قوم ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں نظریات پر سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں۔ ساری دنیا بھی اگر کشمیر اور فلسطین کو چھوڑ دے پھر بھی پاکستانی عوام کشمیریوں اور فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں