مودی چاروں شانے "چت"

عمر چودھری

پاکستان شروع سے ہی ”پلوامہ“ ڈرامہ میں بھارتی سرکار کے مکروہ کردار پر انگلیاں اٹھا رہا تھا لیکن بھارت ی میڈیا اس کے پروردہ اینکر اور بھارتی ایوانوں میں” براجمان“ مافیا ماننے کو تیار ہی نہیں تھے اور تو اور بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے کچھ ’ممالک‘ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے میں نہ صرف مصروف تھے بلکہ ان کا اشارہ ہماری جانب تھا جس کا واضح اور سراسر مطلب دنیا بھر میں ہمیں متعصب ظاہر کر کے خود”پاکیزگی“ کا پرچار کرنا تھا لیکن بدنام زمانہ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی اور براڈ کاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل کے سربراہ پراتھو داس گپتا کے درمیان ہونے والی ”چٹ چیٹ“ نے مودی سرکار کی لٹیا ہی ڈبو ڈالی جس میں مودی کے مکروہ چہرے نے بے نقاب ہونا ہی تھا جبکہ سرکاری ایوانوں میں ”خفیہ میٹنگوں“ میں بنپنے والی ساری کہانیاں بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔اِن دو شخصیات کی گفتگو میں اِس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بھارت نے پلوامہ میں خود اپنے 40فوجیوں کو ہلاک کروایا تاکہ اِس کا الزام پاکستان پر تھوپ کر وزیراعظم مودی مگرمچھ کے آنسو بہانے کا جواز پیدا کر سکیں جبکہ پاکستان نے پہلے ہی دن پلوامہ حملے کو سازش قرار دیدیا تھا۔ متذکرہ ”چٹ چیٹ“ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے بلکہ آرٹیکل 370کے خاتمے کے حوالے سے پیشگی آگاہ تھا۔ اِس کے بعد سے اب تک وہ متعلقہ ایجنسی بی اے آر سی کے سربراہ کے ساتھ اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر کام کرتا رہا۔ 26فروری 2019کو ا ±سے اِس بات کی اطلاع تھی کہ بھارت پاکستان کے خلاف معمول سے بڑی کارروائی کرنے والا ہے۔
گوسوامی بھارتی پی ایم آفس سے لیک ہونیوالی معلومات استعمال کرتارہا۔ارنب گوسوامی اپنے چینل پر سی این این کی عراق کوریج کو فالو کرنا چاہتا تھا، ارنب گوسوامی کی بھارتی قوم پرستی ٹی آرپی حاصل کرنیکابہانہ تھا۔ بھارتی فیصلہ سازمسخرہ نمااینکرارنب گوسوامی کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔بھارتی پروفیسراشوک سوائن پہلے ہی پلوامہ کوڈرامہ قراردے چکے ہیں، اشوک کے مطابق مودی نے پلوامہ میں وہی کیاجو 2002میں گجرات میں کیاتھا، اشوک سوائن کے مطابق مودی نے ووٹ بٹورنے کیلئے پلوامہ ڈرامہ ہونے دیا۔ارنب گوسوامی کو خاتون اور اس کے بیٹے کی خودکشی پرگرفتارکیاگیاتھا۔ بھارتی صحافی ارنب گوسوامی نے انٹیریئر ڈیزائنر کو 83 لاکھ روپے ادا کرنا تھے۔گوسوامی نے گرفتاری کے دوران ایک خاتون افسرپرحملہ بھی کیا۔ گوسوامی پکڑا گیا تو بھارتی حکومت سرگرم ہو گئی، سپریم کورٹ نے بھی ساتھ دیا، صدربھارتی سپریم کورٹ بارگوسوامی سے ترجیحی سلوک پرمستعفی ہوگئے تھے۔
 مودی نے ”راز“ افشاں ہونے سے پہلے ہی اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور آئندہ تحفظ کی گارنٹی کے طور پر جنرل راو ت کو سیاسی ”رشو ت“ کے پلڑے میں تول ڈالا اور اسے ملازمت سے فراغت کے بعد خودسے تراشا ہوا نیا رینک اور عہدہ ”سی ڈی ایس“ تفویض کر دیا اور اسی طرز پر بھارتی فضائیہ اپنے جہازوں کی مسلسل تباہی کے باوجود کچھ ماننے سے انکاری رہی اور” سرپرائز“ میں مزید بربادی کرواتی رہی۔ مگ 21کے بدلے چائے کی ایک پیالی بھارتی سرکاری کے لئے شاید ”بُرا سودا“ نہ ہوتا ہم دنیا بھر کی ایئر فورسز کی نظر میں بھارتی ایڈوانچر، مس ایڈوانچر ضرور بن کر ر ہ گیاہے ۔پلوامہ میں اپنے فوجیوں کی ”بَلی“ چڑھا کر پاکستان پر الزام تھوپنے کا خواب تو آغاز میں ہی چکنا چو ر ہو گیا تھا بالکل اسی طرح جیسے کارگل میں جہنم واصل ہونے والے فوجیوں کے تابوت کئی روز تک سری نگر ایئر پورٹ پر پڑے رہتے تھے اسی طرح پلوامہ کے شکاریوں کی نعشیں بھی بھارتی کیمپوں میں رُلتی رہیں جنہیں کولڈ سٹوریج ملے نہ سایہ ،نہ چھایا ،بعد ازاں ان کے ورثاءکو بھاری رقوم ادا کر کے ترلے منتوں سے راضی کر کے انہیں ”چتا“ کی نظر کیا گیا بھارتی اینکر اور براڈ کاسٹر نے سارے معاملے کو دبانے کےلئے پتہ نہیں کیا کیا پاپڑ بیلے ہونگے اور اس کارِ عظیم کیلئے کیا کیا ڈیمانڈ رکھی ہونگی لیکن ”چٹ چیٹ“ باہر نکل ہی آئی جس سے بہت سارے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں۔
 آئی ایس پی آر نے پلوامہ ڈرامہ کے وقت کہا تھا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے جس طرح مودی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گرد ی میں بے نقاب ہوا ہے اسی طرح آئندہ بھی بے نقاب ہوتا رہے گا منی لانڈرنگ اور ڈس انفولیب اقلیتوں سے بد سلوکی ،ای یو اور یو این مخالف مہم میں بھی مودی کو منہ کی کھانا پڑی اب وقت آگیا ہے کہ دنیا مودی کے کالے کرتوتوں کا جائزہ لے اور ان ناکام مہمات پر مودی سے جواب طلب کرے !ادھر بھارتی عوام ،سیاستدانوں اور فوج کو بھی چاہیے کہ مودی سرکار کی ریشہ دوانیوں کا نوٹس لے اور اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کےلئے اپنے ہی ملک کو آگ میں جھونکنے‘ اپنے فوجیوں کو قربانی کا بکرا بنانے اور ملکی دولت کو غائب کرنے جیسے امور پر غور کرے، بھارتی میڈیا کا بھی فرض ہے کہ سچ کے پرچار کیلئے آگے آئیں اور مکروہ ،منفی اورناپسندیدہ عوامل کا ساتھ نہ دیں۔۔۔
’ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ‘

 

 


افکار و نظریات: مودی چاروں شانے, چت