ریاستِ مدینہ یا ملوکیتِ شام 

منظوم ولایتی

افسوس وہ مزدوری کرنے نکلے تھے۔ بعض تو گھر کے واحد کفیل بھی تھے۔ دور بھی نہیں بس قریب ہی "مچھ" نامی جگہ پر کام کرتے تھے۔ کسی بڑی فیکٹری میں بھی نہیں کوئلے کی کان میں دہاڑی لگاتے تھے۔ ہوا یہ کہ 3 جنوری 2021ء کو دن بھر مزدوری کرکے ڈیرے میں پہنچتے ہی تھے کہ اُن کی آنکھ لگ گئی۔ مزدوروں کو کیا معلوم تھا کہ آج رات کو بعض پکے اور ہائی کوالیفائیڈ مسلمانوں کا باجماعت جتھا ان کی جان لینے کیلئے آنے والا ہے۔ رات ہوتے ہی مسلمان مجاہدین اپنی تیز چھریاں لے کر محنت کش کافروں پر ٹوٹ پڑے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ انہوں نے ضرور نعرہ تکبیر بھی لگایا ہوگا اور قربة الی اللہ کی نیت بھی کی ہوگی۔ پھر سوئے ہوئے مزدوروں کو سب نے ملکر باندھا ہوگا اور ان کے امیر نے رافضیوں کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ بھی پڑھ کر سنایا ہوگا!!

مجھے یقین ہے کہ ان کے امیر نے مزدوروں کو مار کر انہیں ضرور جنت کی نقد ٹکٹ اور ستر حوروں سے بغلگیر ہونے کی بشارت بھی دی ہوگی۔ جس پر سب نے ملکر نعرہ مستانہ بلند کرتے ہی ہاتھ پاوں بندھے نہتے مزدورں پر حملہ شروع کر دیا ہوگا!! کسی نے کلاشنکوف، کسی نے خنجر، کسی نے چھری۔۔۔!! مزدوروں نے خاک اور خون میں ایڑیاں رگڑی ہونگی اور ضرور سیدہ نساء العالمین حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کو پکارا ہوگا، چونکہ ایام فاطمیہ جو چل رہے تھے! اور اسی عالم میں اپنی جان اپنی جانِ آفرین کے حوالے کی ہوگی۔ پھر مسلمان مجاہدین نے اپنے اس جہاد کی ویڈیوز اور فوٹوز بھی بنائے ہونگے!! اس دردناک واقعے کے حوالے سے تین مشہور سوشل میڈیا ایکٹوٹس کے بیانات قارئین کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں۔

جناب اسجد بخاری لکھتے ہیں: درحقیت دیکھا جائے تو کتنے افسوس کی بات ہے کہ 2021ء میں بھی مظلوم شیعہ ہزارہ کی نسل کشی جاری ہے۔ لیکن ہماری عوام کو بتایا جائے گا کہ یہ انڈیا کے دہشتگرد کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے سکیورٹی ادارے ان کو روکتے کیوں نہی ہیں۔ کیا ان کا کام صرف سیاسی جوڑ توڑ ہی رہ گیا ہے؟ ہمارے سکیورٹی ادارے مسلسل ہونے والے قتل عام سے بری الذمہ نہیں ہیں۔ آخر انڈیا والوں کی شیعہ ہزارہ سے کیا دشمنی ہے؟ کیا سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور طالبان کے دہشتگرد گروپ ہماری ایجنسیوں کی بی ٹیم نہیں رہے؟ اور کس طرح احسان اللہ احسان جیسے خطرناک دہشتگرد ہمارے سکیورٹی اداروں کی قید سے فرار کرا دیئے جاتے ہیں۔ چاہے دہشتگردی دشمن ملک کے ایجنٹ کریں  یا "گڈ یا بیڈ طالبان۔ ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض جنرلوں پر اس کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی پراکسی وارز کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔ اگر پاکستان اور اس کے عوام سے ہمیں محبت ہے تو ان جنرلوں پر دباوُ ڈالنا ہوگا کہ "گڈ طالبان بیڈ طالبان" کی اپنی پالیسی تبدیل کریں۔ یہ ہمارا اثاثہ نہیں ہیں اور ملک کو پراکسی وارز کے عذاب سے نجات دلائیں۔"

معروف سوشل ایکٹوسٹ محترمہ گل زہراء رضوی صاحبہ لکھتی ہیں: "مچھ بلوچستان کا یہ واقعہ محض واقعہ نہیں ہے بلکہ ریاستی پالیسی کا آئینہ ہے۔ بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں شیعہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کرکے ہلاک کرنے کی ذمہ داری کالعدم انتہاء پسند گروپ لشکرِ جھنگوی 2001ء سے مسلسل قبول کر رہا ہے۔ قاتل چھپا ہوا نہیں ہے، ذمہ داری قبول کر رہا ہے لیکن وزیراعظم "تحقیقات" کا حکم دے رہے ہیں۔ اگر تحقیقات جلد ہو جائیں تو بہتر ہے، کیونکہ پچھلے کئی سال سے ریاست مسلسل داعش کے وجود کا انکار کئے جا رہی ہے۔ سوال تو وزیرِ داخلہ سے بھی بنتا ہے۔ فوج کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف 72 گھنٹے میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ شیخ رشید بتائیں کہ مچھ میں بے گناہ 11 شیعہ ہزارہ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے کتنے گھنٹے درکار ہیں۔؟"

