ہزارہ کمیونٹی۔۔۔قیامِ امن کا راستہ
 اشرف سراج گلتری

پاکستانی ایجنسیاں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں کوئی ان کا حریف نہیں۔ مطلوبہ افراد تک پہنچنے میں یہ اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔پاکستان کے اندر بھی ان کی بڑی دھاک ہے۔لیکن  ہزارہ برادری پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کو ہمیشہ نامعلوم افراد کے کھاتے میں ڈال دینا قابل تأمل ہے۔ ملکی ادارے  اس قدر بےپرواہ  تو نہیں ہو سکتے  کہ دہشتگرد  آرام سے وارداتیں کر کے فرار ہو جائیں۔ اگر اس فرار کے ساتھ احسان اللہ احسان کے فرار کو بھی ملا لیا جائے تو پھر بات کچھ سمجھ آنے لگتی ہے۔
المیہ یہ بھی ہےکہ اس نوعیت کی تمام واردتوں میں ملوث کسی دہشتگرد یا نیٹ ورک کو پکڑا بھی نہیں گیا۔ایک بات طے ہے کہ یہ دہشت گردمحب وطن ہیں۔ اسی لئے ان کی کارروائیوں سے پاکستان غیر مستحکم نہیں ہورہا۔عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی بھی نہیں ہو رہی۔کسی کو پاکستان کے  گرے لسٹ میں ہونے کی فکر نہیں،  محب وطن  دہشتگرد مختلف ناموں کے ساتھ  اپنی کاروائیاں تسلسل کے ساتھ کرتے چلے  آرہے ہیں۔وہ کاروائی کے بعد بلکل مطمئن ہوکر چلے جاتے ہیں۔

 کوئی ایماندار آفیسر پکڑبھی لیتاہے تو پھر بھی دہشتگرد سلاخوں کےپیچھے بھی مطمئن رہتے ہیں کہ انہیں کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے سہولت کار ہر جگہ موجود ہیں۔
   جو بھی ملک میں افراتفری پھیلائے، ملکی سلامتی اداروں کے خلاف دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرے،مسلکی اختلافات کو ہوا دے، اسی، پچاسی لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرے، یہاں اُسی کو  امن ایوارڈ  دیاجاتاہے۔اس ملک میں کبھی کسی مقتول کے بیٹے کو امن ایوارڈ نہیں ملا کیونکہ اس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں۔
معاشرے کے کسی عام فرد سے اگر ذرہ برابر بھی کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو تھانہ کچہری سے لے کر تمام ادارے اس کی کھوج میں لگ جاتے ہیں، اسے سزا بھی سنائی جاتی ہے مگر ہزارہ برادری کے قاتل اس سے مستثنیٰ ہیں۔
 بہر حال جہاں عدلیہ ،ادارے  اور حکومت سب ایک ہی پیج پر ہوں، سب دہشت گردوں کو اپنے قیمتی اثاثے سمجھتے ہوں اور   سب درندوں کو مجاہدینِ اسلام کہتے ہوں وہاں  جنازے اٹھا کر احتجاج کرنے سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ وہاں احتجاج کر کے قاتلوں کے جنازے سولی پر لٹکانے سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