اور عمران خان نے ہار مان لی

تبرید حسین
عمران خان ایک نعرہ لگاتے تھے کہ میں ہار نہیں مانتا مگر آج عمران خان نے ہار مان لی۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ جب 6 بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کا جنازہ سر راہ رکھ کر اپنے جمہوری وزیر اعظم کے دلاسے کی منتظر تھیں تب عمران خان ارتغل اور دوسرے اداکاروں اور اپنے حامی یوٹیوبرز سے ملنے میں مصروف تھا۔ سینیٹ الیکشن کیلئے جوڑ توڑ اس کی ترجیح تھی۔

تاریخ یاد رکھے گی جب حریت پسندوں کے گروہ مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ٹھٹھرتی سردی میں بہنوں بیٹیوں اور بچوں کے ھمراہ کراچی، لاہور، گلگت، ملتان اور دیگر شہروں میں سڑکوں پر تھے ہمارا وزیراعظم اپنے مصاحب  شیخ رشیدوں، زلفی بخاریوں اور علی زیدیوں کے مشوروں کے حصار میں اپنی بازی ہار رہا تھا۔
جب پاکستان سمیت دنیا بھر کا میڈیا شیعہ سنی تفریق کے بغیر ہزارہ برادری کی مظلومیت پر چیخ اٹھا تھا اسوقت عمران خان کی میڈیا ٹیم اپنے صاحب کا دفاع کرنے میں مصروف تھی۔ اور آئیے اب پاکستان کے باقی ماندہ طبقات کے رویئے پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا نے جس انداز سے مظلوموں کا کیس لڑا انہیں میرا سرخ سلام۔ قطع نظر اس کے کچھ فضلہ خور ہر جگہ ہوتے ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں مریم نواز اور بلاول بھٹو کا بہت شکریہ کہ آپ مظلوموں کی اشک شوئی کو پہنچے۔ آپکو ہمارا سلام۔ مگر تاریخ یہ بھولی نہیں کہ پچھلے 20 سالوں میں جب جب تم تخت نشین تھے تب بھی ہزارہ اور باقی مظلوم و مستضعف لوگوں کا خون یونہی بہتا رہا اور تمھارے اجداد ایوان اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔

اور آخری گزاش اپنے سوہنے ڈھول سپاہیوں سے۔۔۔ آپ ملکی دفاع کیلئے نئی توپیں، ٹینک، فائٹر طیارے، میزائل اور آبدوزیں خریدیں مگر مائی باپ کچھ توجہ ملک عزیز کے مظلوم باسیوں کی طرف بھی فرمائیے۔ یاد رکھئے ملک لوگوں کیلئے ہوتے ہیں، لوگ ملکوں کیلئے نہیں۔ یہ مظلوم لوگ نہ رہے تو تمہاری فوج میں کپتان اور جرنیل تو ہوں گے مگر سپاہی نہیں۔
اور ہاں اپنی سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر جہاں ہمارا سر فخر سے بلند ہوتا ہے وہیں جب ستر ستر لاشیں گرا کر اپنی تنظیموں کا نام لیکر ڈنکے کی چوٹ پر ذمہ داری قبول کرنے والوں کی ایف آئی آر نامعلوم افراد پر کاٹی جاتی ہے تو وہی سر آپکی لا علمی یا نظریں چرانے پر جھک بھی جاتا ہے۔

ایک مفت مشورہ حاضر ہے کہ اگر آپ کو ڈھونڈے سے بھی دہشت گرد کہیں نظر نہ آئیں تو اکرم لاہوری، ریاض بسرا اور بن لادن کے ( غائبانہ ) جنازوں کی اگلی صفوں پر ہی نظر دوڑا لیجیے گا۔ شاید آپکی عقابی نظریں کچھ ڈھونڈ پائیں۔

