اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ہزارہ اور مسترد شدہ بیانیے نذر حافی بیانیہ دماغوں پر حکومت کرتا ہے، یہ سوچ کو جکڑلیتا ہے، یہ عوام کو جدھر چاہتا ہے اُدھر لے جاتا ہے۔آسان لفظوں میں یہ ایک غیر مرئی اور غیر محسوس نکیل ہے۔ اس نکیل کے ذریعہ عوام کو کھینچ کر رائے عامہ بنائی جاتی ہے۔بیانیے اور ذرائع ابلاغ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اس ساتھ کو نبھانے کیلئے کنگ میکر قوتیں ذرائع ابلاغ کو خرید لیتی ہیں۔ یہی قوتیں اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق ذرائع ابلاغ کو بیانیے لکھ کر دیتی ہیں۔پھر یہی بیانیے عوام کی زبان پر جاری ہو کر رائے عامہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

nazarhaffi@gmail.com
اس وقت ہزارہ قوم کے حوالے سے بھی کچھ بیانیے زبانِ زدِ عام ہیں۔آئیے ان میں سے چند ایک کا جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ ہزارہ ایک کمزور قوم ہیں
۲۔ ہزارہ کو اہلِ سُنت قتل کرتے ہیں
۳۔ ہزارہ ہٹ دھرم اورکمیونٹی پرست ہیں
۴۔ ہزارہ کمیونٹی کو شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے
۵۔ہزارہ کمیونٹی کا قتل سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کا نتیجہ ہے
۶۔ سیاسی اور قبائلی اشرافیہ اپنے مفادات کیلئے ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنواتا ہے
۷۔ ہزارہ کمیونٹی کو ہندوستان قتل کروا رہا ہے
اب آئیے ان بیانیوں کا جائزہ لیتے ہیں:
۱۔ سب سے پہلے تو اس بیانیے پر کچھ دیر سوچئے۔کتنی آسانی سے یہ کہاجاتا ہے کہ ہزارہ ایک کمزور قوم ہیں۔ حالانکہ ہزارہ کمزور نہیں بلکہ ہر لحاظ سے طاقتور قوم ہیں۔ کمزور تو ان کا وہ بزدِل دشمن ہے جو چھپ کر اِن پر حملہ آور ہوتا ہے۔ہزارہ کمیونٹی کی طاقت یہ ہے کہ وہ نہ منہ چھپا کر حملہ کرتے ہیں اور نہ ہی حملہ کر کے منہ چھپاتے ہیں۔ یہی مضبوط اور غیرت مند قبائل کی شناخت ہے۔
ہزارہ اگر کمزور ہوتے تو وہ بھی اپنے دشمنوں کے تعاقب میں تخریبی راستوں پر چل پڑتے۔ آپ ان کا مقابلہ بلوچستان کے دیگر قبائل سے کر کے دیکھ لیجئے،یہ علمی، فکری ، سیاسی اور اجتماعی شعور کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ باقی داخلی اختلافات تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔
۲۔ دوسرا بیانیہ یہ کہ اہلِ سُنت ہی ہزارہ کمیونٹی کے قاتل ہیں۔ یہ بیانیہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اس کا مقصد لڑاو اور دبا کر رکھو کے سوا کچھ نہیں۔نفرتیں تقسیم کر کے جن کی دکانیں چلتی ہیں یہ انہیں کا تیار کردہ بیانیہ ہے۔ اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔جب زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں تو پھر خلائی مخلوق سے ہو سکتا ہے۔
۳۔ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ ہزارہ ہٹ دھرم اور کمیونٹی پرست ہیں۔ یہ بیانیہ تیار کرنے والوں کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔جب انکا کوئی اور بیانیہ نہیں چلا تو قبیلہ پرستی کا الزام لگا دیا۔اگر ہزارہ قبیلہ پرست اور ضدی ہوتے تو اپنے حقوق کیلئے قبائلی جدوجہد کا طریقہ کار ہی اختیارکرتے۔ دیگر قبائل کی طرح بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں کو یہ بھی اپنا مورچہ بنا لیتے۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔پاکستان کی قومی،اجتماعی ، سیاسی ، سائنسی اور سوشل ترقی میں ہزارہ برادری کا کردار اظہرمن الشّمس ہے۔ اس موضوع پر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
