کیا تاریخ دہرائی جائے گی ؟

عمر چوہدری

 ہماری سیاسی تاریخ ہمیشہ ہی متزلزل رہی ہے اِدھر انتخابات ہوئے اُدھر دھاندلی کی آہ و بکا شروع ہوگئی دلچسپ امر یہ ہے کہ دھاندلی کے ”رولے“ اور الیکشن کمیشن میں ”درخواست بازی“ کے مراحل کے باوجود فیصلہ اس وقت آتا ہے جب موصوف ممبر قومی اسمبلی /ممبر صوبائی اسمبلی اپنی دھاندلی زدہ نشست کے پورے مزے لے رہے ہوتے ہیں (ان مزوں میں ’پارلیمنٹ سے بازار حسن تک‘ کے ”مزے“ مطلب نہ لیا جائے) ”غیر پارلیمانی واقعات“ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ حکومتیں بنتی بھی اِدھر اُدھر سے” ہمدردی“ مانگ کر ہیں ”اتحادی“ جب چاہتے ہیں ”سر“ اُٹھانا شروع کر دیتے ہیں اور مطالبات کی فہرست پیش کر کے” منتخب “وزیر اعظم کو” ڈرانا“ شروع کر دیتے ہیں اور پھر ”وزیر اعظم“ یا اس کے ”دست ِ راست“ ناراض افراد کو رام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور کہیں نہ کہیں ”چاروں شانے چت “کر ہی دیتے ہیں اور اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر لیتے ہیں ۔سیاسی ”ایجنڈے“ کی چھان پھٹک کی جائے تو صورتحال خاصی ”بھیانک“ ہے پاکستان بنا تو کچھ اپنوں ”سمیت دشمنوں“ نے سازشی کا کردار ادا کیا پہلے وزیر اعظم کو راولپنڈی کے موجودہ لیاقت باغ میں بھون دیا گیا اور ”باغ“ ان کے نام سے منسوب کر دیا ،قائد اعظم کی رحلت کے بعد ان کی بہن فاطمہ جناح کو کسی ”کلیدی“ عہدے تک رسائی نہ دی گئی اس دور میں بھی ”اعزاز ی“ مشیران کی ”رَسم“ ہوتی تو یقینا وہ جھنڈے والی سرکاری گاڑی میں کچھ دن گزار لیتیں لیکن یہاں تو جانوروں کے گلے میں ان کے نام کی تختیاں لٹکا دی گئیں ،قائد اعظم سے متعلق اِن کی کتاب شائع ہونے سے روک دی گئی حتیٰ کہ مزار قائد کے اندر ان کی تدفین پر پابندی لگائی گئی ۔بعد ازاں انہیں مزار کے احاطے میں دفن کرنے کا ”اعزاز“ بخشا گیا۔
فیلڈ مارشل ایوب خان کے منہ بولے بیٹے نے نو عمری میں وزارت کے مزے لوٹے اور ”ڈیڈی، ڈیڈی“ کر کے میلہ ہی لوٹ لیا لیکن جنرل ضیاءکو جناب کی بڑھتی ہی ”عادتیں“ ایک آنکھ نہ بھائیں اور وہ راولپنڈی کے ایسے پارک میں جہاں کبھی جیل ہوا کرتی تھی پھانسی پر چڑھا دیے گئے اور یہ نظارہ ایک اہم سرکاری ہاﺅس سے براہ راست دیکھا گیا ،ن لیگ کے نواز شریف، ضیاءالحق کے طفیل ہی پروان چڑھے اور مسلم لیگ کے حصے بخرے کرنے کے بعد الگ دھڑا بنانے میں کامیاب ہو کر وزارت اعلیٰ سے وزارت عظمیٰ تک جا پہنچے اسکے پس منظر میں”اتفاق شوگر ملز“کی طویل کہانی بھی ہے۔
 (جو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں)