کافی عرصہ سے قومی حالات سے دلبرداشتہ ہو کر لکھنے کا ارادہ ترک کر چکا تھا مگر پھر دیکھا وہ کند چھری جس سے سبزی بھی نا کاٹی جا سکتی اس سے انسانوں کے گلے کاٹ دئے گئے۔
کوئٹہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات لاشوں سے لپٹ کر روتی بہنوں بیٹیوں نے سینہ چیر دیا۔ اور میرا شرمندہ قلم شہدا کے حضور سلامی کیلئے حاضر ہو گیا۔ 

 دست قاتل کو بھی کچھ شرم تو آیا ہوگا

لاشہ جب بہنوں نے بھائ کا اٹھایا ہوگا

اپنے پیارے دوست انعام رانا کی ایک تازہ پنجابی نظم کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں

ہزارہ مظاہرین

اکّو جئی شکلاں والے

کج فرشتے

پوہ دی راتاں

سڑکاں اُتّے آ بیٹھے نیں

سوچ کے ہورے کی اے سجن

کُج امیداں لا بیٹھے نیں

چٹی چدراں رکھ کے مورے

نَک منہہ لال کرا بیٹھے نیں

چدراں دے وچ لاشاں نیں کج

ماں دے مِٹھے، ویر بہناں دے

پیوواں دی پرچھاواں نیں کُج

اپنے ورگی لاشاں رکھ کے

وڈّی لاش اڈیکدے نیں

وڈی لاش نو ٹیم نئی ملدا

وڈی لاش جو انھی وی اے

لاشاں جس نو نظر نا آون

وڈی لاش جو ڈوری وی اے

بھانویں اُچی چیکدے نیں،

لاشاں دے ایس دیس چ ہورے

مریا کون تے جیندا کون اے

7 جنوری 2021
(لندن)

...................

چھوٹا منہ بڑی بات ( چند تجاویز)

ملت کے زعما اور خانوادگان شہدا سے معذرت کے ساتھ بصد احترام چند تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

1- توہم پرست اور انا پرست عمران خان اب اس قابل نہیں رہا کہ وہ مقدس شہدا کے جنازوں کے قریب بھی آئے۔ لہذا تمام شہدا کی تدفین علماء، بزرگان، سول سوسائیٹی، میڈیا اور شیعہ سنی غیرت مند عوام کی موجودگی میں کر دینی چاہئے۔ وہ وقت دور نہیں جب مظلوم شہدا کے خون کے سبب اس کی ناک رگڑی جائے گی اور یہ رسوا ہو گا۔

2- اس حوالے سے کوئٹہ آنے کی اسے اب اجازت بالکل نہیں دینی چاہیے اور شہدا کے تمام خانوادے عہد کریں کہ فرعون وقت عمران خان سے کبھی ملاقات نہیں کریں گے۔

3- کسی قسم کا حکومتی مالی تعاون لینے سے انکار کرکے رقم شیخ رشید جیسی بھڑووں کے منہ پر مار دینی چاہیے۔

4- شیعہ قوم کو شہدا کیلئے فنڈ قائم کرنا چاہیئے اور تمام قوم کو بڑھ چڑھ کو حصہ لینا چاہئے۔ میں خداوند متعال سے مدد مانگتے ہوئے ان پاکیزہ شہدا کیلئے پورے یو کے اور یورپ سے کولیکشن کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ 

5- مجلس وحدت مسلمین کو فوری طور پر حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کرنا چاہئے۔ 

6- حکومتی مشیروں وزیروں میں اگر ذرا برابر بھی غیرت کی رمق ہے تو انہیں حکومت سے الگ ہو جانا چاہیے۔ جیسے اطلاعات ہیں کہ فردوس شمیم نقوی مستعفی ہو گئے ہیں۔ بصورت دیگر قوم کو علی زیدیوں اور زلفی بخاری جیسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے

 7- پورے پاکستان سے دھرنے ختم کرکے لوگوں کو جوق در جوق کوئٹہ پہنچنا چاہئے تاکہ خانوادہ شہدا کے غم میں شریک ہو کر ملی غیرت کا ثبوت دیں۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

تبرید حسین 
9 جنوری 2021