۴۔ہزارہ کمیونٹی کو شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔یہ بیانیہ بھی عمداً اختراع کیا گیا ہے۔ اگر شیعہ ہونے کی وجہ سے ہزارہ برادری کو قتل کیا جاتا ہے تو پھر بلوچستان کے دیگر قبائل میں موجود شیعہ حضرات کو اس طرح مسلسل نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا۔ہزارہ شیعہ ضرورہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ انہیں شیعہ ہونے کی وجہ سے ہی قتل کیا جائے۔ یہاں اصلی وجہ کو چھپانے کیلئے شیعہ ہونے کا ایشو استعمال کیا جاتا ہے۔
۵۔ہزارہ کمیونٹی کا قتل سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی ایک گھسا پٹا بیانیہ ہے۔ جو لوگ مطالعے اور تحقیق کے عادی نہیں ہوتے یہ بیانیہ ان کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ وہ آسانی سےاس بات کو مان جاتے ہیں کہ یہ سب پراکسی وار کا نتیجہ ہے۔
اگر یہ سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وارہے تو پھر ہزارہ کیوں سعودی عرب نواز مدارس و مساجد پر حملے نہیں کرتے؟ پھر ہزارہ برادران کیوں سعودی مفادات کو نشانہ نہیں بناتے؟ اگر یہ پراکسی وار ہے تو پھرطالبان، القاعدہ، داعش ، احسان اللہ احسان اور رمضان مینگل جیسے سفاک اور نامی گرامی درندے ہزارہ کمیونٹی میں کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ حقیقت یہ ہےکہ یہ پراکسی وار نہیں بلکہ اسپیشل وار ہے۔
۶۔ سیاسی اور قبائلی اشرافیہ اپنے مفادات کیلئے ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنواتا ہے۔ یہ چھٹا بیانیہ بھی خاص عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔سیاسی اور قبائلی اشرافیے کی قباحتوں کا سب کو اعتراف ہے۔ لیکن اس اشرافیے کے ایسےکیامفادات ہیں جو صرف ہزارہ کمیونٹی کے قتل سے پورے ہوتےہیں؟ یہ بیانیہ بھی حقیقت سے دور ہے۔
۷۔ ہزارہ کمیونٹی کو ہندوستان قتل کروا رہا ہے۔ یہ بیانیہ اصل میں سارے بیانیوں کا بے تاج بادشاہ ہے۔بلوچستان میں ہندوستانی ایجنٹوں کی موجودگی کی بات کر کے ہزارہ کمیونٹی کے قتل کی ذمہ داری ہمسایہ ملک پر ڈال دینا یہ معمول بن گیا ہے۔
ہزارہ کمیونٹی کا مسلسل قتل کسی بھی طرح سے بھارت کی ترجیحات میں نہیں آتا۔اس کمیونٹی کا کوئی ایسا مسلح لشکر یا جتھہ نہیں جو کہیں پر ہندوستانی مفادات کو زِک پہنچانے کا باعث بن رہا ہو۔ ہندوستان اتنا بیوقوف نہیں کہ وہ خواہ مخواہ اپنے خلاف دشمن تراشی کرتا پھرے ۔دوسری طرف شیعہ ہونے کی وجہ سے ایران کی ساری ہمدردیاں ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ اگر بھارت اس طرح مسلسل ہزارہ کمیونٹی پر شب خون مارتاہے تو ایران بھی اتنا بھولا بھالا نہیں کہ وہ بھارت سے احتجاج نہ کرے۔باخبر حضرات جانتے ہیں کہ ہزارہ قبیلے کی وجہ سے کوئٹہ کو منی قم بھی کہاجاتا ہے۔ یہاں کی تہذیب و ثقافت پر ایرانی تہذیب کی گہری چھاپ ہے۔
ہزارہ کمیونٹی پر حملے در اصل ایک مضبوط ایران دوست قبیلے پر حملے ہیں۔ بھارت سفارتی و سیاسی دنیا میں ایران کے ساتھ چھیڑ خانی کا ہر گز متحمل نہیں ہے۔چنانچہ یہ بیانیہ بھی سچ کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔
اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ؟
