بھارت کی چھترول

عمر چوہدری

 امریکی سینیٹ کی واشنگٹن سے آنے والی ویڈیو میں کم از کم یہ بات تو عیاں ہو گئی ہے کہ ہارے ہوئے امریکی صدر اتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے غصیلے اور ناراض حمایتیوں نے دیواریں پھلانگیں ،شیشے توڑے ،ڈائس پٹخے ،نعرے لگائے ،پولیس کو آنکھیں دکھائیں سیکورٹی سٹاف کی دوڑیں لگوائیں لیکن کمال ہے کہ سینیٹ کے دفاتر میں کاغذات اور فائلوں کے” پھیلاﺅ“ کے علاوہ کمپیوٹر ز،لیپ ٹاپ ،بجلی کے لیمپوں اور فرنیچر کو چھیڑا تک نہیں حالانکہ مشتعل مظاہرین کی ریشہ دوانیوں کو مزید ”تڑکا“ لگانے کے لئے بھارتی ”ہمدردی“ کے روپ میں اپنا قومی پرچم ترنگا اٹھائے ساتھ ساتھ تھے جنہوں نے جلتی پر تیل ڈالنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی مظاہرین کے ساتھ بھارتیوں کی موجودگی اور ہلڑ بازی میں ہم رکاب ہونے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شیطانی قوتیں دنیا بھر میں شیطانی کھیل کھیلتی ہیں امریکا نے ہمیشہ دنیا بھر میں سازشوں کا جال ُبنا ہے اب وقت نے ”واشنگٹن“ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے ۔شکست خوردہ ٹرمپ نے ”سینیٹ“ پر حملہ اور نئے صدر کی جیت کے فیصلے کی توثیق کی را ہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اپنے حامیوں کو اکسایا اور جب معاملہ زیادہ بگڑا اور دنیا بھر میں ٹرمپ کی عزت افزائی میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا تو فوراً رنگ بدل لیا اور حامیو ں کو واپسی کا مشورہ دیدیا لیکن اس وقت تک میئر واشنگٹن مظاہرین کے خلاف سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کر چکے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سر جوڑ کر فور ی فیصلے کی ٹھان لی۔
 مزے کی بات یہ ہے قبل ازیں 1812ءمیں امریکی کانگریس پر حملہ کیا گیا جس میں برٹش آرمی نے کانگریس جلا دی تھی لیکن 2021ءکے آغاز میں ہی امریکیوں نے خود امریکی کانگریس تار تار کر ڈالی اس ”مہم جوئی“ کےلئے ٹرمپ کے بیٹے نے پارٹی ورکروں کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے سرد مہری کے بعد ٹرمپ نے خود پارٹی ورکروں سے خطاب کیا اور انہیں 6جنوری کے فیصلے کو’ ’ناکام“ بنانے کے لئے سینیٹ پر ”چڑھائی“ کا حوصلہ دیا ٹرمپ یہ خطاب وائٹ ہاﺅس میں کیا تھا ٹرمپ اپنے حامیوں کی ”چڑھائی“ کے دوران کارکنوں کو ٹویٹر کے ذریعے ”پیغامات“پہنچاتے رہے ٹویٹر کی انتظامیہ نے قوانین کی خلاف ورزی پر ٹرمپ کا اکاﺅنٹ بارہ گھنٹے کے لئے معطل کر دیا جو غیر معمولی تھا جبکہ فیس بک نے تو ٹرمپ پر پابندی ہی عائد کر دی ہے۔
معروف امریکی کالم نگار جیمی سٹائم سینیٹ میں حملے کے وقت یہاں موجود تھیں وہ کہتی ہیں کہ’ صبح جب میں کام پر آ رہی تھی تو میں نے متعدد مشتعل افراد کو نعرے لگاتے دیکھا مجھے لگا کہ کچھ گڑ بڑ ہونے والی ہے اور پھر یہی ہوا ‘۔اجلاس کے دوران پہلے تو نعرے بازی ہوئی لیکن پھر نوبت گولی چلنے تک آ گئی جس سے خوف پھیلنا ضروری تھا میں نے دیگر صحافیوں سے اس صورتحال سے متعلق بات کرنا چاہی لیکن سب ہی خو ف زدہ تھے کیونکہ کم از کم اس حد تک معاملات کے بگڑنے کی توقع نہیں تھی ۔
حالیہ موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے نو منتخب صدر کی کامیابی کی توثیق کر دی ہے تا ہم امریکا کے ماتھے پر چار لاشوں اور ”جمہوریت“کے جنازہ کا ’کلِنک‘ لگ گیا ہے۔
 موجودہ صورتحال میں بھارتی کردار بھی کھل کر سامنے آگیا ہے کہ’ ’بارات میں جمعہ جنج نال‘ ‘خوا ہ مخواہ ہی چل پڑا تھا جس سے بھارتی مکروہ کردار اور ریشہ دوانیا ں ایک بار پھر منظر عام پر آگئی ہیں جس سے جمہوریت کے سب سے بڑے دعوےدار کی جمہوریت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی ناکام کوشش امریکی سینیٹ نے” توثیق“ کر کے مودی سرکار کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھارتی ناکامیوں میں یقینا اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