وہ مزید لکھتی ہیں: "پچھلے سال کے وسط سے پاکستان میں اچانک سے شیعہ مخالف ہوا چلائی گئی۔ توہین صحابہ کے الزام سے تشیع کے خلاف بے بنیاد جبری لاقانونی کارروائی، جس میں زیارت عاشور بھی جرم اور ممنوع، ذکر محمد و آل محمد بالخصوص سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کا ذکر بھی جرم، آل نبی کی شان میں گستاخی اور ان سے منسوب مقدسات کی بےحرمتی جائز اور نسل امیہ کے کردار پہ سوال جرم، عباس ابن علیؑ کی شان میں گستاخی جائز اور عمر ابن سعد لعنت اللہ بھی مقدسات میں شامل۔ چھے مہینے میں زمین ہموار کی گئی اور اب قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اسوقت صورتحال یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں یزیدی فکر کو وطن عزیز کے گلی کوچوں میں اس طرح پروان چڑھایا گیا ہے کہ پڑھے لکھے، اہل علم اور ماہرین افراد کا قتل جاہل، اجڈ قسم کے لوگ کر رہے ہیں۔ ان کو بس ایک بات کا علم ہے۔ حسین (ع) کا نام لینے والوں کو ختم کر دو، یا قید کر دو۔ اگر کچھ بھی نہ کر سکو تو معاشرے میں ان کے خلاف ایسی فضا بنا دو کہ لوگ ان کو اذیت پہنچائیں۔ یہ سب ریاست کی ناک تلے، ملک کی تیس فیصد آبادی کے ساتھ ہو رہا ہے اور ریاست ستو پی کر سو رہی ہے۔ اس بات سے بے خبر کہ اس ملک کی سالمیت و بقا میں شیعوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ شیعوں کی طاقت، پاکستان کی طاقت ہے اور شیعوں کی کمزوری پاکستان کی کمزوری۔"

معروف لکھاری جناب علی اصغر صاحب چھے بہنوں کے اکلوتے بھائی کے ذبح کیے جانے پر ان الفاظ کیساتھ اپنے درد بھرے احساسات کا اظہار کرتے ہیں: "سانحہ مچھ میں ذبح کئے گئے ہزارہ شیعہ محمد صادق چھ بہنوں، دو بیٹیوں اور بوڑھے ماں باپ کا اکلوتا کفیل تھا، میرا سوال ہے ریاست سے، میرا سوال ہے تمام سیاسی جماعتوں سے کہ کیا ان بے گناہوں کا قتل آپ کے ذمہ نہیں۔؟ کیا روزِ محشر خدا کی عدالت میں آپ سے سوال نہیں کیا جائے گا۔؟ عمران خان، مریم نواز، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمنٰ اور دیگر سیاستدان آپ سب قاتل ہو، آپ سب ان شہیدوں کے قتل میں برابر کے شریک ہو، آپ کو کتنی بار حکمرانی ملی، مگر آپ سب کی حکومتوں میں شیعہ قتل ہوتے رہے، آپ لوگوں نے صرف تسلیاں دیں، آپ لوگوں نے قاتلوں کو نہیں پکڑا، جن کو پکڑا بھی ان کو رہا کر دیا گیا۔ آج داعش پاکستان میں پنجے گاڑھ رہی ہے اور داعش کو مضبوط کرنے میں وہی لوگ مدد کر رہے ہیں، جو علی الاعلان شیعوں کو قتل کرنے کے فتوے دیتے ہیں۔

محمد صادق کی بہن کا یہ جملہ میرا کلیجہ چھلنی کر گیا ہے، وہ کہتی ہیں، ہمارے گھر میں مرد نہیں ہے، ہم چھ بہنیں اپنے بھائی کا جنازہ اٹھائیں گی۔ اے تخت پہ بیٹھے بادشاہ یاد رکھنا، تاریخ میں ایک بھائی کو بہنوں کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا، جنازہ اٹھانا تو دور بھائی کی لاش پہ رونے بھی نہیں دیا گیا تھا، مگر اس شہید مقتول کی بہن کی آہ نے عرش ہلا دیا اور ظلم پر بنی ایک حکومت کی بنیادیں ہلا ڈالیں تھیں، ان شاء اللہ ان شہداء کا خون رنگ لائے گا، ان بہنوں کی آہیں ہر یزیدِ وقت کو تباہ و برباد کر ڈالیں گی۔" آخر میں ہم بھی  وزیراعظم عمران خان سے یہی کہیں گے کہ وہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے سبق سیکھیں کہ جنہوں نے مظلوم مسلمانوں کیساتھ کھڑے ہوکر عظیم انسانی مثال قائم کی تھی۔ عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے صاف لگ رہا ہے کہ اب ہمارا ملک "ریاست مدینہ" نہیں بلکہ "ملوکیت شام" میں بدل چکا ہے۔
 

 


افکار و نظریات: منظوم ولایتی