حقیقت کو سمجھنے کیلئے ہمیں بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت کو سمجھنا ہوگا، یہاں کی مقامی سیاسی و قبائلی قیادت کے اطورا سامنے رکھنے ہونگے، نیزیہاں کے قدرتی اور معدنی وسائل اور ان کے استعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ گوادرکی بندرگاہ سمیت بلوچستان کے قدرتی وسائل یہاں کے عوام کے کسی کام کے نہیں۔ ایک کم آبادی والے صوبے کے پاس سب سے زیادہ رقبہ ہے۔ یہ سارے کا سارا رقبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ سب سے زیادہ پسماندگی یہیں پر ہے۔بلوچستان کی سیاسی قیادت ہو یا قبائلی سردار ان سب کا یہی مطالبہ ہے کہ ہمارے وسائل سے ہمیں بھی فائدہ پہنچایا جائے۔ جن سیاسی و قبائلی لیڈروں کا یہ مطالبہ شدت اختیار کرتاہے انہیں ملک دشمن قرار دیدیا جاتا ہے۔ آپ ان سارے ملک دشمنوں کے مطالبات اٹھا کر دیکھ لیں، ان سب کا یہ مشترکہ مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو اہلیانِ بلوچستان تک پہنچنے دیا جائے۔ چنانچہ بعض افراد نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے اسلحہ بھی اٹھا رکھا ہے۔
اسلحہ برداروں اور علیحدگی پسندوں کو یہاں کی بعض سیاسی اور قبائلی نیز بین الاقوامی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ سیاسی ، قبائلی اور عسکری عناصر مل کر جب عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے لگتے ہیں تو بیچ میں ہزارہ قتل و غارت شروع ہوجاتی ہے۔یوں اس مسئلے کو چھپانے کیلئے ہزارہ کمیونٹی کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہزارہ کمیونٹی یا زائرین کی بسوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالمی برادری کو یہ بتانا مقصود ہوتاہے کہ یہاں پر اور کوئی مسئلہ نہیں صرف شیعہ و سُنی کا جھگڑا چل رہا ہے۔ زائرین کی بسیں، مسافر خانے اور ہزارہ کمیونٹی اس حوالے سے آسان ٹارگٹ ہیں۔ انہیں نشانہ بنانے سے شیعہ ہی نشانہ بنتے ہیں اور یوں شیعہ و سنی کی لڑائی کے بیانیے کو پُررنگ کیا جاتا ہے۔
جہاں تک بلوچستان میں راکے ایجنٹوں اور داعش و طالبان کی موجودگی کی بات ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔را کے سائے تلے پرورش پانے والے سارے دینی مدارس اور داعش و القاعدہ کی تمام نرسریاں ہمارے سیکورٹی اداروں کے سامنے ہیں۔ ان کے نیٹ ورکس ہتھیلی پر سرسوں کی مانند ہیں۔ یاد رہے کہ یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ دہشتگردی سے متعلق جتنے لوگ بھی گرفتار ہوتے ہیں، انہیں سرکاری سہولتکاری فراہم کی جاتی ہے۔ بعض کو الیکشن لڑوائے جاتے ہیں اور بعض کو حساس اداروں کی حراست سے فرار کے محفوظ راستے فراہم کئے جاتے ہیں۔
اب یہاں پر ہزارہ برادری کے علما اور پاکستان کی مذہبی قیادت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ یہ شیعہ مذہبی قیادت کی بصیرت اور احساسِ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کٹھن وقت میں میدان کو خالی نہیں چھوڑتی۔ زخم رسیدہ لوگوں کے دلوں کو قرآن و سنت اور کربلا کےذکر سے تسکین پہنچانا کمالِ دانشمندی ہے۔اہلِ تشیع کی مذہبی قیادت کے سریہ سہرا جاتاہے کہ انہوں نے اپنے ہاں دہشت گردی اور شدت پسندی کا راستہ ہموار نہیں ہونے دیا۔ حبّ الوطنی کی جو شاندار تاریخ ہزارہ کمیونٹی اور ان کی دینی و سیاسی قیادت نے رقم کی ہے وہ ناقابلِ فراموش ہے۔چنانچہ یہ بات ایک مرتبہ پھر عرض کئے دیتا ہوں کہ بے شک شیعہ دینی قیادت ہزارہ کمیونٹی سے یکجہتی کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہزارہ کو شیعہ ہونے کی وجہ سے شہید کیاجاتا ہے۔
ہزارہ کو کسی اور وجہ سے ٹارگٹ نہیں کیاجاتا، ان کے ٹارگٹ کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ وجہ کچھ لوگوں کی تجوریاں ہیں۔وہ لوگ جب اور جہاں چاہتے ہیں شیعہ و سنی فسادات کا نعرہ لگا کر ، ایران و سعودی عرب کی پراکسی وار کا ڈھونگ رچاکر اور ہندوستان کی مداخلت کی ڈگڈگی بجا کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔
افکار و نظریات: ہزارہ اور مسترد شدہ بیانیے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں