بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
 
 مقدر عباس 


’’الٰہی اقدار‘‘ سرحدوں، قوموں، عُہدوں میں قید نہیں ہوتیں۔ایمان ، امانت ، دیانت ،صداقت ، شرافت ،حریت ،عزت ،شجاعت ، ایثار و قربانی۔یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کا تعلق کسی گورے کالے، بڑے چھوٹے ،عربی عجمی،
شرقی و غربی ،ذات پات، رنگ و نسل  سے نہیں ہے۔ان کی طاقت اتنی ہے کہ یہ نار ِنمرود میں نہیں جلتیں،دریائے نیل میں خشک رستے بنواتی ہیں، صلیب پر زندگی عطا کرتی ہیں، عرب کے ظلمات میں گھرے ہوئے معاشرے کو نورانیت بخشتی ہیں۔

یہ اقدار ہی ہیں جو  وقت کے فرعونوں کے مقابل استقامت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔یہ کبھی  دشمنوں میں گھرے ہوئے ان کرداروں کو نمایاں کرتی ہیں کہ جنہوں نے ذلت کی زندگی  کو چھوڑ کر عزت کی موت کو گلے لگایا۔ اقدار کا سفر اُن ہستیوں کا سفر ہے کہ جو اپنے من میں ڈوب کر ،سُراغِ زندگی کو پالیتے ہیں۔ جوپیاسے رہ کر بھی سیراب ہوتے ہیں، زنجیروں میں قید ہوکر بھی آزاد ہوتے ہیں،زہر کا پیالہ پی کر بھی زندۂ و جاوید رہتے ہیں۔ ان اقدار کا حامل مرتا نہیں ہے  بلکہ نیست و نابود کر دیتا ہے۔ فرعونوں، نمرودوں، یزیدیوں اور ٹرمپ جیسے کرداروں کو زمانے میں رُسوا کرتا ہے۔
انہیں اقدار کی حامل ایک شخصیت کا ذکر جو آج ہر فرد کا وِردِزباں ہے۔جسے لوگ شجاع ،مردِ میدان،غیرت مند،دردمند،عارفِ خدا،دلوں کا سردار کہتے ہیں۔یہ ایک ایسے جرنیل کی داستان ہے کہ جس نے زور و زبردستی اور جبر سے گردنیں جھکوا کر سَروری و سرداری نہیں کی بلکہ یہ دردِانسانیت،اندازِمسلمانی،اخلاص و تقویٰ جیسی اقدار تھیں کہ جس نے اُسے ہر دل میں زندہ کردیا۔وہ ایسا کمانڈر تھا کہ جو خدا اور اس کے پیاروں کی یاد میں روتا تھا،لیکن ظالموں کے لئے سیسسہ پلائی ہوئی دیوار تھا ۔

وہ  اشدّاءُ علی الکفار،رحماءُ بینھم کا مصداق تھا۔جس کی صحراؤں،کارزاروں اور بیابانوں میں جبیں پروردگار کے سامنے جھکتی تھی،لیکن وقت کے ظالموں کے سامنے اس نے اپنے سر کو نہیں جھکایا۔اس کی نگاہ میں جو بھی مظلوم تھا،اس کی مدد کو پہنچا۔

اگر غزہ و فلسطین  کے مظلوموں نے پکارا تو اس نے لبیک کہا،اسرائیل جیسے مکاّر اور طاقت کے نشے میں بدمست کو لبنان کی 33روزہ جنگ میں شکست فاش  دی۔داعش میں گھِرے ہوئے جو بھی مظلوم تھے چاہے وہ مسلمان تھے،عیسائی تھے یا کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب کے تھے۔ وہ بلاتفریق سب کی مدد کو پہنچا۔اس کا مذہب انسانیت تھا۔سیلاب و زلزلہ جیسی قدرتی آفات میں بھی وہ انسایت کی خدمت میں مصروف نظر آیا۔
جہاں اس کی ہیبت، دشمنوں پر طاری تھی وہیں وہ اس قدر مہربان تھا کہ اسے حالت جنگ میں بھی انسان تو کجا جانوروں کا بھی خیال تھا۔جب تہران کے پہاڑوں پر برف باری کا پتہ چلا تو  ایک شخص کو فون کر کے کہا کہ جو پہاڑوں پر ہرن موجود ہیں۔ وہ خوراک سے محروم نہ رہیں ان تک چارہ پہنچاؤ۔پھر دوبارہ کچھ دیر بعد فون کرکے پوچھا کہ کام انجام دے دیا۔جبکہ وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں سن رہا تھا کہ پیچھے گولیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ جب داعش عراق کی طرف  بڑھ رہی تھی۔

’’مسعود بارزانی‘‘ سب مسلم و غیر مسلم حکمرانوں سے مدد مانگ کر مایوس ہو چکا تھا۔اس مرحلے میں اس نے اپنے ہمسائے مسلمان ملک سے مدد مانگی اور جنرل اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ’’ اربیل‘‘ پہنچے۔ داعش پسپا ہوئی۔ جب داعشی کمانڈر گرفتار ہوا۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ تو  اپنی فتح سے پُرامید تھے کیا ہوا۔؟

اس کا جواب تھا کہ جب ہمارے لشکر کو پتہ چلا کہ جنرل اربیل پہنچ چکے ہیں۔ اس وقت ہمارے منصوبے چکنا چور ہو گئے اور امیدوں پر پانی پِھر گیا۔ یہ اُس شخص کا کردار ہے۔ جو ہر عُہدے پر موجود انسان کو دعوت عمل دے رہا ہے۔ جسے ایک مکتب کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی دلوں پر حکمرانی ہے۔ جو ’’فاذکرونی اذکرکم‘‘ کی نشانی ہے، جس کا نام جنرل قاسم سلیمانی ہے۔ جس کی تصویر کو دیکھ کرآج ہر حریت پسند شخص کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور بے اختیار یہ جملات لبوں پر آتے ہیں۔ سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین۔ تم پر سلام ہو،تم بہت خوب رہے، اب ہمیشہ کے لئے اس(جنت)میں داخل ہو جاؤ(الزمر72)۔جو خود تو  آدھی رات کو سو گیا لیکن ہر غیرت مند کو بیدار کرگیا۔انہیں لوگوں کے بارے میں بابا بلھے شاہؒ یہ صدا بلند کرتے ہیں کہ ’’بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں،گور پیا کوئی ہور۔
  
 چُھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو 
 بدن کی موت سے کردار  مر نہیں سکتا