ضیاءالحق حادثے سے دوچار ہوئے تو بینظیر بھٹو کی ”لاٹری“ نکل آئی ،نواز شریف کارنر کر دےے گئے لیکن بینظیر کا اپنے ہی صدور سے ”یارانہ“ نہ ہو سکا اور وہ بھی گئیں۔نواز شریف پھر ”میدان“ میں اتارے گئے لیکن جنرل مشرف نے سری لنکا سے پاکستان سفر کے دوران انہیں ”ناک آﺅٹ“ کر دیا ،جنرل مشرف اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘میں لکھتے ہیں کہ ’حقائق عوام کے سامنے ہیں‘۔ نواز شریف پر زمین پر بیٹھ کر” جہاز اغوائ“ کرنے کا ”منفرد“ کیس بنا ۔وزارت عظمیٰ سے فراغت ،اٹک جیل ،سعودی عرب کی نوازشات کے باعث وہ بھی ملک بدر کر دےے گئے بینظیر کو دوبارہ ملک میں بلایا گیا اور وہ اس بار ملک کے پہلے وزیر اعظم کی ”قتل گاہ“پر صفحہ ہستی سے کوچ کر گئیں جن کی جگہ ان کے خاوند آصف علی زرداری کو ”ڈور“ تھما دی گئی جنہوں نے جی بھر کراقتدار کا مزہ لیا ۔
 اقتدار کا کھیل کھیلانے والوں نے سوچا کہ یہ دونوں پرانے ”جغادری “کسی کام کے نہیں ہیں کیوں نہ تیسری قوت لائے جائے۔ طویل دھرنے اور ”سبز باغ“ دکھانے کے ماہر عمران خان معیار پر پورے اتر ے، عوام نے انہیں ”منتخب“ تو کرا لیا لیکن ان کے ”وعدے ہوا میں اڑ گئے “۔غریب ،غربت کی لکیر سے کہیں نیچے زندہ درگور ہو کر ر ہ گیا ملک میں ان کی اپنی پارٹی کے ”راضی“ ورکروں کے سوا سب ناراض نظر آتے ہیں حکومتی ایوانوں اور سرکاری اجلاسوں کی ”اندرونی“ کہانیاں زیادہ ”مثبت“ نہیں ہیں۔
 گزشتہ دو تین ماہ سے موجودہ حکومت کے گرائے جانے کی خبریں زیادہ ”معتبر“ ہوتی جا رہی ہیں۔”باوثوق ذرائع“کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کے حوالے کر چکے ہیں جس پر صرف تاریخ ڈالنا باقی ہے۔ اِدھر کچھ نجومی خواتین نے تو ”مارچ“ میں حکومتی بساط لپٹنے کی بڑی پیش گوئی بھی کر دی ہے لیکن فردوس آپا اس کا جواب دینے کی بجائے پوری کٹ پہنے 1122کی بائیک پر سوار رہیں شاید صبح تک کوئی بیان داغ ڈالیں۔
 سیاسی ”اکھاڑ ے“ کے ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کا جانا اس لئے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ حکومت نے کوئی بھی ”ڈھنگ“ کا کام نہیں کیا۔ احتساب کا نعرہ لگا کر بیان بازی کی گئی سوشل میڈیا کی ٹیم پر” نوازشات“ کی بارش کر کے اپنا ”کاں “کالا کرنے کی کوشش کی گئی اور ”سب اچھا“ کی رپورٹ میں اب” سب اچھا“ نہیں ہے ۔وزیر اعظم کی ذاتیات کا جہاں تک تعلق ہے وہ ”مخلص“ اور بقول سپریم کورٹ ”دیانتدار“ ہیں لیکن ان کی ٹیم انہیں کام نہیں کرنے دیتی جس کا اعتراف خود وزیر اعظم کر چکے ہیں ۔
مارچ تک کی ”ڈیڈ لائن“ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ وقت بتائے گا!تا ہم اپوزیشن اپنے مقاصد میں قطعاً کامیاب نہیں ہے تبدیلی کی وجوہات کچھ اور ،اورکہیں اور سے ہوں گی ۔